قرار کھو کے چلے بے قرار ہو کے چلے
قرار کھو کے چلے بے قرار ہو کے چلے ادا ادا پہ تری ہم نثار ہو کے چلے رہ وفا میں رقابت کے موڑ بھی ہیں بہت یہ دل سے کہہ دو ذرا ہوشیار ہو کے چلے کسی کے کہنے پہ طوفاں میں ڈال دی کشتی خدا کرے کہ ہوا سازگار ہو کے چلے ہمیں تو ناز ہے اپنے حسیں گناہوں پر وہ لوگ اور تھے جو شرمسار ہو کے ...