قومی زبان

جانے کیا کچھ ہے آج ہونے کو

جانے کیا کچھ ہے آج ہونے کو جی مرا چاہتا ہے رونے کو ایک عمر اور ہاتھ کیا آیا زندگی کیا ملی تھی کھونے کو آبلوں سے پٹے پڑے ہیں ہم کوئی نشتر بھی دے چبھونے کو دیدۂ تر بھی آج کھو آئے اس کے آگے گئے تھے رونے کو ریت مٹھی میں بھر کے بیٹھے ہیں ہاتھ میں کچھ رہے تو کھونے کو اپنی ہستی کا حال ...

مزید پڑھیے

کس نے کہا کسی کا کہا تم کیا کرو

کس نے کہا کسی کا کہا تم کیا کرو لیکن کہے کوئی تو کبھی سن لیا کرو ہر آرزو فریب ہے ہر جستجو سراب مچلے جو دل بہت اسے سمجھا دیا کرو یوں چپ رہا کرے سے تو ہو جائے ہے جنوں زخم نہاں کرید کے کچھ رو لیا کرو ہاں شہر آرزو تھا کبھی یہ اجاڑ گھر اب کھنڈروں سے اس کی کہانی سنا کرو اس ناشنیدنی سے ...

مزید پڑھیے

بے تعلق سارے رشتے کون کس کا آشنا

بے تعلق سارے رشتے کون کس کا آشنا ساتھ سائے کی طرح سب اور سب نا آشنا کرب جاری ہے بجائے خوں رگوں میں صاحبو کون ہے ہم سا جہاں میں غم سے اتنا آشنا ہاں ہماری نبھ تو سکتی تھی مگر کیسے نبھے اپنی خودداری میں ہم اور وہ وفا نا آشنا ایک اک کا منہ تکیں بیگانگی کے شہر میں اب کہیں کیا کس سے ...

مزید پڑھیے

کب اک مقام پہ رکتی ہے سرپھری ہے ہوا

کب اک مقام پہ رکتی ہے سرپھری ہے ہوا تمام شہر و بیاباں کو چھانتی ہے ہوا نصیب پائے جنوں ہے سدا کی در بدری ہوائے جادہ و منزل میں کب چلی ہے ہوا یہ پیچ و تاب ہے کیسا سبب نہیں کھلتا بنا بنا کے بگولے بگاڑتی ہے ہوا سوائے خاک نہ کچھ ہاتھ آج تک آیا سراب ریت سے صحرا میں چھانتی ہے ہوا غضب ...

مزید پڑھیے

ایسا ہونے نہیں دیتا تھا مگر ہونے کو ہے

ایسا ہونے نہیں دیتا تھا مگر ہونے کو ہے زندگی اب تو نہ جینے میں بسر ہونے کو ہے پر جو کاٹے گئے جا پھیلے ہواؤں میں تمام اپنی پرواز بہ انداز دگر ہونے کو ہے وحشت دل تجھے لے کر میں کہاں جاؤں بتا رہتے رہتے تو یہ ویرانہ بھی گھر ہونے کو ہے دل سے پھر کھیل رہی ہیں وہی ضدی یادیں ذرہ ذرہ مرا ...

مزید پڑھیے

دیوار و در میں سمٹا اک لمس کانپتا ہے

دیوار و در میں سمٹا اک لمس کانپتا ہے بھولے سے کوئی دستک دے کر چلا گیا ہے صبر و شکیب باقی تاب و تواں سلامت دل مثل عود جل جل خوشبو بکھیرتا ہے ہم خاک ہو چکے تھے اپنی ہی حدتوں میں مٹی ہے راکھ پھر سے پیکر نیا بنا ہے اک زخم زخم چہرہ ٹکڑوں میں ہاتھ آیا اور ہم سمجھ رہے تھے آئینہ جڑ گیا ...

مزید پڑھیے

بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئی

بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئی افسوس اے قمر کہ نہ مطلق خبر ہوئی ارمان وصل یوں ہی رہا سو گئے نصیب جب آنکھ کھل گئی تو یکایک سحر ہوئی دل عاشقوں کے چھد گئے ترچھی نگاہ سے مژگاں کی نوک دشمن جانی جگر ہوئی پچھتاتا ہوں کہ آنکھ عبث تم سے لڑ گئی برچھی ہمارے حق میں تمہاری نظر ...

مزید پڑھیے

غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں

غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں ابھی سے کچھ دل مضطر پر اپنے تیر چلتے ہیں ذرا دیکھو تو اے اہل سخن زور صناعت کو نئی بندش ہے مجنوں نور کے سانچے میں ڈھلتے ہیں برا ہو عشق کا یہ حال ہے اب تیری فرقت میں کہ چشم خونچکاں سے لخت دل پیہم نکلتے ہیں ہلا دیں گے ابھی اے سنگ دل تیرے کلیجے ...

مزید پڑھیے

گلے مجھ کو لگا لو اے مرے دل دار ہولی میں

گلے مجھ کو لگا لو اے مرے دل دار ہولی میں بجھے دل کی لگی بھی تو اے میرے یار ہولی میں نہیں یہ ہے گلال سرخ اڑتا ہر جگہ پیارے یہ عاشق کی ہے امڑی آہ آتش بار ہولی میں گلابی گال پر کچھ رنگ مجھ کو بھی جمانے دو منانے دو مجھے بھی جان من تیوہار ہولی میں رساؔ گر جام مے غیروں کو دیتے ہو تو مجھ ...

مزید پڑھیے

دل مرا تیر ستم گر کا نشانہ ہو گیا

دل مرا تیر ستم گر کا نشانہ ہو گیا آفت جاں میرے حق میں دل لگانا ہو گیا ہو گیا لاغر جو اس لیلیٰ ادا کے عشق میں مثل مجنوں حال میرا بھی فسانہ ہو گیا خاکساری نے دکھایا بعد مردن بھی عروج آسماں تربت پر میرے شامیانہ ہو گیا خواب غفلت سے ذرا دیکھو تو کب چونکے ہیں ہم قافلہ ملک عدم کو جب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4578 سے 6203