قومی زبان

محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا

محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا سچ پوچھیے تو درد ہے وہ کائنات کا گھر کی گھٹن سے دور نکل جائے آدمی سڑکوں پہ خوف ہو نہ اگر حادثات کا اپنے بدن کو اور تھکاؤ نہ دوستو ڈھل جائے دن تو بوجھ اٹھانا ہے رات کا اک دوسرے کو زہر پلاتے ہیں لوگ اب باتوں میں شہد گھول کے قند و نبات کا ہر شخص ...

مزید پڑھیے

روشنی ہی روشنی ہے شہر میں

روشنی ہی روشنی ہے شہر میں پھر بھی گویا تیرگی ہے شہر میں روز و شب کے شور و غل کے باوجود اک طرح کی خامشی ہے شہر میں ریل کی پٹری پہ سو جاتے ہیں لوگ کتنی آساں خود کشی ہے شہر میں جو عمارت ہے وہ سر سے پاؤں تک اشتہاروں سے سجی ہے شہر میں گاؤں چھوڑے ہو چکی مدت مگر خاورؔ اب تک اجنبی ہے شہر ...

مزید پڑھیے

ہے بہت مشکل نکلنا شہر کے بازار میں

ہے بہت مشکل نکلنا شہر کے بازار میں جب سے جکڑا ہوں میں کمرے کے در و دیوار میں چھ برس کے بعد اک سونے مکاں کے بام و در بس گئے ہیں پھر کسی کے جسم کی مہکار میں مجھ کو اپنے جسم سے باہر نکلنا چاہئے ورنہ میرا دم گھٹے گا اس اندھیرے غار میں یاد اسے اک پل بھی کرنے کی مجھے فرصت نہیں مبتلا ...

مزید پڑھیے

جلے ہیں دل نہ چراغوں نے روشنی کی ہے

جلے ہیں دل نہ چراغوں نے روشنی کی ہے وہ شب پرستوں نے محفل میں تیرگی کی ہے حدیث ظلم و ستم ہے ہنوز نا گفتہ ہنوز مہر زبانوں پہ خامشی کی ہے اس ایک جام نے ساقی کی جو عطا ٹھہرا سکوں دیا ہے نہ کچھ درد میں کمی کی ہے ہمیں یہ ناز نہ کیوں ہو کہ نے نواز ہیں ہم ہمارے ہونٹوں نے ایجاد نغمگی کی ...

مزید پڑھیے

نکل پاؤں میں کیسے اس اثر سے

نکل پاؤں میں کیسے اس اثر سے مہکتے پھول جھڑتے ہیں نظر سے محبت کے سفر کے بعد خلوت سفر آسان ہے پچھلے سفر سے گئے تھے ان سے ترک عشق کرنے نظر ہٹ ہی نہ پائی اس نظر سے دوپٹے سے وہ منہ ڈھانکے ہوئے ہیں محبت ہو گئی پیلے کلر سے خود اپنے دل سے ڈر لگنے لگا ہے کوئی آواز آتی ہے ادھر سے

مزید پڑھیے

سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئے

سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئے کسی طرح بھی اداسی کا گھاؤ بھر جائے ہم اب اداس نہیں سر بہ سر اداسی ہیں ہمیں چراغ نہیں روشنی کہا جائے جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ میں آ جائے گئے دنوں میں کوئی شوق تھا محبت کا اب اس عذاب میں یہ ذہن کون الجھائے کسی کے ...

مزید پڑھیے

روانگی میں سمے کا خیال کرتے ہیں

روانگی میں سمے کا خیال کرتے ہیں پھر اس کو بھیج کے گھنٹوں ملال کرتے ہیں ذرا سے تلخ بیانی پسند ہیں پھر بھی اداس لوگ محبت کمال کرتے ہیں اب ان کو عشق کے آداب کون سمجھائے بجھے چراغ ہوا سے سوال کرتے ہیں گناہ عشق پہ پابندیاں بجا لیکن تمہارے لوگ تو جینا محال کرتے ہیں اس ایک جملے نے ...

مزید پڑھیے

سب کے ہونٹوں پہ یہ مرنے کی دعائیں کیسی

سب کے ہونٹوں پہ یہ مرنے کی دعائیں کیسی چارہ گر تو نے ہمیں دی ہیں دوائیں کیسی ایک ہی پل میں بدلتے ہیں مناظر کیا کیا ہم تری آنکھیں بنائیں تو بنائیں کیسی شرم میں ڈوبے ہوئے لوگوں سے شکوہ کیسا آپ ہی بجھتے چراغوں کو ہوائیں کیسی مے کشی چھوڑ دو جب بھول چکے ہو اس کو اب شفا مل ہی گئی ہے ...

مزید پڑھیے

روانگی میں سمے کا خیال کرتے ہیں

روانگی میں سمے کا خیال کرتے ہیں پھر اس کو بھیج کے پہروں ملال کرتے ہیں ذرا سے تلخ بیانی پسند ہیں پھر بھی اداس لوگ محبت کمال کرتے ہیں اب ان کو عشق کے آداب کون سمجھائے بجھے چراغ ہوا سے سوال کرتے ہیں گنہ ہے عشق پہ پابندیاں بجا لیکن تمہارے لوگ تو جینا محال کرتے ہیں اس ایک جملے نے ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ کوئی اور ہٹا دے مجھ کو (ردیف .. ے)

اس سے پہلے کہ کوئی اور ہٹا دے مجھ کو اپنے پہلو سے کہیں دور بٹھا دے مجھ کو میں سخن فہم کسی وصل کا محتاج نہیں چاندنی رات ہے اک شعر سنا دے مجھ کو خودکشی کرنے کے موسم نہیں آتے ہر روز زندگی اب کوئی رستہ نہ دکھا دے مجھ کو ایک یہ زخم ہی کافی ہے مرے جینے کو چارہ گر ٹھیک نہ ہونے کی دوا دے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4688 سے 6203