انسانیت نہ جس میں ہو وہ آدمی نہیں

انسانیت نہ جس میں ہو وہ آدمی نہیں
جس میں حضور قلب نہ ہو بندگی نہیں


جس میں جنون شوق نہ ہو عاشقی نہیں
دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں


رہتا ہے میرے درپئے آزار پھر بھی وہ
اس سے اگرچہ میری کوئی دشمنی نہیں


راتوں کی نیند دن کا سکوں ہو گیا حرام
پوچھا جو کب ملو گے تو بولا کبھی نہیں


خوابیدہ حسرتوں کا نہ ہو جس میں انعکاس
ہے کارگہ شیشہ گری شاعری نہیں


اس کی شراب ناب سے بڑھ کر ہے چشم مست
جس کے بغیر لطف مئے و مے کشی نہیں


نقد سخن جو کرتا ہے وہ ہو سخن شناس
جوہر شناس ہو نہ اگر جوہری نہیں


برقیؔ جو خود شناس ہے وہ ہے خدا شناس
گم گشتگئ ہوش و خرد بے خودی نہیں