قومی زبان

صریر خامہ سے تشریح سر زی ہوگی

صریر خامہ سے تشریح سر زی ہوگی فضائے شعر میں اقلیم آگہی ہوگی جسے کرم سے ترے بخت نارسا نہ ملا اسے نصیب حقیقت میں کیا خوشی ہوگی فضائے تیرہ کی عقدہ کشا ہے جو تنویر خلوص دل کی وہ پر کار سادگی ہوگی ریاض معنی کی جس سے فضا ہے رخشندہ الم نصیب کے دل کی وہ شاعری ہوگی حرم کے خاک نشینوں سے ...

مزید پڑھیے

غم آفاق میں عارف اگر کروٹ بدلتا ہے

غم آفاق میں عارف اگر کروٹ بدلتا ہے سیاہی سے قلم کی نور کا مینار ڈھلتا ہے بصیرت ہو تو ہر ذرہ تجلی زار سینا ہے نگہ تاریک ہو تو آئنہ ظلمت اگلتا ہے حضور حسن ہوتی ہے کسے دیکھیں پذیرائی سدا عبرت اثر دستور‌ حق دن رات چلتا ہے خدا آگاہ کا ہر ہر نفس درس تیقن ہے حیا بیگانہ تخریبی ہمیشہ ...

مزید پڑھیے

حق پسندوں سے جہاں بر سر پیکار سہی

حق پسندوں سے جہاں بر سر پیکار سہی کچھ دنوں اور بھی رسوا سر بازار سہی خون معصوم سے تعمیر ہے بستان وجود عشرت دہر سے محروم وفادار سہی جہد و ایثار سے روشن ہے وفا کی قندیل دل گرفتہ حرم پاک کا معمار سہی میرا ایمان ہے اعلان‌ حقیقت کرنا لاکھ منصور کی خاطر رسن و دار سہی عزم راسخ ہے تو ...

مزید پڑھیے

جگر گداز معانی سمجھ سکو تو کہوں

جگر گداز معانی سمجھ سکو تو کہوں قضا و قدر زمانی سمجھ سکو تو کہوں وجود آئنہ خانوں کا ہے فنا انجام قضائے چرخ دخانی سمجھ سکو تو کہوں جبین وقت کی تحریر میں نہاں کیا ہے خرد کی زہر فشانی سمجھ سکو تو کہوں قضا کی گود میں ہے حسرتوں کا گہوارہ زبان رمز نہانی سمجھ سکو تو کہوں بشر کے دیدۂ ...

مزید پڑھیے

فصل بہار جانے یہ کیا گل کتر گئی

فصل بہار جانے یہ کیا گل کتر گئی ساغر گلوں کا خون عنادل سے بھر گئی گلزار ہست و بود میں عارف کی آگہی اوراق گل پہ صورت شبنم بکھر گئی حاصل حضور حسن کی سر مستیاں کہاں تہذیب عصر لوٹ کے جانے کدھر گئی دانشورو وہ رمز سمجھنے کی چیز تھی نظر وفا شعار خطا جو بھی کر گئی خوش بخت غرق بحر‌ ...

مزید پڑھیے

رونق فروغ‌ درد سے کچھ انجمن میں ہے

رونق فروغ‌ درد سے کچھ انجمن میں ہے خون جگر غریب کا ہر بانکپن میں ہے دیوانہ زندگانی کا دیتا ہے یوں ثبوت باہر لحد سے ہے کبھی خونیں کفن میں ہے دل کے لہو سے روح کی ہوتی ہے پرورش معراج آگہی کی وفور محن میں ہے ہر بوند نوک کلک کی دیتی ہے درس ہوش کونین کا سراغ بھی بطن سخن میں ہے دو یک ...

مزید پڑھیے

بخت کیا جانے بھلا یا کہ برا ہوتا ہے

بخت کیا جانے بھلا یا کہ برا ہوتا ہے کیف و غم ظرف کے لائق ہی عطا ہوتا ہے یہ وہ بازار کشاکش ہے جہاں پر انساں حسب توفیق خریدار حیا ہوتا ہے مدتوں رہتا ہے جب آدمی زحمت بہ کنار راز سر بستہ محاکات کا وا ہوتا ہے دل ہے دوزخ میں کچھ اس طرح تبسم بر لب جیسے کانٹوں میں کوئی پھول کھلا ہوتا ...

مزید پڑھیے

راز ہے عبرت اثر فطرت کی ہر تحریر کا

راز ہے عبرت اثر فطرت کی ہر تحریر کا مصحف‌ ناطق کہاں محتاج ہی تفسیر کا معنی‌ٔ قدر و قضا ہے نو بہار لالہ رنگ ہر دل ذرہ میں ہے جذبہ نئی تعمیر کا حکمت‌ آدم سے ہے روشن شبستان جہاں نفس مقصد ہے ہویدا خالق تقدیر کا کاوش پیہم سے دنیا کی فضا جنت‌ ادا یہ تصرف ہے بشر کی قوت تسخیر کا دولت ...

مزید پڑھیے

حکمت کا بت خانہ

شراب شور سے لبریز ہے دنیا کا پیمانہ حریف‌ دین و دانش ہے مذاق پیر مے خانہ بشر ابلیس کو تزویر نو کا درس دیتا ہے مزین ہے گناہ گوناگوں سے ہر پری خانہ علوم‌ نو سے روشن بزم ہے تہذیب حاضر کی ید تجدید نے ڈھالا ہے دل آویز بت خانہ یہ مانا مغربی تعلیم نے پرواز بخشی ہے یہ ماہ و خور بھی بن ...

مزید پڑھیے

رقاصۂ اوہام

اصنام‌ امارت کا پرستار ہے عالم سرمایۂ غفلت کا خریدار ہے عالم کٹتی ہیں سدا صدق مقالوں کی زبانیں حق گو کے لئے عرصہ گہ دار ہے عالم درویش خدا نان شبینہ کو ہے محتاج گو نعمت و اکرام کا بازار ہے عالم شاداب ہے دن رات غریبوں کے لہو سے ارباب زر و سیم کا گلزار ہے عالم خود زاہد صد سالہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4619 سے 6203