قومی زبان

نظر آتا ہے وہ جیسا نہیں ہے

نظر آتا ہے وہ جیسا نہیں ہے جو کہتے ہو مگر ویسا نہیں ہے نہیں ہوتا ہے کیا کیا اس جہاں میں وہی جو چاہیئے ہوتا نہیں ہے بھرا ہے شہر فرعونوں سے اپنا کوئی ہوتا جو اک موسیٰ نہیں ہے چلو اک اور کوشش کر کے دیکھیں یونہی گھٹ گھٹ کے مر جانا نہیں ہے نہیں ہے خواب دیوانے کا ہستی یہ دنیا صرف اک ...

مزید پڑھیے

اسیران قفس صحن چمن کو یاد کرتے ہیں

اسیران قفس صحن چمن کو یاد کرتے ہیں بھلا بلبل پہ یوں بھی ظلم اے صیاد کرتے ہیں کمر کا تیرے جس دم نقش ہم ایجاد کرتے ہیں تو جاں فرمان آ کر معنی و بہزاد کرتے ہیں پس مردن تو رہنے دے زمیں پر اے صبا مجھ کو کہ مٹی خاکساروں کی نہیں برباد کرتے ہیں دم رفتار آتی ہے صدا پازیب سے تیری لحد کے ...

مزید پڑھیے

بت کافر جو تو مجھ سے خفا ہے

بت کافر جو تو مجھ سے خفا ہو نہیں کچھ خوف میرا بھی خدا ہے یہ در پردہ ستاروں کی صدا ہے گلی کوچہ میں گر کہیے بجا ہے رقیبوں میں وہ ہوں گے سرخ رو آج ہمارے قتل کا بیڑا لیا ہے یہی ہے تار اس مطرب کا ہر روز نیا اک راگ لا کر چھیڑتا ہے شنیدہ کے بود مانند دید تجھے دیکھا ہے حوروں کو سنا ...

مزید پڑھیے

زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں

زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں اتنے سادہ بھی نہیں ہم کہ نہ اتنا سمجھیں زخم کا اپنے مداوا کسے منظور نہیں ہاں مگر کیوں کسی قاتل کو مسیحا سمجھیں شعبدہ بازی کسی کی نہ چلے گی ہم پر طنز و دشنام کو کہتے ہو لطیفہ سمجھیں خود پہ یہ ظلم گوارا نہیں ہوگا ہم سے ہم تو شعلوں سے نہ گزریں ...

مزید پڑھیے

فسوں زدہ ہیں ہوائیں منظر تمام مسحور چپ پڑے ہیں

فسوں زدہ ہیں ہوائیں منظر تمام مسحور چپ پڑے ہیں سیاہ نیرنگ نیم شب کا ستارے جھک جھک کے دیکھتے ہیں سحر کی لو میں جلا رہی ہے صبا کنول رنگ و بو میں تر ہیں درخت سارے سجائے موتی کی تھالیاں صف بہ صف کھڑے ہیں ہزار راتیں گزر گئیں اک ہمارے ہی غم کی شب نہ گزری اجالے خائف سیہ کدے سے بدل کے ...

مزید پڑھیے

کوئی آہٹ کوئی سرگوشی صدا کچھ بھی نہیں

کوئی آہٹ کوئی سرگوشی صدا کچھ بھی نہیں گھر میں اک بے حس خموشی کے سوا کچھ بھی نہیں نام اک نایاب سا لکھا تھا وہ بھی مٹ گیا اب ہتھیلی پر لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیں بے چھوئے اک لمس کا احساس اک خاموش بات اس کے میرے بیچ آخر تھا بھی کیا کچھ بھی نہیں دوستی کیسی وفا کیسی تکلف بر طرف آپ کچھ ...

مزید پڑھیے

کب ایک رنگ میں دنیا کا حال ٹھہرا ہے

کب ایک رنگ میں دنیا کا حال ٹھہرا ہے خوشی رکی ہے نہ کوئی ملال ٹھہرا ہے تڑپ رہے ہیں پڑے روز و شب میں الجھے لوگ نفس نفس کوئی پیچیدہ جال ٹھہرا ہے خود اپنی فکر اگاتی ہے وہم کے کانٹے الجھ الجھ کے مرا ہر سوال ٹھہرا ہے بس اک کھنڈر مرے اندر جئے ہی جاتا ہے عجیب حال ہے ماضی میں حال ٹھہرا ...

مزید پڑھیے

ہماری جاگتی آنکھوں میں خواب سا کیا تھا

ہماری جاگتی آنکھوں میں خواب سا کیا تھا گھنیری شب میں اگا آفتاب سا کیا تھا کہیں ہوئی تو تھی ہلچل کہیں پہ گہرے میں بگڑ بگڑ کے وہ بنتا حباب سا کیا تھا تمام جسم میں ہوتی ہیں لرزشیں کیا کیا سواد جاں میں یہ بجتا رباب سا کیا تھا ہماری پیاس پہ برسا اندھیرے اجیالے وہ کچھ گھٹاؤں سا کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4577 سے 6203