قومی زبان

کبھی سکوں کبھی صبر و قرار ٹوٹے گا

کبھی سکوں کبھی صبر و قرار ٹوٹے گا اگر یہ دل ہے تو پھر بار بار ٹوٹے گا وہ اپنے ظرف سے بڑھ کر بھرا ہوا بادل یہ دیکھنا کہیں بے اختیار ٹوٹے گا وہ ایک پل بھی کسی روز آ ہی جائے گا کہ جب یہ زندگی پر اعتبار ٹوٹے گا وگرنہ چلتا رہے گا یہ سلسلہ یوں ہی میں ٹوٹ جاؤں تبھی انتشار ٹوٹے گا پھر ...

مزید پڑھیے

پھر وہ بے سمت اڑانوں کی کہانی سن کر

پھر وہ بے سمت اڑانوں کی کہانی سن کر سو گیا پیڑ پرندوں کی کہانی سن کر کیا یہی خواب کی تعبیر ہوا کرتی ہے اڑ گئی نیند بھی آنکھوں کی کہانی سن کر آبلے ایسے کبھی پھوٹ کر نا روئے تھے جس طرح روئے ہیں کانٹوں کی کہانی سن کر ہم وہ صحرا کے مسافر ہیں ابھی تک جن کی پیاس بجھتی ہے سرابوں کی ...

مزید پڑھیے

سسکتے بام و در روتا ہوا گھر چھوڑ آیا ہوں

سسکتے بام و در روتا ہوا گھر چھوڑ آیا ہوں میں خود کو ایک ویرانے میں جا کر چھوڑ آیا ہوں جہاں احساس کی آواز بھی آتی نہیں مجھ تک میں ایسی بے حسی میں خود کو اکثر چھوڑ آیا ہوں اکیلا میں ہی کیوں اب یہ سکوت موج بھی ٹوٹے تھرکتی جھیل کی آنکھوں میں کنکر چھوڑ آیا ہوں بہت عجلت میں اپنے زخم ...

مزید پڑھیے

سمندروں کو بھی دریا سمجھ رہے ہیں ہم

سمندروں کو بھی دریا سمجھ رہے ہیں ہم یہ اپنے آپ کو اب کیا سمجھ رہے ہیں ہم ہماری راہ میں حائل جو اک اندھیرا ہے اسے بھی اپنا ہی سایہ سمجھ رہے ہیں ہم یہیں تلک ہے رسائی ہماری آنکھوں کی کہ خد و خال کو چہرہ سمجھ رہے ہیں ہم ہماری بات کسی کی سمجھ میں کیوں آتی خود اپنی بات کو کتنا سمجھ رہے ...

مزید پڑھیے

ابھی تک جو نہیں دیکھے وہ منظر دیکھ لیتے ہیں

ابھی تک جو نہیں دیکھے وہ منظر دیکھ لیتے ہیں چلو آپس میں ہم آنکھیں بدل کر دیکھ لیتے ہیں کوئی بھی خواب ہو آنکھوں سے بچ کر رہ نہیں سکتا جزیرے چھپ بھی جائیں تو سمندر دیکھ لیتے ہیں فضا کو چیر دیتے ہیں پرندے اپنی چیخوں سے زمیں پر جب کہیں بکھرے ہوئے پر دیکھ لیتے ہیں انہیں فن کار کو ...

مزید پڑھیے

ہر ایک رات میں اپنا حساب کر کے مجھے

ہر ایک رات میں اپنا حساب کر کے مجھے سحر کو چھوڑ دیا آفتاب کر کے مجھے مرے جنون کو پہنچا دیا ہے منزل تک سفر کے شوق نے خانہ خراب کر کے مجھے ذرا سی دیر میں وہ بلبلے بھی پھوٹ گئے جنہیں وجود ملا غرق آب کر کے مجھے اسی کو دن کے اجالے میں آؤں گا میں نظر تمام رات جو دیکھے گا خواب کر کے ...

مزید پڑھیے

کب تک گردش میں رہنا ہے کچھ تو بتا ایام مجھے

کب تک گردش میں رہنا ہے کچھ تو بتا ایام مجھے کشتی کو ساحل مل جاتا اور تھوڑا آرام مجھے دشت نہیں ہے یہ تو میرا گھر ہے لیکن جانے کیوں الجھائے رہتی ہے اک وحشت سی صبح و شام مجھے اپنی ذات سے باہر آنا اب تو مری مجبوری ہے ورنہ میری یہ تنہائی کر دے گی بد نام مجھے ممکن ہے اک دن میں ان رشتوں ...

مزید پڑھیے

دیار ذات میں جب خامشی محسوس ہوتی ہے

دیار ذات میں جب خامشی محسوس ہوتی ہے تو ہر آواز جیسے گونجتی محسوس ہوتی ہے میں تھوڑی دیر بھی آنکھوں کو اپنی بند کر لوں تو اندھیروں میں مجھے اک روشنی محسوس ہوتی ہے سنا تھا میں نے یہ تو پتھروں کا شہر ہے لیکن یہاں تو پتھروں میں زندگی محسوس ہوتی ہے تصور میں تری تصویر میں جب بھی ...

مزید پڑھیے

دید کی تمنا میں آنکھ بھر کے روئے تھے

دید کی تمنا میں آنکھ بھر کے روئے تھے ہم بھی ایک چہرے کو یاد کر کے روئے تھے سامنے تو لوگوں کے غم چھپا لئے اپنے اور جب ہوئے تنہا ہم بکھر کے روئے تھے ہم سے ان اندھیروں کو کس لیے شکایت ہے ہم تو خود چراغوں کی لو کتر کے روئے تھے جب تلک تھے کشتی پر خود کو روک رکھا تھا ساحلوں پہ آتے ہی ہم ...

مزید پڑھیے

آب کی تاثیر میں ہوں پیاس کی شدت میں ہوں

آب کی تاثیر میں ہوں پیاس کی شدت میں ہوں ابر کا سایہ ہوں لیکن دشت کی وسعت میں ہوں یوں تو اپنا لگ رہا ہے جسم کا یہ گھر مجھے روح لیکن کہہ رہی ہے دیکھ میں غربت میں ہوں اور تو اپنی خبر ہے سب مجھے اس کے سوا کون ہوں کیوں ہوں کہاں ہوں اور کس حالت میں ہوں یاد بھی آتا نہیں کچھ بھولتا بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4571 سے 6203