قومی زبان

ہو جاتی ہے بجلی فیل

کیا بتلائیں کیسے کیسے دکھلاتی رہتی ہے کھیل چاہے گانا گاتے ہوں چاہے کھانا کھاتے ہوں چاہے دیکھ رہے ہوں ٹی وی چاہے ٹیپ بجاتے ہوں کھاتے ہوں پنکھے کی ہوا چاہے کرتے ہوں آرام نہیں بھروسا کوئی اس کا چاہے صبح ہو چاہے شام چاہتا ہے جب بھی جی اس کا ہو جاتی ہے بجلی فیل

مزید پڑھیے

ہم کلامی میں در و دیوار سے

ہم کلامی میں در و دیوار سے کتنے جذبے رہ گئے اظہار سے دھوپ بڑھتے ہی جدا ہو جائے گا سایۂ دیوار بھی دیوار سے ہجر کا لمحہ مکمل ہو گیا روشنی جب کٹ گئی مینار سے ٹوٹ کر بکھرے خود اپنے سوگ میں دل لگا کر درد کے رخسار سے نیم وا گلیاں چرا کر لائی ہیں کیسا سپنا دیدۂ بے دار سے کتنے ہی مایوس ...

مزید پڑھیے

لوگ بھوکے ہیں بہت اور نوالے کم ہیں

لوگ بھوکے ہیں بہت اور نوالے کم ہیں زندگی تیرے چراغوں میں اجالے کم ہیں بد سلوکی بھی نکل آئی ہے زندانوں سے بد زبانوں کی زبانوں پہ بھی تالے کم ہیں مے کشی کے لیے نایاب ہیں جو صدیوں سے چشم ساقی نے وہی جام اچھالے کم ہیں تو نے بزدل تو بنائے ہیں بہت سے لیکن مرے مالک تری دنیا میں جیالے ...

مزید پڑھیے

ساقی کھلتا ہے پیمانہ کھلتا ہے

ساقی کھلتا ہے پیمانہ کھلتا ہے سچے رندوں پر مے خانہ کھلتا ہے ان گلیوں میں لوگ بھٹکتے دیکھے ہیں جن گلیوں میں دانش خانہ کھلتا ہے مجھ کو پڑھنے آ جاتے ہیں لاکھوں لوگ جب بھی غزلوں کا تہہ خانہ کھلتا ہے تم پر شاید چار بہاریں کھلتی ہوں مجھ سے تو ہر پل ویرانہ کھلتا ہے سب کی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

آپ بیتی ذرا سنا اے دشت

آپ بیتی ذرا سنا اے دشت شہر کو دیر تک رلا اے دشت کس کو آواز دوں میں تیرے سوا کون ہے میرا آشنا اے دشت اب تو بارش میں بھی نہیں ہنستے تیرے پیڑوں کو کیا ہوا اے دشت قیس کے پاؤں میں تھا رقصاں جو وہ بگولہ کدھر گیا اے دشت خاک ہی خاک کو اڑاتی ہے خوب ہے تیرا سلسلہ اے دشت

مزید پڑھیے

دو قدم ساتھ کیا چلا رستہ

دو قدم ساتھ کیا چلا رستہ بن گیا میرا ہم نوا رستہ بچھڑا اپنے مسافروں سے جب کتنا مایوس ہو گیا رستہ سب ہیں منزل کی جستجو میں یہاں کون دیکھے برا بھلا رستہ ایسی ہونے لگی تھکن اس کو دن کے ڈھلتے ہی سو گیا رستہ پھر نئی کائنات دیکھوں گا میرے اندر اگر ملا رستہ تو بڑا خوش نصیب ہے ...

مزید پڑھیے

مرے سفر میں ہی کیوں یہ عذاب آتے ہیں

مرے سفر میں ہی کیوں یہ عذاب آتے ہیں جدھر بھی جاؤں ادھر ہی سراب آتے ہیں تلاش ہے مجھے اب تو انہیں فضاؤں کی جہاں خزاں میں بھی اکثر گلاب آتے ہیں کسی کو ملتا نہیں اک چراغ میلوں تک کسی کی بستی میں سو آفتاب آتے ہیں نہ نکلا کیجیئے راتوں کو گھر سے آپ کبھی سڑک پہ رات میں خانہ خراب آتے ...

مزید پڑھیے

حادثہ ہوتا رہا ہے مجھ میں

حادثہ ہوتا رہا ہے مجھ میں بارہا کوئی مرا ہے مجھ میں میری مٹی کو پتہ ہے سب کچھ کون کب کتنا چلا ہے مجھ میں ختم ہوتا ہی نہیں میرا سفر کوئی تھک ہار گیا ہے مجھ میں اپنے اندر میں سمیٹوں کیا کیا سارا گھر بکھرا پڑا ہے مجھ میں کشتیاں ڈوب رہی ہیں آذرؔ ایک طوفان اٹھا ہے مجھ میں

مزید پڑھیے

سچ ہے یا پھر مغالطہ ہے مجھے

سچ ہے یا پھر مغالطہ ہے مجھے کوئی آواز دے رہا ہے مجھے ایک امید جاگ اٹھتی ہے آسماں جب بھی دیکھتا ہے مجھے چھین لیتا ہے میرے سارے گہر جب سمندر کھنگالتا ہے مجھے یہ مراسم بہت پرانے ہیں دشت صدیوں سے جانتا ہے مجھے میری جانب بھی آ ذرا فرصت اپنے بارے میں سوچنا ہے مجھے

مزید پڑھیے

کیوں چھپاتے ہو کدھر جانا ہے

کیوں چھپاتے ہو کدھر جانا ہے دشت سے کہہ دو کہ گھر جانا ہے مجھ میں بھی پہلے اٹھیں گے طوفاں پھر خموشی کو پسر جانا ہے کوئی کہتا ہے کہ میں ملبہ ہوں کسی نے مجھ کو کھنڈر جانا ہے خاک تو خاک پہ آ بیٹھے گی خاک کو اڑ کے کدھر جانا ہے اس کی نادانی تو دیکھو آذرؔ پھر سے دیوار کو در جانا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4686 سے 6203