قومی زبان

بزم جاناں میں محبت کا اثر دیکھیں گے

بزم جاناں میں محبت کا اثر دیکھیں گے کس سے ملتی ہے نظر ان کی نظر دیکھیں گے اب نہ پلکوں پہ ٹکو ٹوٹ کے برسو اشکو ان کا کہنا ہے کہ ہم دیدۂ تر دیکھیں گے دھڑکنو تیز چلو ڈوبتی نبضو ابھرو آج وہ بجھتے چراغوں کی سحر دیکھیں گے اے مرے دل کے سلگتے ہوئے داغو بھڑکو ہجر کی رات وہ جلتا ہوا گھر ...

مزید پڑھیے

بے خودی میں ہے نہ وہ پی کر سنبھل جانے میں ہے

بے خودی میں ہے نہ وہ پی کر سنبھل جانے میں ہے لطف پائے یار پر جو لغزشیں کھانے میں ہے تیرے وعدے تیری یادیں تیرے نغمے تیرے خواب حسن سے بھرپور دولت میرے کاشانے میں ہے ساغر و مینا میں لہراتی ہے ہر موج شراب اک جوانی کا تلاطم آج میخانے میں ہے بزم دنیا میں ہیں حسن و عشق یوں جلوہ ...

مزید پڑھیے

ڈاکٹر ذاکر حسین

ایک مرد با صفا تھا ڈاکٹر ذاکر حسین نیک دل فرماں روا تھا ڈاکٹر ذاکر حسین سادہ دل سادہ مزاج و با عمل انسان تھا خوبیوں کا آئنہ تھا ڈاکٹر ذاکر حسین پاسدار حریت تھا آبروئے ہند تھا ایک سچا رہنما تھا ڈاکٹر ذاکر حسین اس کے ہاتھوں میں امانت تھی وطن کی زندگی اک امین با وفا تھا ڈاکٹر ...

مزید پڑھیے

مہارشی سوامی دیانند

اوم کا جھنڈا فضاؤں میں اڑاتا آیا اسے تہذیب کا سرتاج بناتا آیا جس سے ہر قوم کی تقدیر بنا کرتی ہے ہمیں اخلاق کا وہ درس سکھاتا آیا آتما صاف ہوا کرتی ہے جن جذبوں سے مشعل‌ راہ انہی جذبوں کو بناتا آیا ہم دیانند کو کہتے ہیں پیمبر لیکن خود کو وہ قوم کا سیوک ہی بتاتا آیا آریہ ورت کا ...

مزید پڑھیے

بھگوان رام

زندگی اترا رہی ہے آج تیرے نام پر ناز ہے پیغمبروں کو بھی ترے پیغام پر رہبر انسانیت تیری عقیدت کے طفیل ہم نے غلبہ پا لیا ہے گردش ایام پر میرے دل کی وسعتیں انگڑائیاں لینے لگیں جلوہ دیکھا جب ترا ہر موڑ پر ہر گام پر کیوں نہ ہو پھر عاقبت کی فکر سے وہ بے نیاز زندگی قربان کر دی جس نے ...

مزید پڑھیے

کیسا وہ موسم تھا یہ تو سمجھ نہ پائے ہم

کیسا وہ موسم تھا یہ تو سمجھ نہ پائے ہم شاخ سے جیسے پھل ٹوٹے کچھ یوں لہرائے ہم برسوں سے اک آہٹ پر تھے کان لگائے ہم آج اس موڑ پہ آپ ہی اپنے سامنے آئے ہم ہم سے بچھڑ کر تو نے ہم کو کیسا دیا ہے شاپ آئینے میں اپنی صورت دیکھ نہ پائے ہم پیڑوں کا دھن لوٹ چکے ہیں لوٹنے والے لوگ جسم پہ مل کر ...

مزید پڑھیے

کبھی ہوا نے کبھی اڑتے پتھروں نے کیا

کبھی ہوا نے کبھی اڑتے پتھروں نے کیا ہمیں تو نشر عجب سی وضاحتوں نے کیا تمام منظر شب ڈھیر ہو گیا دل پر یہ کیا ستم مرے قدموں کی آہٹوں نے کیا ہر ایک چیز لگی ٹوٹتی سی باہر کی کہ جو کیا مرے اندر کے منظروں نے کیا کھلی نہ آنکھ کبھی ایک پل کو صحرا کی اگرچہ شور بہت اڑتی بستیوں نے کیا ادھر ...

مزید پڑھیے

ہر اک امکان تک پسپائی ہے اپنی

ہر اک امکان تک پسپائی ہے اپنی اور اس کے بعد صف آرائی ہے اپنی سزا سمجھو مجھے اس کھوکھلے پن کی صدا ہر سمت سے لوٹ آئی ہے اپنی جماعت بے جماعت ایک سا ہوں میں کہ صدہا شکل کی تنہائی ہے اپنی اب ان سیرابیوں کا سلسلہ کب تک خبر تو مدتوں تک پائی ہے اپنی پھر اپنے آپ میں گرنے لگا ہوں میں وہی ...

مزید پڑھیے

دل سے اک آگ کی دیوار ابھرتی جائے

دل سے اک آگ کی دیوار ابھرتی جائے زینہ زینہ شب تنہائی اترتی جائے تم سے ملنے کا جو برسوں میں کبھی آئے خیال ہر طرف فاصلوں کی ریت بکھرتی جائے وقت کی چال کو ہم رو کے رہیں کمرے میں اور ادھر رات اندھا دھند گزرتی جائے تپتا صحرا ہے ہر اک شہر اور امید سکوں ایک بدلی ہے جو اوپر سے گزرتی ...

مزید پڑھیے

ہمارے صبر کا اک امتحان باقی ہے

ہمارے صبر کا اک امتحان باقی ہے اسی لئے تو ابھی تک یہ جان باقی ہے وہ نفرتوں کی امارت بھی گر گئی دیکھو محبتوں کا یہ کچا مکان باقی ہے مرا اصول ہے غزلوں میں سچ بیاں کرنا میں مر گیا تو مرا خاندان باقی ہے میں چاند پر ہوں مگر مطمئن نہیں ہوں میں مرے پروں میں ابھی بھی اڑان باقی ہے مٹا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4536 سے 6203