قومی زبان

خنجر تلاش کرتا ہے

بشر رموز مقدر تلاش کرتا ہے قضاوقدر کا محور تلاش کرتا ہے فقیہ شہر صنم‌ خانۂ سیاست میں صراط دین کا رہبر تلاش کرتا ہے خدا کو چھوڑ کے جمہور کا ہوس پیشہ سکون قلب فلک پر تلاش کرتا ہے مذاق‌ عدل سے بیگانہ ہے مگر انسان فساد خانہ میں یاور تلاش کرتا ہے پئے نجات وطن میں بہ فیض آزادی شریف ...

مزید پڑھیے

گھبرائے ہوئے لوگ ہیں انجانے سے ڈر سے

گھبرائے ہوئے لوگ ہیں انجانے سے ڈر سے ہر ایک بشر خوف زدہ دوجے بشر سے دوبھر ہے یہاں آج تو باہر ہی نکلنا محفوظ نہیں کوئی زمانے کی نظر سے انجانی ڈگر لگنے لگی اب مجھے آساں کچھ لوگ ابھی لوٹ کے آئے ہیں سفر سے بے درد پیا جیسا تو کیوں ابر بنا ہے کب سے ہی لگا آس زمیں بیٹھی تو برسے اتنی تو ...

مزید پڑھیے

گردش میں ستارے ہوں جس کے دنیا کو بھلا کب بھاتا ہے

گردش میں ستارے ہوں جس کے دنیا کو بھلا کب بھاتا ہے وہ لاکھ پٹک لے سر اپنا پر جگ سے سزا ہی پاتا ہے مفلس کا بھی جینا کیا جینا جو گھونٹ لہو کے پی جائے جتنا وہ جھکے جگ کے آگے اتنی ہی وہ ٹھوکر کھاتا ہے اے درد چلا جا اور کہیں اس دل کو بھی تھوڑی راحت ہو کیوں اٹھ کے غریبوں کے در سے مجھ کو ہی ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈھوں بھلا خدا کی میں رحمت کہاں کہاں

ڈھونڈھوں بھلا خدا کی میں رحمت کہاں کہاں اب کیا بتاؤں اس کی عنایت کہاں کہاں صحرا ندی پہاڑ سمندر یہ دشت سب دکھلائے سب خدا کی یہ وسعت کہاں کہاں ہر سمت ہر طرح کے دکھے اس کے معجزے جیسے خدا نے لکھ دی عبارت کہاں کہاں ساون میں سبزیت سے ہے سیراب یہ فضا بہلاؤں میں الٰہی طبیعت کہاں ...

مزید پڑھیے

وارفتگیٔ عشق نہ جائے تو کیا کریں

وارفتگیٔ عشق نہ جائے تو کیا کریں تیرا بھی اب خیال نہ آئے تو کیا کریں خود شرم عشق دل کو مٹائے تو کیا کریں ان تک نگاہ شوق نہ جائے تو کیا کریں مے خواریاں گناہ سہی ساقیٔ ازل جب ابر جھوم جھوم کے آئے تو کیا کریں یہ دیر وہ حرم یہ کلیسا وہ مے کدہ اپنی طرف ہر ایک بلائے تو کیا کریں ممکن ...

مزید پڑھیے

کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کا

کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کا شمع نے لوٹ لیا سوز بھی پروانے کا ضبط فریاد کی بے سود توقع دل سے ظرف کیوں دیکھیے ٹوٹے ہوئے پیمانے کا میرا مٹنا نہیں آسان محبت کی قسم موت ہے نام ترے دل سے اتر جانے کا حشر تک روئے گی دنیائے محبت مجھ کو سلسلہ ختم نہ ہوگا مرے افسانے کا موت کی نیند ...

مزید پڑھیے

نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والے

نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والے تمہیں کب دیکھتے ہیں کفر و ایماں دیکھنے والے خدا رکھے ترے غم کا بہت نازک زمانہ ہے سحر دیکھیں نہ دیکھیں شام ہجراں دیکھنے والے یہ کس نے لا کے رکھ دی سامنے تصویر محشر کی ابھی چونکے ہی تھے خواب پریشاں دیکھنے والے کہاں تک آئینہ دار تجلیات خود ...

مزید پڑھیے

محبت کی انتہا چاہتا ہوں

محبت کی انتہا چاہتا ہوں انہیں حاصل ابتدا چاہتا ہوں اسے برملا دیکھنا چاہتا ہوں ادب اے محبت یہ کیا چاہتا ہوں غم عشق کا سلسلا چاہتا ہوں میں تجھ تک ترا واسطا چاہتا ہوں کرم ہائے نا مستقل کا گلہ کیا ستم ہائے بے انتہا چاہتا ہوں وہ گھبرا کے جس پر نظر ڈال ہی دیں میں وہ قلب شورش ادا ...

مزید پڑھیے

حیات و موت کا اک سلسلا ہے

حیات و موت کا اک سلسلا ہے محبت انتہا تک ابتدا ہے میں کیا جانوں کہ باب توبہ کیا ہے ابھی تو میکدے کا در کھلا ہے ذرا پھر دل پہ نظریں ڈال دیجے چراغ آرزو خاموش سا ہے عطا کر دی تمہاری آرزو نے وہ اک دنیا جو دنیا سے جدا ہے حسیں ہوں لاکھ دنیا کے مناظر وہ کیا دیکھے جو تم کو دیکھتا ہے نظر ...

مزید پڑھیے

کوئی معیار محبت نہ رہا میرے بعد

کوئی معیار محبت نہ رہا میرے بعد ہر طرف عام ہیں خاصان وفا میرے بعد سلسلہ ان کے ستم کا نہ رہا میرے بعد بدلا بدلا سا ہے دستور جفا میرے بعد کون پہنے گا گلے میں تری الفت کی کمند کس کے سر ہوگی تری زلف دوتا میرے بعد ہوں گی قربان ترے رخ پہ نگاہیں کس کی چاند ہو جائے گا ہالے سے جدا میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4620 سے 6203