قومی زبان

ہلکی ہلکی بوندیں برسیں پنچھی کریں کلول

ہلکی ہلکی بوندیں برسیں پنچھی کریں کلول اس رت میں ہیں امرت سے بھی میٹھے پی کے بول جس دن ان سے ملن ہوا تھا جیون میں رس برسا اب برہا نے جیون رس میں زہر دیا ہے گھول مہنگائی میں ہر اک شے کے دام ہوئے ہیں دونے مجبوری میں بکے جوانی دو کوڑی کے مول پریم نگر کی سمت چلا ہے کویتا کا اک ...

مزید پڑھیے

ہم سے یوں بے رخی سے ملتے ہیں

ہم سے یوں بے رخی سے ملتے ہیں جس طرح ہر کسی سے ملتے ہیں لب ترے پنکھڑی سے ملتے ہیں بول اک راگنی سے ملتے ہیں یہ شہر پتھروں کا جنگل ہے آشنا اجنبی سے ملتے ہیں جن کا مقصد فریب ہوتا ہے وہ بڑی سادگی سے ملتے ہیں موت آئے گی اس سے مل لیں گے اب چلو زندگی سے ملتے ہیں جب سے بیٹھے ہیں دل لگا کے ...

مزید پڑھیے

میں جہاں جاؤں مرے ساتھ چلے سناٹا

میں جہاں جاؤں مرے ساتھ چلے سناٹا میری آنکھوں میں لگاتار جلے سناٹا صبح آتی ہے دبے پاؤں چلی جاتی ہے گھیر لیتا ہے مجھے شام ڈھلے سناٹا بھاگتی بھیڑ کے قدموں سے لپٹ کر روئے ورنہ ہر سست مسافر کو چھلے سناٹا تم خیالات کے خیموں میں سمٹ مت جانا جب سر راہ کبھی ہاتھ ملے سناٹا پھر مرے شہر ...

مزید پڑھیے

صرف اک حد نظر کو آسماں سمجھا تھا میں

صرف اک حد نظر کو آسماں سمجھا تھا میں آسمانوں کی حقیقت کو کہاں سمجھا تھا میں خود ملا اور مل کے وہ اپنا پتہ بھی دے گیا جبکہ ساری کاوشوں کو رائیگاں سمجھا تھا میں زندگی کا رنگ پہچانا گیا جینے کے بعد دور سے اس رنگ کو اڑتا دھواں سمجھا تھا میں مہربانوں سے ہمیشہ ہی رہے شکوے گلے اور ہر ...

مزید پڑھیے

مجھ سے مل کر خود کو کیا پائے گا تو

مجھ سے مل کر خود کو کیا پائے گا تو اور تنہا ہو کے رہ جائے گا تو یہ ٹھٹھرتی دھوپ ہے اس دھوپ میں کیسے اپنا خون گرمائے گا تو ہڈیوں کا درد پینا ہے تو پی ورنہ ساری عمر پچھتائے گا تو سانپ کے بل میں نہ کر امرت تلاش یوں تو خود کو بھی گنوا آئے گا تو تیری پرچھائیں سمٹتی جائے گی جیسے جیسے ...

مزید پڑھیے

چلچلاتی دھوپ سر پر اور تنہا آدمی

چلچلاتی دھوپ سر پر اور تنہا آدمی آہ یہ خاموش پتھر اور تنہا آدمی جس طرح اک برف کے ٹیلے پہ جلتی ہو چتا یہ پگھلتا موم سا گھر اور تنہا آدمی اس حصار خامشی میں برسر پیکار ہیں تیز آوازوں کے لشکر اور تنہا آدمی کیا اسی کا نام ہے رعنائیٔ بزم حیات تنگ کمرہ سرد بستر اور تنہا آدمی کس طرح ...

مزید پڑھیے

گھڑی بھر خلوتوں کو آنچ دے کر بجھ گیا سورج

گھڑی بھر خلوتوں کو آنچ دے کر بجھ گیا سورج کسی کے درد کی لے پر کہاں تک ناچتا سورج نگاہوں میں نئے انداز سے پھر روشنی ہوگی جب اگ آئے گا ذہنوں میں ہمارے اک نیا سورج زمیں کا کرب اوج آسماں پر بھی جھلک اٹھا نشیب کوہ پر جرأت سے جب جب آ ملا سورج ہمارے گھر کے آنگن میں ستارے بجھ گئے ...

مزید پڑھیے

کھول سمٹ کے اندر سمٹ کر رہ گیا میں

کھول سمٹ کے اندر سمٹ کر رہ گیا میں اپنی سائے سے بھی کٹ کر رہ گیا میں لے گیا وہ چھین کر میری جوانی اس پہ بس یوں ہی جھپٹ کر رہ گیا میں جب کبھی نکلا جلوس رنگ و نکہت ٹوٹی دیواروں سے سٹ کر رہ گیا میں چل رہا تھا وہ میرے شانہ بہ شانہ خود ہی اس سے دور ہٹ کر رہ گیا میں اس نے مٹی بھر مجھے ...

مزید پڑھیے

ہو نہ ہو آس پاس ہے کوئی

ہو نہ ہو آس پاس ہے کوئی میرے جتنا اداس ہے کوئی سوچتا ہوں تو اور بڑھتی ہے زندگی ہے کہ پیاس ہے کوئی حادثہ ایک بھی نہیں گزرا بے سبب بد حواس ہے کوئی پھر پرندے شجر سے بچھڑے ہیں پھر سے تصویر یاس ہے کوئی اپنی اردو تو لوک بھاشا ہے اس سے کیوں نا شناس ہے کوئی

مزید پڑھیے

خول کے اندر سمٹ کر رہ گیا میں

خول کے اندر سمٹ کر رہ گیا میں اپنے سائے سے بھی کٹ کر رہ گیا میں لے گیا وہ چھین کر میری جوانی اس پہ بس یوں ہی جھپٹ کر رہ گیا میں جب کبھی نکلا جلوس رنگ و نکہت ٹوٹی دیواروں سے سٹ کر رہ گیا میں چل رہا تھا وہ مرے شانہ بہ شانہ خود ہی اس سے دور ہٹ کر رہ گیا میں اس نے مٹھی بھر مجھے اونچا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4534 سے 6203