موسم
اسیر آرزو ہجوم بے اماں شراب روز و شب کی آتش رواں میں برہمی کے قہقہوں کی بازگشت اب ہمارے درمیاں عجیب خواہشوں کے بیج بو رہی ہے میرے واسطے جو اجنبی ہے اس کو پاس سے گزرتا دیکھ لوں تو اس کی روشنی کو نوچ لوں جو اس کے خون میں اتر رہی ہے اس کے ایک پل کو دوسرے سے جوڑتی ہے تیرتی ہے سانس ...