قومی زبان

شام سے ہم تا سحر چلتے رہے

شام سے ہم تا سحر چلتے رہے چور تھے تھک کر مگر چلتے رہے سنگ ہو جاتے جو مڑ کر دیکھتے انگلیاں کانوں میں دھر چلتے رہے آسماں تھا آگ پتھر تھی زمیں تھی کہاں جائے مفر چلتے رہے روز ڈوبے روز ابھرے ہم مگر صورت شمس و قمر چلتے رہے سنگ باری یوں تو ہم پر بھی ہوئی ہم ڈھکے ہاتھوں سے سر چلتے ...

مزید پڑھیے

مری ہتھیلی میں لکھا ہوا دکھائی دے

مری ہتھیلی میں لکھا ہوا دکھائی دے وہ شخص مجھ کو برنگ حنا دکھائی دے اسے جو دیکھوں تو اپنا سراغ پاؤں میں اسی کے نام میں اپنا پتا دکھائی دے روش پہ جلیں اس کی آہٹوں سے چراغ عجب خرام ہے آواز پا دکھائی دے جو مہرباں ہے تو کیا مہرباں خفا تو خفا کبھی کبھی تو وہ بالکل خدا دکھائی دے سماں ...

مزید پڑھیے

ببلو

کس کی پکڑ میں آئیں چلتی ہوا ہیں ببلو آندھی کی طرح دیکھو یہ جا وہ جا ہیں ببلو اک پل جو دیکھیے تو دیوار پر چڑھے ہیں جھپکی پلک تو دیکھو دوڑیں لگا رہے ہیں رپو کو ماری ٹکر سیڑھی پہ چڑھتے چڑھتے ممی کے ہاتھ میں تھا جو گر گیا وہ تڑ سے پاپا نے سائیکل تو بالکل نئی دلائی اب کیا ہے اس کا ...

مزید پڑھیے

ایک نظم بیٹے کے لئے

تمہیں یاد ہے میری آنکھوں پر کس کر باندھا گیا وہ اپنا رومال پھولوں میں درختوں کے جھنڈ کے درمیاں اسٹور روم میں کھمبوں کے پیچھے کبھی پلنگ کے نیچے چھپتے پھرتے تھے تم میں کہاں ہوں مجھے ڈھونڈو میرے آگے پیچھے دوڑتی بھاگتی تمہاری آوازیں مجھے چھو چھو کر دور ہو جاتی تھیں میں اپنا ہاتھ ...

مزید پڑھیے

زندہ ہونا اور نہ جینا تم ہی کہو کیا ممکن ہے

زندہ ہونا اور نہ جینا تم ہی کہو کیا ممکن ہے خود کو کر دینا ان دیکھا تم ہی کہو کیا ممکن ہے آس کی لو آنکھوں میں جلائے لڑتی جاؤں اندھیروں سے رات ہے رات کا ہو نہ سویرا تم ہی کہو کیا ممکن ہے تیز ہوا کا اک جھونکا شعلوں میں بدل کے رکھ دے گا چنگاری کو دبائے رکھنا تم ہی کہو کیا ممکن ...

مزید پڑھیے

دیتا تھا جو سایا وہ شجر کاٹ رہا ہے

دیتا تھا جو سایا وہ شجر کاٹ رہا ہے خود اپنے تحفظ کی وہ جڑ کاٹ رہا ہے بے سمت اڑانوں سے پشیماں پرندہ اب اپنی ہی منقار سے پر کاٹ رہا ہے محبوس ہوں غاروں میں مگر آذر تخیئل چٹانوں میں اشکال ہنر کاٹ رہا ہے اک ضرب مسلسل ہے کہ رکتی ہی نہیں ہے ہر تار نفس درد جگر کاٹ رہا ہے ہے کون کمیں گاہ ...

مزید پڑھیے

جینا ہے خوب اوروں کی خاطر جیا کرو

جینا ہے خوب اوروں کی خاطر جیا کرو اک آدھ سانس خود بھی تو لیتے رہا کرو کیا حرج ہے جو دل کی بھی سن لو کبھی کبھی یوں اپنے آپ سے نہ ہمیشہ لڑا کرو یہ بار زیست جھیلتے رہنا ہے عمر بھر اپنی تھکن پہ ٹک کے کبھی سو لیا کرو ہے بسکہ خاک اڑانے کی آوارگی کو کھو رخت سفر میں گھر کو بھی باندھے پھرا ...

مزید پڑھیے

اپنی تو کوئی بات بنائے نہیں بنی

اپنی تو کوئی بات بنائے نہیں بنی کچھ ہم نہ کہہ سکے تو کچھ اس نے نہیں سنی یوں تو چہار سمت ہے اپنے حصار شب ہم تیرگی کو چھید کے لاتے ہیں روشنی نادیدہ منظروں سے تراشے ہیں خواب زار کب در خور نگہ کوئی منظر ہے دیدنی اوچھا تھا وار اس کا مگر ہم نہ بچ سکے کسی زہر میں بجھائی تھی اس شخص نے ...

مزید پڑھیے

بدن پہ زخم سجائے لہو لبادہ کیا

بدن پہ زخم سجائے لہو لبادہ کیا ہر ایک سنگ سے یوں ہم نے استفادہ کیا ہے یوں کہ کچھ تو بغاوت سرشت ہم بھی ہیں ستم بھی اس نے ضرورت سے کچھ زیادہ کیا ہمیں تو موت بھی دے کوئی کب گوارا تھا یہ اپنا قتل تو بالقصد بالارادہ کیا بس ایک جان بچی تھی چھڑک دی راہوں پر دل غریب نے اک اہتمام سادہ ...

مزید پڑھیے

دامان آرزو کے کنارے سمیٹتے

دامان آرزو کے کنارے سمیٹتے ملتا ہے کب کسی کو وہ سب کچھ جو چاہیے ہوتے ہیں کچھ شرر بھی چھپے راکھ میں کہیں ہے دیکھنے میں سرد سنبھل کر کریدیے سب روشنی کے پھول تو کھلتے ہی بجھ گئے کڑوا دھواں اب آنکھوں سے رو رو نکالیے مشکل پسند اپنی طبیعت ہے کیا کریں چن چن کے خار راہوں میں خود ہم نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4576 سے 6203