قومی زبان

کیسے کہیں کہ چار طرف دائرہ نہ تھا

کیسے کہیں کہ چار طرف دائرہ نہ تھا جاتے کہاں کہ خود سے پرے راستا نہ تھا جب سانس لے رہی تھی درختوں کے آس پاس آواز دے رہی تھی کوئی بولتا نہ تھا خود سے چلے تو رہگزر آئینہ ہو گئی اپنے سوائے اور کوئی سوجھتا نہ تھا اب کے بسنت آئی تو آنکھیں اجڑ گئیں سرسوں کے کھیت میں کوئی پتہ ہرا نہ ...

مزید پڑھیے

گزری راتوں کے تسلسل سے کوئی کیا نکلے

گزری راتوں کے تسلسل سے کوئی کیا نکلے ہم جسے تیری طرح چاہیں تجھی سا نکلے جیسے وہ جان نظر آنکھ جھپکتا نکلے رات کی کوکھ سے ایسا کوئی تارا نکلے اس پہ کیا جانئے کیا کیا نہ گزرتی ہوگی تم تو یہ سوچ رہے ہو وہ ادھر آ نکلے چپ رہو اک دو گھڑی کے لئے رونے والو عین ممکن ہے کوئی ہنستا ہوا آ ...

مزید پڑھیے

روتے روتے تنہا چلتے گرتے پڑتے تھک سا گیا ہوں

روتے روتے تنہا چلتے گرتے پڑتے تھک سا گیا ہوں کوئی آنچل کوئی ساتھی کوئی سہارا ڈھونڈ رہا ہوں رنگ برنگے کپڑوں میں اک مجمع میلے سے آیا ہے کوئی چہرہ ان چہروں میں تیرے جیسا ڈھونڈ رہا ہوں اے گلشن کے رہنے والو میں تم کو کیا یاد کروں گا پھول نہیں تو کانٹے بھر دو جھولی پھیلائے بیٹھا ...

مزید پڑھیے

ہم سے بھلی چال چلی چاندنی

ہم سے بھلی چال چلی چاندنی سوئے تو لک چھپ کے ٹلی چاندنی ایسے بھی کچھ لوگ ملے شہر میں جدھر چلے ساتھ چلی چاندنی اپنے منڈیرے بھی کبھی آئیو وہ ہے فقیروں کی گلی چاندنی گھلا ملا رنگ پہیلی ہوا نپٹ اندھیروں میں پلی چاندنی ہمیں تو کچھ ایسے پھبا گیہواں مفت ملی مفت نہ لی چاندنی تو ہے ...

مزید پڑھیے

چاند کو ریشمی بادل سے الجھتا دیکھوں

چاند کو ریشمی بادل سے الجھتا دیکھوں وہ ہوا ہے کبھی آنچل کبھی چہرہ دیکھوں دیکھنے نکلا ہوں دنیا کو مگر کیا دیکھوں جس طرف آنکھ اٹھاؤں وہی چہرہ دیکھوں دائرہ کھینچ کے بیٹھا ہوں بڑی مدت سے خود سے نکلوں تو کسی اور کا رستہ دیکھوں یہ وہ دروازہ ہے کھولوں تو کوئی آ نہ سکے اور اگر بند ...

مزید پڑھیے

اب تک تو یہی پتا نہیں ہے

اب تک تو یہی پتا نہیں ہے اس شہر میں کیا ہے کیا نہیں ہے پتے کو نہ اس طرح سے دیکھو ٹہنی سے ابھی گرا نہیں ہے چپ چاپ کھڑا ہوا ہوں کب سے احساس تو ہے صدا نہیں ہے اک لمحے میں میں بھی تو بھی دکھ بھی ظالم کوئی وقت سا نہیں ہے جو عکس ہے آئنے میں میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے اس راہ پہ چل رہا ...

مزید پڑھیے

پت جھڑ کا موسم تھا لیکن شاخ پہ تنہا پھول کھلا تھا

پت جھڑ کا موسم تھا لیکن شاخ پہ تنہا پھول کھلا تھا جس کو ہم پتھر سمجھے تھے چشمہ جیسا پھوٹ بہا تھا اب تو آنکھیں پاپ بھری ہیں ایک سمے یارو ایسا تھا اگلے گھر کی چھت کے پیچھے چاند بہت پیارا لگتا تھا ننگ دھڑنگ اک ننھا منا پیچھے پیچھے دوڑ رہا تھا آگے اڑنے والے وقت نے پل بھر کو مڑ کر ...

مزید پڑھیے

جو دل میں اس کو بسائے وہ اور کچھ نہ کرے

جو دل میں اس کو بسائے وہ اور کچھ نہ کرے وہ روپ ہے کہ اسے دیکھیے تو جی نہ کرے جو درد دل میں اٹھے آہ کھینچنے سے ڈرے وہ آئنہ ہے کہ موج ہوا شکست کرے کھلیں گی راہ میں اس رات برف کی کلیاں گھروں میں گھومتے پھرتے ہیں بادلوں کے پرے ہوا ادھر کی چلی بھی تو درد مر نہ گیا یہی ہوا ہے کہ کچھ زخم ...

مزید پڑھیے

چراغ جلنے لگیں اور دل مچلنے لگے

چراغ جلنے لگیں اور دل مچلنے لگے ادھر ہو رات ادھر کوئی جی کو ملنے لگے اداس اوس کی بوندوں سے بجھنے جلنے لگے تم آ رہو تو ستاروں کی لو سنبھلنے لگے یہ دیودار کی ٹہنی پہ تھم گیا سا چاند ہوا چلے تو ابھی کروٹیں بدلنے لگے تمام رات دھواں سا اچھالتی رہی رات رکی تو ٹھٹھرے ہوئے ہاتھ پاؤں ...

مزید پڑھیے

مری بھی مان مرا عکس مت دکھا مجھ کو

مری بھی مان مرا عکس مت دکھا مجھ کو میں رو پڑوں گا مرے سامنے نہ لا مجھ کو میں بند کمرے کی مجبوریوں میں لیٹا رہا پکارتی پھری بازار میں ہوا مجھ کو تو سامنے ہے تو آواز کون سنتا ہے جو ہو سکے تو کہیں دور سے بلا مجھ کو تو عکس بن کے مرے آئینے میں بیٹھا رہا تمام عمر کوئی دیکھتا ہوا مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4559 سے 6203