کبھی سکوں کبھی صبر و قرار ٹوٹے گا
کبھی سکوں کبھی صبر و قرار ٹوٹے گا اگر یہ دل ہے تو پھر بار بار ٹوٹے گا وہ اپنے ظرف سے بڑھ کر بھرا ہوا بادل یہ دیکھنا کہیں بے اختیار ٹوٹے گا وہ ایک پل بھی کسی روز آ ہی جائے گا کہ جب یہ زندگی پر اعتبار ٹوٹے گا وگرنہ چلتا رہے گا یہ سلسلہ یوں ہی میں ٹوٹ جاؤں تبھی انتشار ٹوٹے گا پھر ...