محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا
محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا سچ پوچھیے تو درد ہے وہ کائنات کا گھر کی گھٹن سے دور نکل جائے آدمی سڑکوں پہ خوف ہو نہ اگر حادثات کا اپنے بدن کو اور تھکاؤ نہ دوستو ڈھل جائے دن تو بوجھ اٹھانا ہے رات کا اک دوسرے کو زہر پلاتے ہیں لوگ اب باتوں میں شہد گھول کے قند و نبات کا ہر شخص ...