قومی زبان

حیدرآباد

حیدرآباد دل کی صورت ہے دل دھڑکتا ہے سانس چلتی ہے آرزو زندگی کی پلتی ہے حیدرآباد اک محبت ہے حیدرآباد ہے قلی کا دل جس میں ملتا ہے حسن بھاگ متی اور اس شہر شعر و نغمہ کی زندگی ہے کہ پیار کی سل قبلۂ دل کہوں گا میں اس کو حیدرآباد ہے وطن میرا رشک جنت ہے یہ چمن میرا یہ نہیں ہے تو کیا ہے تم ...

مزید پڑھیے

نینی تال

آؤ بچو گیت سنائیں نینی تال کا حال بتائیں ایک پہاڑی دیش بسا ہے قدرت کے رنگوں سے بھرا ہے اونچی اونچی ہیں چٹانیں جیسے قلعے کی دیواریں بل کھائی سڑکوں کے کنارے ہرے بھرے پیڑوں کے نظارے حد نظر تک ہرا بھرا ہے رنگ برنگا پھول کھلا ہے خوشبو سے مہکی ہیں فضائیں بھینی بھینی مست ہوائیں اس ...

مزید پڑھیے

یوں کھل گیا ہے راز شکست طلب کبھی

یوں کھل گیا ہے راز شکست طلب کبھی آنکھوں سے بہہ گیا ہے لہو بے سبب کبھی ویرانیوں نے تھام لیا دامن حیات ہم لوگ بھی تھے خندۂ بزم طرب کبھی جو لوگ آج زینت خواب و خیال ہیں رہتے تھے ساتھ ساتھ مرے روز و شب کبھی آوارہ آج صورت برگ خزاں ملے ملتی تھی جن سے باد صبا با ادب کبھی ایک ایک سمت جن ...

مزید پڑھیے

تعاقب

کیسی تاریک فضا کیسا بھیانک منظر ہر طرف چھایا ہوا شہر خموشاں کا سکوت اور تا حد نظر رات کے سانپوں کے ابھرتے ہوئے سر ہر طرف رقص میں گزرے ہوئے لمحات کی نازک پریاں اژدہا وقت کا منہ کھولے ہوئے حال کے زہر سے ماضی کے پری خانے کو آغوش فنا میں دیتے ہر طرف چشم شرر بار سے تخیل کی تجسیم کو ...

مزید پڑھیے

آکاش پہ بادل چھائے تھے

آکاش پہ بادل چھائے تھے آنکھوں نے اشک بہائے تھے نیا کو بھنور میں دیکھا تھا جب موسم پیار کے آئے تھے اک لفظ نہ آیا ہونٹوں پر لمحے بے درد تو آئے تھے کچھ گیت سنے تھے بچپن میں کچھ میٹھے خواب چرائے تھے بیناؔ کے من میں دھوپ رہی آنکھوں میں ٹھنڈے سائے تھے

مزید پڑھیے

جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میں

جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میں ایسی خوشبو کہاں ہے رات کی رانی میں ابھرا تھا آنکھوں میں ایک سنہرا خواب جاتے جاتے دے گیا زخم نشانی میں رات گئے تک یوں ہی تنہا ساحل پر گھومتے رہنا پاؤں پاؤں پانی میں اترا جو اس دل میں قافلہ الفت کا کیسی کیسی غزلیں ہوئیں روانی میں کیوں بے رنگ کیا ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات میں بلاؤں تجھے

چاندنی رات میں بلاؤں تجھے دھڑکنیں دل کی میں سناؤں تجھے تیرے پہلو میں رکھ کہ دل اپنا چاند راتوں میں گنگناؤں تجھے کچھ کہے ان کہے سوال کروں اور یوں پھر سے آزماؤں تجھے اپنی ہستی کو بھول سکتی ہوں کیسے ممکن ہے بھول جاؤں تجھے آنسوؤں کی تپش میں جلتی ہوں کاش اس میں کبھی جلاؤں تجھے

مزید پڑھیے

تیرا ہر غم چرا لیا ہوتا

تیرا ہر غم چرا لیا ہوتا کاش میرا پتا لیا ہوتا زندگی دھوپ میں گزاری ہے سائے میں ہی چھپا لیا ہوتا کچھ تو کم ہوتے شب کے اندھیارے دل کا دیپک جلا لیا ہوتا یا سمندر کی تہ میں رکھ آتے یا بھنور سے بچا لیا ہوتا چل دئے میرے مسکرانے پر پردۂ گل ہٹا لیا ہوتا اشک بیناؔ بکھر ہی جاتا ہے تو نے ...

مزید پڑھیے

بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیا

بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیا مرے دکھ سے کسی آواز کا رشتا نکل آیا وہ سر سے پاؤں تک جیسے سلگتی شام کا منظر یہ کس جادو کی بستی میں دل تنہا نکل آیا جن آنکھوں کی اداسی میں بیاباں سانس لیتے ہیں انہیں کی یاد میں نغموں کا یہ دریا نکل آیا سلگتے دل کے آنگن میں ہوئی خوابوں کی پھر ...

مزید پڑھیے

بازار زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگ

بازار زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگ ہیں مشتری کے طور نہ بیوپاریوں کے ڈھنگ مدت سے پھر رہا ہوں خود اپنی تلاش میں ہر لمحہ لڑ رہا ہوں خود اپنے خلاف جنگ اک نام لوح ذہن سے مٹتا نہیں ہے کیوں کیوں آخر اس پہ وقت چڑھاتا نہیں ہے رنگ اس سے الگ بھی عمر تو کٹ ہی گئی مگر ایک ایک پل کے بوجھ سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4643 سے 6203