قومی زبان

خواہش پرواز ہے تو بال و پر بھی چاہئے

خواہش پرواز ہے تو بال و پر بھی چاہئے میں مسافر ہوں مجھے رخت سفر بھی چاہئے اس قدر بھی رنج کا خوگر نہیں ہوں میں ابھی راستے میں دھوپ ہو تو اک شجر بھی چاہئے یوں مکمل ہو نہیں سکتا کوئی بھی عکس ہو آئنہ بھی چاہئے ذوق نظر بھی چاہئے صرف سانسوں کا تسلسل ہی نہیں ہے زندگی اپنے ہونے کی ہمیں ...

مزید پڑھیے

لاکھ ٹکراتے پھریں ہم سر در و دیوار سے

لاکھ ٹکراتے پھریں ہم سر در و دیوار سے جی کہ بھرتا ہی نہیں ہے لذت آزار سے کچھ تو گھر والوں نے ہم کو کر دیا معذور سا اور کچھ ہم فطرتاً اکتا گئے گھر بار سے یک بیک ایسی بھی سب پر کیا قیامت آ گئی شہر کے سب لوگ کیوں لگنے لگے بیمار سے تیرے سپنوں کی وہ دنیا کیا ہوئی اس کو بھی دیکھ ہو چکی ...

مزید پڑھیے

خواہشوں سے ولولوں سے دور رہنا چاہئے

خواہشوں سے ولولوں سے دور رہنا چاہئے جزر و مد میں ساحلوں سے دور رہنا چاہئے ہر کسی چہرے پہ اک تنہائی لکھی ہو جہاں دل کو ایسی محفلوں سے دور رہنا چاہئے ورنہ وحشت اور سکوں میں فرق کیا رہ جائے گا بستیوں کو جنگلوں سے دور رہنا چاہئے اس طرح تو اور بھی دیوانگی بڑھ جائے گی پاگلوں کو ...

مزید پڑھیے

مستقل رونے سے دل کی بے کلی بڑھ جائے گی

مستقل رونے سے دل کی بے کلی بڑھ جائے گی بارشیں ہوتی رہیں تو یہ ندی بڑھ جائے گی عشق کی راہوں میں حائل ہو رہی ہے آگہی اب جنوں بڑھ جائے گا دیوانگی بڑھ جائے گی ہر گھڑی تیرا تصور ہر نفس تیرا خیال اس طرح تو اور بھی تیری کمی بڑھ جائے گی ہو سکے تو اس حصار ذات سے باہر نکل حبس میں رہنے سے ...

مزید پڑھیے

دشت میں اڑتے بگولوں کی یہ مستی ایک دن (ردیف .. ')

دشت میں اڑتے بگولوں کی یہ مستی ایک دن ایک دن ہے سر بلندی اور پستی ایک دن ایک دن تو بھی اسی بازار میں بک جائے گا اور کوئی شے نہ ہوگی تجھ سے سستی ایک دن نقش جتنے ہیں بہا لے جائیں گے اشک رواں اور رہ جائیں گی یہ آنکھیں ترستی ایک دن رفتہ رفتہ یہ دھندلکے اور بڑھتے جائیں گے یک بیک ویران ...

مزید پڑھیے

قربتیں نہیں رکھیں فاصلہ نہیں رکھا

قربتیں نہیں رکھیں فاصلہ نہیں رکھا ایک بار بچھڑے تو رابطہ نہیں رکھا اتنا تو سمجھتے تھے ہم بھی اس کی مجبوری انتظار تھا لیکن در کھلا نہیں رکھا ہم کو اپنے بارے میں خوش گمانیاں کیوں ہوں ہم نے روبرو اپنے آئینہ نہیں رکھا جب پتہ چلا اس میں صرف خون جلتا ہے اس کے بعد سوچوں کا سلسلہ نہیں ...

مزید پڑھیے

رشتوں کے جب تار الجھنے لگتے ہیں

رشتوں کے جب تار الجھنے لگتے ہیں آپس میں گھر بار الجھنے لگتے ہیں ماضی کی آنکھوں میں جھانک کے دیکھوں تو کچھ چہرے ہر بار الجھنے لگتے ہیں سال میں اک ایسا موسم بھی آتا ہے پھولوں سے ہی خار الجھنے لگتے ہیں گھر کی تنہائی میں اپنے آپ سے ہم بن کر اک دیوار الجھنے لگتے ہیں یہ سب تو دنیا ...

مزید پڑھیے

جستجو میری کہیں تھی اور میں بھٹکا کہیں

جستجو میری کہیں تھی اور میں بھٹکا کہیں مل گئی منزل مجھے تو کھو گیا رستا کہیں پوچھتا رہتا ہوں خود سے کیا اسے دیکھا کہیں آئنے کے زاویوں میں کھو گیا چہرہ کہیں مجھ کو مت روکو کہ میں اتنا تھکن سے چور ہوں پھر ٹھہر ہی جاؤں گا میں اب اگر ٹھہرا کہیں مدتوں کے بعد پھر نم ہو گئیں آنکھیں ...

مزید پڑھیے

میں کیا بتاؤں کیسی پریشانیوں میں ہوں

میں کیا بتاؤں کیسی پریشانیوں میں ہوں کاغذ کی ایک ناؤ ہوں اور پانیوں میں ہوں چہرے کے خد و خال میں محدود میں نہیں اک آئنہ ہوں اپنی ہی حیرانیوں میں ہوں دشواریوں کو ٹھیک سے سمجھا نہیں ابھی مشکل مری یہی ہے کہ آسانیوں میں ہوں موجوں سے دور رہ کے بھی بدلا نہیں نصیب ساحل کے آس پاس بھی ...

مزید پڑھیے

میں نے سوچا تھا مجھے مسمار کر سکتا نہیں

میں نے سوچا تھا مجھے مسمار کر سکتا نہیں عکس تو مجھ پر پلٹ کر وار کر سکتا نہیں آئنہ ظاہر تو کر سکتا ہے خد و خال کو آئنہ احساس کا اظہار کر سکتا نہیں میری چاہت اور ہے میرے مسائل اور ہیں خود کو میں ہر بات پر تیار کر سکتا نہیں خود سے سمجھوتا کیا ہے زندگی کے نام پر اس سے بڑھ کر زندگی کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4570 سے 6203