کیسے کہیں کہ چار طرف دائرہ نہ تھا
کیسے کہیں کہ چار طرف دائرہ نہ تھا جاتے کہاں کہ خود سے پرے راستا نہ تھا جب سانس لے رہی تھی درختوں کے آس پاس آواز دے رہی تھی کوئی بولتا نہ تھا خود سے چلے تو رہگزر آئینہ ہو گئی اپنے سوائے اور کوئی سوجھتا نہ تھا اب کے بسنت آئی تو آنکھیں اجڑ گئیں سرسوں کے کھیت میں کوئی پتہ ہرا نہ ...