قومی زبان

دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہا

دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہا اپنا پیراہن بے رنگ بدلنا چاہا کوئی انجانی سی طاقت تھی جو آڑے آئی ورنہ ہم نے تو بہر گام سنبھلنا چاہا چاہتے تو کسی پتھر کی طرح جی لیتے ہم نے خود موم کی مانند پگھلنا چاہا آنکھیں جلنے لگیں تپتے ہوئے بازاروں میں دل نے جب بھی کسی منظر پہ مچلنا ...

مزید پڑھیے

روز کہاں سے کوئی نیاپن اپنے آپ میں لائیں گے

روز کہاں سے کوئی نیاپن اپنے آپ میں لائیں گے تم بھی تنگ آ جاؤ گے اک دن ہم بھی اکتا جائیں گے چڑھتا دریا ایک نہ اک دن خود ہی کنارے کاٹے گا اپنے ہنستے چہرے کتنے طوفانوں کو چھپائیں گے آگ پہ چلتے چلتے اب تو یہ احساس بھی کھو بیٹھے کیا ہوگا زخموں کا مداوا دامن کیسے بچائیں گے وہ بھی کوئی ...

مزید پڑھیے

جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گے

جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گے ایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گے ہم تو زخموں پہ بھی یہ سوچ کے خوش ہوتے ہیں تحفۂ دوست ہیں جب یہ تو کرم ہی ہوں گے بزم عالم میں جب آئے ہیں تو بیٹھیں کچھ اور بس یہی ہوگا نا کچھ اور ستم ہی ہوں گے جب بھی برباد وفا کوئی نظر آئے تمہیں غور سے ...

مزید پڑھیے

آہٹ پہ کان در پہ نظر اس طرح نہ تھی

آہٹ پہ کان در پہ نظر اس طرح نہ تھی ایک ایک پل کی ہم کو خبر اس طرح نہ تھی تھا دل میں درد پہلے بھی لیکن نہ اس قدر ویراں تو تھی حیات مگر اس طرح نہ تھی ہر ایک موڑ مقتل ارمان و آرزو پہلے تو تیری راہ گزر اس طرح نہ تھی جب تک صبا نے چھیڑا نہ تھا نکہت گلاب کوچہ بہ کوچہ محو سفر اس طرح نہ ...

مزید پڑھیے

یہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میں

یہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میں جس حسن سے ہے چاند رواں نیل گگن میں اے کاش کبھی قید بھی ہوتا مرے فن میں وہ نغمۂ دلکش کہ ہے آوارہ پون میں اٹھ کر تری محفل سے عجب حال ہوا ہے دل اپنا بہلتا ہے نہ بستی میں نہ بن میں اک حسن مجسم کا وہ پیراہن رنگیں ڈھل جائے دھنک جیسے کسی چندر کرن ...

مزید پڑھیے

کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئے

کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئے ایک ہمیں دیوانے نکلے ہم ہی یہاں پر خوار ہوئے پیار کے بندھن خون کے رشتے ٹوٹ گئے خوابوں کی طرح جاگتی آنکھیں دیکھ رہی تھیں کیا کیا کاروبار ہوئے آپ وہ سیانے رستے کے ہر پتھر کو بت مان لیا ہم وہ پاگل اپنی راہ میں آپ ہی خود دیوار ہوئے اپنی ...

مزید پڑھیے

جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میں

جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میں پھنس گیا پھر جسم کے گرداب میں تیرا کیا تو تو برس کے کھل گیا میرا سب کچھ بہہ گیا سیلاب میں میری آنکھوں کا بھی حصہ ہے بہت تیرے اس چہرے کی آب و تاب میں تجھ میں اور مجھ میں تعلق ہے وہی ہے جو رشتہ ساز اور مضراب میں میرا وعدہ ہے کہ ساری زندگی تجھ سے ...

مزید پڑھیے

کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی

کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی گزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گی یہ چاند بیتے زمانوں کا آئنہ ہوگا بھٹکتے ابر میں چہرہ کوئی بنا ہوگا اداس رہ ہے کوئی داستاں سنائے گی کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی برستا بھیگتا موسم دھواں دھواں ہوگا پگھلتی شمع پہ چہرہ کوئی گماں ہوگا ہتھیلیوں کی ...

مزید پڑھیے

ابدیت

اور پھر دونوں فانوس سینے کے بجھ جائیں گے اوڑھ لے گی دھواں دودھ کی دھار کی طرح اجلی نظر ناخن پا سے زلفوں کے بادل تلک جگمگاتی ہوئی کھال سے خواہشوں کے پراسرار محمل تلک ایک تحریر لکھے گی دیمک فنا ہر طرف بے حسی تیرگی تیرگی ہاں مگر صرف رخسار و لب صرف رخسار و لب راکھ میں دابی چنگاریوں کی ...

مزید پڑھیے

تو ایسا کیوں نہیں کرتے

تو ایسا کیوں نہیں کہتے کہ یہ سپنے ہی میرے کرب کے ضامن ہیں ان کے ہی سبب سے میں جھلستے ریگ زاروں میں برہنہ پا بھٹکتا ہوں انہی پرچھائیوں کو جسم دینے کی تمنا مجھ سے آسائش کا ہر لمحہ مزے کی نیند اعصابی سکوں سب چھین لیتی ہے یہی وہ زہر ہے جس نے مرے خوں کے نمک کو نیم کے رس میں بدل ڈالا تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4644 سے 6203