قومی زبان

تشدد

اس کمرے کی ترتیب سے میں مانوس تھا اس کی ہر شے سے پتھر سے دیواروں سے چھوٹی چھوٹی چیزوں اور کتابوں سے مترنم آوازوں سے شور مچاتے ہنستے گاتے گاہے گاہے لمحہ بھر کو چپ ہو جاتے اپنے اپنے آسماں سے تنہائی میں سکھ اور دکھ کی باتیں کرتے لوگوں سے ننھی منی سرگوشی میں جادو بھرتی گڑیا سے رنگ ...

مزید پڑھیے

احمدآباد

آگ کا ذائقہ ہر زباں پر سلگتا ہوا زخم تھا رات کا آہنی در سمندر کی جانب کھلا آگ ہی آگ تھی قطرۂ آب پر کار سا خواب تھا رات کا آہنی در جہنم کی جانب کھلا راستوں نے کہا کیوں ہجوم فراواں کا انجام عبرت ہوا کون عبرت کے احساس کو مانتا موت کو زندگی زندگی کو جہنم فسانہ تمسخر کا حیرت ہوا ہم سفر ...

مزید پڑھیے

جنگ

تیرگی میں بھیانک صدائیں اٹھیں اور دھواں سا فضاؤں میں لہرا گیا موت کی سی سپیدی افق تا افق تلملانے لگی اور پھر ایک دم سسکیاں چار سو تھرتھرا کر اٹھیں ایک ماں سینہ کوبی سے تھک کر گری اک بہن اپنی آنکھوں میں آنسو لیے راہ تکتی رہی ایک ننھا کھلونے کی امید میں سر کو دہلیز پر رکھ کے سوتا ...

مزید پڑھیے

ایمبولنس

جو مجھ کو لائی تھی سکون گاہ میں وہ ایک تھی سپید، صرف ایک، اس کے پہلوؤں، جبین اور پشت پر صلیب کے نشان تھے میں چور چور اک عظیم گھاؤ تھا وہ مجھ کو دست مہرباں میں سونپ کر چلی گئی تو میں غنودگی کی بے کراں مہیب دھند میں بھٹک گیا ہر ایک رہگزر پہ گاڑیوں بسوں کا کارواں امنڈ پڑا عجیب انقلاب ...

مزید پڑھیے

شور دریا ہے کہانی میری

شور دریا ہے کہانی میری پانی اس کا ہے روانی میری کچھ زیادہ ہی بھلی لگتی ہے مجھ کو تصویر پرانی میری جب بھی ابھرا ترا مہتاب خیال کھل اٹھی رات کی رانی میری بڑھ کے سینے سے لگا لیتا ہوں جیسے ہر غم ہو نشانی میری مہرباں مجھ پہ ہے اک شاخ گلاب کیسے مہکے نہ جوانی میری پھر ترے ذکر کی ...

مزید پڑھیے

کھیت سے بچ کر گزرے بستی کو ویرانی دے

کھیت سے بچ کر گزرے بستی کو ویرانی دے وہ دریا کیا دریا جو ساگر کو پانی دے شعر سنا کوئی ایسا جس سے لگے بدن میں آگ نیند اڑ جائے جس سے ایسی کوئی کہانی دے سوکھ رہے ہیں باغ بغیچے نہریں ریت ہوئیں اے موسم کے مالک اک موسم بارانی دے خود بنوائے محل دو محلے ہم کو سنائے حدیث خود تو پہنے عبا ...

مزید پڑھیے

جیسا حضور کہیں گے بالکل ویسا ہوگا

جیسا حضور کہیں گے بالکل ویسا ہوگا یعنی پھر گڑیوں کا کھیل تماشا ہوگا محل تو ہولی دیوالی کے لئے بنے ہیں آگ کا رمق تو لا وارث کا خیمہ ہوگا کھاری پانی کی جھیلیں سب بچ جائیں گی لقمہ سیاہ سمندر کا بس دریا ہوگا میری تیری آنکھ کی قسمت کنکر مٹی ان کی آنکھ کی زینت ہو تو سرمہ ہوگا دوزخ ...

مزید پڑھیے

دوا بغیر کوئی طفل مر گیا تو کیا ہوا

دوا بغیر کوئی طفل مر گیا تو کیا ہوا بس ایک پھول ہی تو تھا بکھر گیا تو کیا ہوا کبھی کبھی تو روشنی بھی اک عذاب جاں ہوئی وہ چاندنی سے تیری کوکھ بھر گیا تو کیا ہوا نہ رات ہی سنور گئی نہ روشنی ہی مر گئی اندھیری باؤلی میں چاند اتر گیا تو کیا ہوا کمال جگنوؤں کا تھا کہ روشنی میں کھو ...

مزید پڑھیے

اے کہکشاں‌ نواز مقدر اجال دے

اے کہکشاں‌ نواز مقدر اجال دے میری طرف بھی ایک ستارہ اچھال دے ہم پورے آفتاب کے قابل نہیں اگر تھوڑی سی پیلی دھوپ ہی آنکھوں میں ڈال دے ہاں کہتے کہتے گنگ نہ ہو جائے دل کہیں یا رب مری زبان کو تاب سوال دے روگی ہوا ہے دھوپ کو ترسا ہوا بدن اے مامتا سپوت کو گھر سے نکال دے کوئی تو ...

مزید پڑھیے

لڑکھڑاتی ہوا روز کہتی ہے کیا شہر والو سنو

لڑکھڑاتی ہوا روز کہتی ہے کیا شہر والو سنو ایک پودا کوئی آج پھر جل گیا شہر والو سنو آ گئے ریت کے ڈھیر دیوار تک بلکہ بازار تک دشت کے ہاتھ لکھ دیں نہ پھر فیصلہ شہر والو سنو کیا ستم خیز اجالوں سے اچھے ہمارے اندھیرے نہیں جنگلوں نے تمہیں کیا نہیں کہہ دیا شہر والو سنو کوئی تم میں یزید ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4682 سے 6203