قومی زبان

دور گھر سے کہیں اس طرح بھی جایا جائے

دور گھر سے کہیں اس طرح بھی جایا جائے دیر تک دھوپ کی بارش میں نہایا جائے اپنی یادوں کو مرے پاس کوئی چھوڑ گیا غم جدا ہونے کا کس طرح بھلایا جائے سب پرائے ہوئے ہونے سے پرایا اس کے سوچتا ہوں کسے اب اپنا بنایا جائے دل دکھانے سے کسی کا انہیں ملتی ہے خوشی بات ایسی ہے تو پھر مجھ کو رلایا ...

مزید پڑھیے

نہیں وہ کھول کر لب بولتا ہے

نہیں وہ کھول کر لب بولتا ہے یہ اس کا کون سا ڈھب بولتا ہے وہ محو گفتگو یوں ہے کہ جیسے کسی بچے سے مکتب بولتا ہے ملے چپ چاپ تو اپنی سناؤں وہ سنتا ہی نہیں جب بولتا ہے کہوں کیسے ہے اس کی ذات مفرد وہ ہر جملہ مرکب بولتا ہے کتاب اک ایسی ہم کھولے ہوئے ہیں ہمارے دو بدو رب بولتا ہے مرے ...

مزید پڑھیے

مری زمین ترے آسماں سے بہتر ہے

مری زمین ترے آسماں سے بہتر ہے یقیں یقیں ہے کسی بھی گماں سے بہتر ہے کہاں نہیں ہے تو جلوہ نما خدا میرے یہ لا مکانی تری ہر مکاں سے بہتر ہے میں اس کے ساتھ دلوں کے سفر پہ رہتا ہوں خیال اس کا کسی کارواں سے بہتر ہے ذرا سا وقت ہے اس کا رہے خیال تمہیں وہیں سے قصہ سناؤ جہاں سے بہتر ...

مزید پڑھیے

آگ ہی کاش لگ گئی ہوتی

آگ ہی کاش لگ گئی ہوتی دو گھڑی کو تو روشنی ہوتی لوگ ملتے نہ جو نقابوں میں کوئی صورت نہ اجنبی ہوتی پوچھتے جس سے اپنا نام ایسی شہر میں ایک تو گلی ہوتی بات کوئی کہاں خوشی کی تھی دل کو کس بات کی خوشی ہوتی موت جب تیرے اختیار میں ہے میرے قابو میں زندگی ہوتی مہک اٹھتا نگر نگر خاورؔ دل ...

مزید پڑھیے

کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیں

کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیں میں راستے میں کسی موڑ پر رکا ہی نہیں ہوائیں تیز تھیں اتنی کہ ایک دل کے سوا کوئی چراغ سر رہ گزر جلا ہی نہیں کہاں سے خنجر و شمشیر آزماتا میں مرے عدو سے مرا سامنا ہوا ہی نہیں دکھوں کی آگ میں ہر شخص جل کے راکھ ہوا کسی غریب کے دل سے دھواں اٹھا ہی ...

مزید پڑھیے

بھاگتے سورج کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے ہم

بھاگتے سورج کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے ہم شام کے ہوتے ہی واپس اپنے گھر جائیں گے ہم کاٹنے کو ایک شب ٹھہرے ہیں تیرے شہر میں کیا بتائیں صبح ہوگی تو کدھر جائیں گے ہم دھوپ میں پھولوں سا مرجھا بھی گئے تو کیا ہوا شہر سے ہونٹوں کے پیمانے تو بھر جائیں گے ہم آج گردوں کی بلندی ناپنے میں ...

مزید پڑھیے

کب بیاباں راہ میں آیا یہ سمجھا ہی نہیں

کب بیاباں راہ میں آیا یہ سمجھا ہی نہیں چلتے رہنے کے سوا دھیان اور کچھ تھا ہی نہیں کرب منزل کا ہو کیا احساس ان اشجار کو جن کے سائے میں مسافر کوئی ٹھہرا ہی نہیں کس کو بتلاتے کہ آئے ہیں کہاں سے کون ہیں ہم فقیروں کا کسی نے حال پوچھا ہی نہیں کیا طلب کرتا کسی سے زندگی کا خوں ...

مزید پڑھیے

جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہے

جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہے کوئی مقام ہو صحرا دکھائی دیتا ہے نہ جانے کون ہے وہ وقت شام جو اکثر گلی کے موڑ پہ بیٹھا دکھائی دیتا ہے جو چاندنی میں نہاتے ہوئے بھی ڈرتا تھا وہ جسم دھوپ میں جلتا دکھائی دیتا ہے پہنچ رہی ہے جہاں تک نگاہ سڑکوں پر نہ کوئی پیڑ نہ سایہ دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے کیا ہے

مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے کیا ہے جو سائے کے مانند مرے ساتھ لگا ہے اک اور بھی ہے جسم مرے جسم کے اندر اک اور بھی چہرہ مرے چہرے میں چھپا ہے مہتاب تو آئے گا نہ سیڑھی سے اتر کر دیوانہ کس امید پہ رستے میں کھڑا ہے ملنے کی تمنا ہے مگر اس سے ملیں کیا جس شخص کا اس شہر میں گھر ہے نہ پتا ...

مزید پڑھیے

ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاند

ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاند ہم کو لگتا ہے بادل میں چھپا ہوا ہے چاند پہلی شام نظر آیا تھا بالکل ایسا جیسے ناخن چودہ دن میں دیکھو کتنا بڑا ہوا ہے چاند اس نے پیڑ سے کود کے جانے کتنے غوطے کھائے بندر کو جب لگا ندی میں گرا ہوا ہے چاند تھوڑا سا نیچے آئے تو اس کو ہم بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4687 سے 6203