قومی زبان

اگر وہ گلبدن مجھ پاس ہو جاوے تو کیا ہووے

اگر وہ گلبدن مجھ پاس ہو جاوے تو کیا ہووے زمین دل میں تخم عشق بو جاوے تو کیا ہووے صنم تجھ زلف کے زنار کے رشتے میں آ زاہد اپس کے سبحہ گردانی کوں کھو جاوے تو کیا ہووے پلا جام شراب عیش وو ساقیٔ بزم آرا غبار غم کوں لوح دل سوں ہو جاوے تو کیا ہووے بیاں کرتا ہوں میں تجھ زلف مشکیں کا صنم ...

مزید پڑھیے

خواب جزیرہ بن سکتے تھے نہیں بنے

خواب جزیرہ بن سکتے تھے نہیں بنے ہم بھی قصہ بن سکتے تھے نہیں بنے کرنیں برف زمینوں تک پہنچانے کو بادل شیشہ بن سکتے تھے نہیں بنے قطرہ قطرہ بہتے رہے بے مایہ رہے آنسو دریا بن سکتے تھے نہیں بنے اپنا گھر بھی ڈھونڈ نہ پاتے کھو جاتے جگنو اندھیرا بن سکتے تھے نہیں بنے ہم دو چار محبت ...

مزید پڑھیے

ریت مٹھی میں بھری پانی سے آغاز کیا

ریت مٹھی میں بھری پانی سے آغاز کیا سخت مشکل میں تھا آسانی سے آغاز کیا مجھ کو مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی میری تعمیر نے ویرانی سے آغاز کیا یہ جہانوں کا زمانوں کا مکانوں کا سفر غیب نے لفظ سے یا معنی سے آغاز کیا جب بھی یہ آنکھ عناصر کی طرف دیکھتی ہے یاد آتا ہے پریشانی سے آغاز ...

مزید پڑھیے

شہر سے کیا گئی جانب دشت زر زندگی فاختہ

شہر سے کیا گئی جانب دشت زر زندگی فاختہ بین کرنے لگی آ کے شام و سحر ماتمی فاختہ مر گیا رات کو برف اوڑھے ہوئے ایک فٹ پاتھ پر وہ جو کہتا رہا لفظ وہ عمر بھر شانتی فاختہ کیسی کیسی ہوائیں چلیں باغ میں کون آیا گیا ساری تبدیلیوں سے رہی بے خبر باوری فاختہ وہ نگر چاند کا ہے وہاں تیری ...

مزید پڑھیے

مٹی تھا اور دودھ میں گوندھا گیا مجھے

مٹی تھا اور دودھ میں گوندھا گیا مجھے اک چاند کے وجود میں گوندھا گیا مجھے میں نیست اور نبود کی اک کیفیت میں تھا جب وہم ہست و بود میں گوندھا گیا مجھے میں چشم کم رسا سے جسے دیکھتا نہ تھا اس خواب لا حدود میں گوندھا گیا مجھے خس خانہ زیاں کی شرر باریوں کے بعد یخ زار نار سود میں گوندھا ...

مزید پڑھیے

1

حرفوں کی ترتیب الٹ کر کان کو ناک بنا سکتا ہوں ناک کو کان بنا سکتا ہوں شیر کو ایک اشارے پر میں بندر ناچ نچا سکتا ہوں بندر کو جنگل کا راج دلا سکتا ہوں سچ کو جھوٹ بنا سکتا ہوں جھوٹ کو سچ بنا سکتا ہوں

مزید پڑھیے

آواز کا نوحہ

گڑیا! بولو گڑیا! اپنی آنکھیں کھولو گڑیا! دل پہ بوجھ ہے کوئی تو جتنا جی چاہے رو لو گڑیا! یہ خاموشی مجھ کو کاٹ رہی ہے گڑیا! موت کی دیمک مجھ کو چاٹ رہی ہے

مزید پڑھیے

ایک سب آگ ایک سب پانی

ہمارے غم جدا تھے قریۂ دل کی فضا آب و ہوا موسم جدا تھے شام تیرے جسم کی دیوار سے چمٹی ہوئی تھی مجھ کو کالی رات کھاتی تھی تجھے آواز دیتی تھی ترے اندر سے اٹھتی ہوک مجھ کو بھوک میری روح سے باہر بلاتی تھی تجھے پاؤں میں پڑتی بیڑیوں کا روگ لاحق تھا مجھے آزادی پہ شک تھا تجھے اپنوں نے اپنے ...

مزید پڑھیے

میں نفی میں

نہیں میں نہیں ہوں کسی دوسرے نے مجھے ''میں'' کہا ہے تو میں ہو گیا ہوں نفس کھنچتا ہوں مگر زندگی میری خواہش نہیں ہے مجھے زندگی نے چنا ہے لہٰذا مرے فیصلے زندگی کر رہی میں روتا نہیں ہوں مری آنکھ سے اوس کے پھول غم کی ہوائیں گراتی ہیں کلیاں ہنسی کی مرے لب پہ کھلتی نہیں ہیں خوشی کی بہاریں ...

مزید پڑھیے

تمنا کا دوسرا قدم

وقت اور نا وقت کے مابین کتنا فاصلہ کتنا خلا کتنی گھنیری خامشی ہے جاننے کی کوششوں میں آنکھ کی اور دل کی اجلی آنکھ کی بینائیاں کم پڑ گئی ہیں سوچتا ہوں سوچ کا کوئی پرندہ بھیج کر اس حد لا حد کا کوئی اندازہ کر لوں خود سے کہتا ہوں تجھے معلوم ہے یہ کام سوچوں کے پرندوں کا نہیں تخئیل کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4509 سے 6203