مر مر کے جیے یوں دنیا میں جینے کا سلیقہ بھول گئے
مر مر کے جیے یوں دنیا میں جینے کا سلیقہ بھول گئے بے نام و نشاں کچھ ایسے ہوئے ہم نام بھی اپنا بھول گئے صحرا سے ہوئی نسبت جب سے ویرانوں میں محفل جمتی ہے اے جوش جنوں تیرے صدقے آبادی سے رشتہ بھول گئے سب حوصلے دل کے پست ہوئے ساحل پہ سفینہ کیا پہنچا موجوں سے الجھنا چھوڑ دیا طوفانوں سے ...