قومی زبان

سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا

سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ کو گھیر لیا مرے لبوں پہ ابھی نام تھا بہاروں کا ہجوم شوق میں خاروں نے مجھ کو گھیر لیا کبھی جنوں کے زمانے کبھی فراق رتیں کہاں کہاں تری یادوں نے مجھ کو گھیر لیا نکل کے آ تو گیا گہرے پانیوں سے مگر کئی طرح کے سرابوں نے ...

مزید پڑھیے

تیری صورت نہ جب دکھائی دے

تیری صورت نہ جب دکھائی دے کوئی رستہ نہیں سجھائی دے آپ ترک تعلقات کرے آپ الزام بے وفائی دے قرب جس کا ہے زندگی میری وہ مجھے رنج نارسائی دے میں سماعت پہ بھی یقیں کر لوں تیری آواز تو سنائی دے ہجر سی لگ رہی ہے قربت بھی کون غم سے مجھے رہائی دے جانتا ہی نہیں جو نام وفا مجھ کو الزام ...

مزید پڑھیے

وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے

وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے وہی ستارہ شب غم کا اک ستارہ ہے وہ اک ستارہ جو چشم سحر میں رہتا ہے کھلی فضا کا پیامی ہوا کا باسی ہے کہاں وہ حلقۂ دیوار و در میں رہتا ہے جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اسے وہ شعر بن کے بیاض نظر میں رہتا ...

مزید پڑھیے

جانتا ہوں کہ سکوں قسمت انساں میں نہیں

جانتا ہوں کہ سکوں قسمت انساں میں نہیں میں تمہیں اپنا بنا لوں مرے امکاں میں نہیں فکر گلچیں غم صیاد اور اندیشۂ برق جو سکوں مجھ کو قفس میں ہے گلستاں میں نہیں میں وہ برباد ازل ہوں کہ نشیمن تو کیا میری تقدیر کے تنکے بھی گلستاں میں نہیں کیوں کھٹکتی ہے زمانہ کو کسی کی لغزش داغ لالے ...

مزید پڑھیے

ہر صبح درخشاں میرے لیے پیغام مسرت ہوتی ہے

ہر صبح درخشاں میرے لیے پیغام مسرت ہوتی ہے یعنی اک دن کم اور ہوا اب موت سے قربت ہوتی ہے دنیا کے منہ سے سنتا ہوں اور سن کر سوچتا رہتا ہوں جو نیند سے اک دم جاگ اٹھے ایسی بھی قسمت ہوتی ہے ہستی کی کروٹ پیک اجل اور پیک اجل پیغام سکوں ہستی جب کروٹ لیتی ہے آلام سے فرصت ہوتی ہے منجدھار سے ...

مزید پڑھیے

یہ بھی نہیں امید کہ بیداد کرو گے

یہ بھی نہیں امید کہ بیداد کرو گے تم ایسے کہاں ہو کہ مجھے یاد کرو گے کیا میرے لئے غیر کو ناشاد کرو گے تم یوں بھی ستم ڈھاؤ گے بیداد کرو گے دو چار گھڑی اور ہے دنیا میں بسیرا اب ظلم کرو گے اگر آزاد کرو گے یہ ہجر نہ جانے مجھے کیا وقت دکھائے اور تم کسی بد بخت کو کیوں یاد کرو گے تقدیر ...

مزید پڑھیے

درد فرقت سے قرابت سی ہوئی جاتی ہے

درد فرقت سے قرابت سی ہوئی جاتی ہے ہائے یہ بھی مری عادت سی ہوئی جاتی ہے اف دم نزع بھر آئی ہیں یہ کس کی آنکھیں مجھ کو جینے کی ضرورت سی ہوئی جاتی ہے رشک کی یہ خرد آشوبیاں اللہ اللہ اپنے سایہ سے بھی وحشت سی ہوئی جاتی ہے حسن آمادۂ تکمیل جفا ہے اے دوست پھر مجھے اپنی ضرورت سی ہوئی ...

مزید پڑھیے

محبت مسکراتی جا رہی ہے

محبت مسکراتی جا رہی ہے تمہاری یاد آتی جا رہی ہے تمہاری مسکراہٹ یوں ہے جیسے صبا غنچے کھلاتی جا رہی ہے تمہاری دلبرانہ بے وفائی مری ہستی بناتی جا رہی ہے وہ جیسے جیسے کھلتے جا رہے ہیں بہار آنچل اٹھاتی جا رہی ہے یہ کون آیا ہے دریا کے کنارے فضا میں لہر آتی جا رہی ہے نسیم صبح سے ...

مزید پڑھیے

سچائیوں کو بر سر پیکار چھوڑ کر

سچائیوں کو بر سر پیکار چھوڑ کر ہم آ گئے ہیں دشت میں گھر بار چھوڑ کر آنکھوں میں جاگتے ہوئے خوابوں کا کیا کریں نیندیں چلی گئیں ہمیں بیدار چھوڑ کر ہم بے خودی میں کون سی منزل پہ آ گئے ٹھہرا ہوا ہے وقت بھی رفتار چھوڑ کر ساحل کسے بتائے یہاں اپنے دل کا درد موجیں چلی گئیں اسے ہر بار ...

مزید پڑھیے

کسی بھی سمت نکلوں میرا پیچھا روز ہوتا ہے

کسی بھی سمت نکلوں میرا پیچھا روز ہوتا ہے تعاقب میں کوئی گمنام سایہ روز ہوتا ہے کسی اک موڑ پر ہر روز مجھ کو مل ہی جاتی ہے تعارف زندگی سے غائبانہ روز ہوتا ہے میں اک انجان منزل کے سفر پر جب نکلتا ہوں تصور میں کوئی مانوس چہرہ روز ہوتا ہے یہی تنہائیاں ہیں جو مجھے تجھ سے ملاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4569 سے 6203