قومی زبان

سبک سری میں بھی اندیشۂ ہوا رکھنا

سبک سری میں بھی اندیشۂ ہوا رکھنا سلگ اٹھے ہو تو جلنے کا حوصلہ رکھنا نئی فضا میں نئے پر نکالنے ہوں گے فلک کو زیر زمیں کو گریز پا رکھنا تمہارے جسم کے صندل کی آبرو ہے بہت ہجوم شوق میں رہ کر بھی فاصلہ رکھنا زمین پھول فضا نور آسمان دھنک انہیں میں رہنا مگر رنگ بھی جدا رکھنا تمہارے ...

مزید پڑھیے

کبھی تو یاد کے گلدان میں سجاؤں اسے

کبھی تو یاد کے گلدان میں سجاؤں اسے کبھی وہ سامنے بھی ہو تو بھول جاؤں اسے کھلے جو ہیں مری شاخ خیال پر کچھ گل اسی کا کھیل ہے یہ کس طرح بتاؤں اسے وہ خوشبوؤں کی طرح آئے اور اڑ جائے میں کیسے پیرہن ذہن میں بساؤں اسے پتا تو ہو کہ ہے کیا کرب زخم نظارہ نہ دیکھنا جسے چاہے وہی دکھاؤں ...

مزید پڑھیے

کوئی تو تھا دھنک دھنک خواب میں یا خیال میں

کوئی تو تھا دھنک دھنک خواب میں یا خیال میں رنگ عجیب گھل گئے کیفیت ملال میں مہر تھی مرے نطق پر تیرے لبوں کی نغمگی ورنہ جواب تھے چھپے تیرے ہر اک سوال میں بول تو سوچ سوچ کر چل تو سنبھل سنبھل کے چل کی ہے بہت گلو کی بات ہم نے تری مثال میں سرد دنوں کی طرح گم ہو گئی اپنی زندگی فرق کہاں ...

مزید پڑھیے

پگ پگ پھول کھلے تھے لیکن تن من میں تھی آگ

پگ پگ پھول کھلے تھے لیکن تن من میں تھی آگ وہ تو ساتھ نہیں تھا لیکن ساتھ تھے اس کے بھاگ سوچ رہا ہوں کس کے وش سے ہوگی کم تکلیف چاروں اور کھڑے ہیں میرے رنگ برنگے ناگ دھیرے دھیرے من اگنی ٹھنڈی نہ کہیں ہو جائے چھیڑ کبھی دل کی بینا پر کوئی پرانا راگ میٹھے پانی کی ندی کیوں بہے سمندر ...

مزید پڑھیے

بارشوں میں غسل کرتے سبز پیڑ

بارشوں میں غسل کرتے سبز پیڑ دھوپ میں بنتے سنورتے سبز پیڑ کس قدر تشہیر غم سے دور تھا چپکے چپکے آہ بھرتے سبز پیڑ دور تک روتی ہوئی خاموشیاں رات کے منظر سے ڈرتے سبز پیڑ دشت میں وہ راہرو کا خواب تھے گھر میں کیسے پاؤں دھرتے سبز پیڑ دوستوں کی سلطنت میں دور تک دشمنوں کے ڈھور چرتے سبز ...

مزید پڑھیے

دل کا معاملہ وہی محشر وہی رہا

دل کا معاملہ وہی محشر وہی رہا اب کے برس بھی رات کا منتظر وہی رہا نومید ہو گئے تو سبھی دوست اٹھ گئے وہ صید انتقام تھا در پر وہی رہا سارا ہجوم پا پیادہ چوں کہ درمیاں صرف ایک ہی سوار تھا رہبر وہی رہا سب لوگ سچ ہے با ہنر تھے پھر بھی کامیاب یہ کیسا اتفاق تھا اکثر وہی رہا یہ ارتقا کا ...

مزید پڑھیے

کھویا کھویا اداس سا ہوگا

کھویا کھویا اداس سا ہوگا تم سے وہ شخص جب ملا ہوگا قرب کا ذکر جب چلا ہوگا درمیاں کوئی فاصلہ ہوگا روح سے روح ہو چکی بد ظن جسم سے جسم کب جدا ہوگا پھر بلایا ہے اس نے خط لکھ کر سامنے کوئی مسئلہ ہوگا ہر حماقت پہ سوچتے تھے ہم عقل کا اور مرحلہ ہوگا گھر میں سب لوگ سو رہے ہوں گے پھول ...

مزید پڑھیے

یہ زرد بچے

گھروں کی رونق یہ زرد بچے پڑھیں لکھیں گے جوان ہوں گے معاش کی فکر ان کی قسمت تلاش فردا حیات ان کی یہ رہ گزاروں پہ اپنے موہوم خواب لے کر پھرا کریں گے یہ گھر بنائیں گے شادیانے بجائیں گے آنے والے رنگیں دنوں کی خاطر یہ چند لقموں کی زندگی کا مآل سمجھیں گے حسب دستور عمر بھر ان کو انگلیوں ...

مزید پڑھیے

ننھا شہسوار

شہسوار ننھا منا شہسوار ایستادہ ہے خمیدہ پشت پر میری جوں ہی جھکتا ہوں وہ ترغیب دیتا ہے مجھے چلنے کی آوازوں کی سرگم سے میں چلتا ہوں میں واماندہ قدم چلتا ہوں وہ مہمیز کی جنبش سے کہتا ہے کہ دوڑو اور دوڑو، تیز تر، سرپٹ چلو باد نغمہ کار سے باتیں کرو اس کا میں رخش رضا تیز تر کرتا ہوں ...

مزید پڑھیے

رات دن اک بے بسی زندہ رہی

رات دن اک بے بسی زندہ رہی میری آنکھوں میں نمی زندہ رہی ہار جائے گی یقیناً تیرگی گر مسلسل روشنی زندہ رہی پہلے سناٹوں میں وہ موجود تھی شور میں بھی خامشی زندہ رہی ذکر ہوگا اس کا بھی صدیوں تلک کیسے کیسے یہ صدی زندہ رہی درد کو آذرؔ دعا میں کیوں نہ دوں درد ہی سے شاعری زندہ رہی

مزید پڑھیے
صفحہ 4683 سے 6203