قومی زبان

کدھر جاؤں کہیں رستا نہیں ہے

کدھر جاؤں کہیں رستا نہیں ہے کہاں ڈوبوں کہ دل دریا نہیں ہے ادھر بادل کبھی برسا نہیں ہے جہاں تک شاخ ہے پتہ نہیں ہے اسے چھت پر کھڑے دیکھا تھا میں نے کہ جس کے گھر کا دروازہ نہیں ہے وہی ہے گھونسلہ چمنی کے پیچھے مگر چڑیوں کا وہ جوڑا نہیں ہے بدن کے لوچ تک آزاد ہے وہ اسے تہذیب نے ...

مزید پڑھیے

رونے والوں نے ترے غم کو سراہا ہی نہیں

رونے والوں نے ترے غم کو سراہا ہی نہیں رات خوش رہ کے بھی کٹ سکتی ہے سوچا ہی نہیں نہ کہیں ابر کا گھونگھٹ نہ ہوا کی پازیب دن کئی دن سے ترے رنگ میں دیکھا ہی نہیں تو بھی ان اجڑے دیاروں میں ہے میری مانند ایسا لگتا ہے کہ تو نے مجھے دیکھا ہی نہیں تجھ سے شکوہ بھی اگر ہو تو کوئی بات بھی ...

مزید پڑھیے

تجھ جیسا اک آنچل چاہوں اپنے جیسا دامن ڈھونڈوں

تجھ جیسا اک آنچل چاہوں اپنے جیسا دامن ڈھونڈوں میلے میلے شعلہ دیکھوں پانی آنگن آنگن ڈھونڈوں یہ کومل دھرتی کیا میرے بھاری دکھ کا بوجھ سہے گی ادھر ادھر لاکھوں دنیائیں کیوں نہ کوئی اور آنگن ڈھونڈوں ایسا بھی کیا پیار کہ جس سے کل دنیا پیلی پڑ جائے کیسر آنچل آنچل دیکھوں ہلدی دامن ...

مزید پڑھیے

ہر قدم چمپئی پھولوں کے کھلانے والے

ہر قدم چمپئی پھولوں کے کھلانے والے گم نہ ہو جائیں تری راہ میں جانے والے پھر بڑے زور سے دروازہ کوئی بند ہوا پھر کہا دل نے ابھی آئیں گے آنے والے عمر بھر ڈھونڈتے پھرتے رہے اپنی آواز تیری آواز میں آواز ملانے والے چاند ٹھہرا سا ہوا بند سی پتے چپ سے سو رہے جا کے کہیں پیار جگانے ...

مزید پڑھیے

نئی پود کے سوچ محل میں اٹھیں نئی نئی دیواریں

نئی پود کے سوچ محل میں اٹھیں نئی نئی دیواریں جیسے گھر والے ویسا گھر جیسا گھر ویسی دیواریں کس سے گلا کریں وہ یا میں آخر رنج نجی ہوتا ہے اس تک اس کی راہ کی مٹی اور مجھ تک میری دیواریں کئی بات تو گھر میں لیٹے لیٹے دم گھٹنے لگتا ہے آگے پیچھے بڑھتی گھٹتی رہتی ہیں گھر کی دیواریں ہر دن ...

مزید پڑھیے

کل رات یوں ہوا کہ پہر دو پہر گئے

کل رات یوں ہوا کہ پہر دو پہر گئے کوئی کچھ ایسے چیخ پڑا لوگ ڈر گئے ڈوبا غریب چاند تو اگنی برس پڑی وہ دھوپ چمچمائی کہ چہرے اتر گئے کچھ اجنبی سی لگتی ہیں شاخیں ہری بھری تھا جن پہ تیرا سایہ وہ پتے کدھر گئے سپنوں کی کھوج ہی میں کٹے گی یہ رات بھی ایسی ہوا چلی ہے کہ بادل بکھر گئے اس ...

مزید پڑھیے

وہ خامشی ہے کہ خود سے ڈرا ہوا ہوں میں

وہ خامشی ہے کہ خود سے ڈرا ہوا ہوں میں پتہ نہیں کسے آواز دے رہا ہوں میں کچھ ایسے ڈھب سے گھٹا ہے گئے دنوں میں چاند مرے یہ دھیان پڑا ہے کہ مٹ رہا ہوں میں پلٹ رہوں گا ابھی گھر بہت اداس نہ ہو پہاڑیوں سے گزرتی ہوئی صدا ہوں میں ہوئی جو شام تو دل میں اداسیاں اتریں چراغ جلنے لگے ہیں تو ...

مزید پڑھیے

کھا لو پی لو اشکؔ نہ جانے کس پل دھوپ ڈھلے میلے میں

کھا لو پی لو اشکؔ نہ جانے کس پل دھوپ ڈھلے میلے میں کس پل تارا چھٹکے کس پل سورج ڈوب چلے میلے میں نتھرے ستھرے کپڑے پہنے ہنس مکھ لوگ چلے میلے میں روئیں گے پیوند لگے جب بڑ کے پیڑ تلے میلے میں گل ہوں غبارے ہوں کپڑے ہوں سب کا رنگ اتر جاتا ہے میری مان بھلا جو چاہے کوئی چیز نہ لے میلے ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی وجہ خوشی ہے نہ کوئی باعث غم

نہ کوئی وجہ خوشی ہے نہ کوئی باعث غم جو تم نہیں ہو تو دل کا عجیب ہے عالم نہ میکدے کی ضرورت رہی نہ ساقی کی اب اپنے واسطے کافی ہے دیدۂ پر نم مجھے نہ چھیڑ کہ میں ایسے اک مقام پہ ہوں نظر اٹھاؤں تو رک جائے گردش عالم ترے خیال میں اس وقت ڈوب جاتی ہوں مزاج وقت کو پاتی ہوں جب کبھی ...

مزید پڑھیے

زندگی ایک خواب ہوتی ہے

زندگی ایک خواب ہوتی ہے یہ حقیقت سراب ہوتی ہے جب تصور میں آپ ہوتے ہیں رقص میں کائنات ہوتی ہے سامنے جب بھی وہ نہیں ہوتے ہر گھڑی اک عذاب ہوتی ہے یاد ان کی سیاہ راتوں میں رشک صد ماہتاب ہوتی ہے یہ بھی ہوتا ہے پرسش غم سے اور حالت خراب ہوتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4560 سے 6203