کدھر جاؤں کہیں رستا نہیں ہے
کدھر جاؤں کہیں رستا نہیں ہے کہاں ڈوبوں کہ دل دریا نہیں ہے ادھر بادل کبھی برسا نہیں ہے جہاں تک شاخ ہے پتہ نہیں ہے اسے چھت پر کھڑے دیکھا تھا میں نے کہ جس کے گھر کا دروازہ نہیں ہے وہی ہے گھونسلہ چمنی کے پیچھے مگر چڑیوں کا وہ جوڑا نہیں ہے بدن کے لوچ تک آزاد ہے وہ اسے تہذیب نے ...