قومی زبان

نظم گو کے لیے مشورہ

نظم کہوگے کہہ لوگے کیا؟ دیکھو اتنا سہل نہیں ہے بنتی بات بگڑ جاتی ہے اکثر نظم اکڑ جاتی ہے چلتے چلتے لا کو مرکز مان کے گھومنے لگ جاتی ہے لڑتے لڑتے لفظوں کے ہاتھوں کو چومنے لگ جاتی ہے سیدھے رستے پر مڑتی ہے موڑ پہ سیدھا چل پڑتی ہے حرف کو برف بنا دیتی ہے برف میں آگ لگا دیتی ہے چپ ...

مزید پڑھیے

سنگ بنیاد

ہوا نے سانس لیا تھا ابھی کہانی میں فلک کی آنکھ میں شعلے ابھی دہکتے تھے تھکن کی گوند نے چپکا رکھے تھے جسم سے پر شفق کے لوتھڑے بکھرے ہوئے تھے پانی میں نماز عصر ادا ہونی تھی ہوئی کہ نہیں پرند جھیل پر اترے مگر وضو نہ کیا

مزید پڑھیے

کتھارسس

چیخنا ہے مجھے اس زمیں پر نہیں آسماں میں نہیں ان وجودوں کی لا میں خلا میں مجھے چیخنا ہے انا کی انا میں مگر کس سزا میں کہ جیون بتایا ہے اس کربلا میں مجھے چیخنا ہے خلا میں جہاں اپنی چیخیں میں خود ہی سنوں فیصلہ خود کروں ان وجودوں کو کیا میں جیوں یا مروں

مزید پڑھیے

رموز اوقاف کی نظم

کہاں پر لفظ لکھ کر فاصلہ دینا کہاں کومہ لگانا ہے کہاں قوسین میں لکھنا کہاں پیرا بنانا ہے کہاں احساس کو لکھنا ہے بس اس کے الف جتنا کہاں احساس کہاں احساس کو پورا دکھانا ہے طریقہ ہی نہیں آتا تمہیں تو نظم لکھنے کا سلیقہ ہی نہیں آتا

مزید پڑھیے

مشترکہ خواب کی قبر پر

رات تیری مری آرزوؤں کا مسکن یہ رات گھور کالی سیہ بادلوں سے اٹی تیرے میرے گناہوں ثوابوں سوالوں جوابوں سے عاری یہ رات خون کی حدتوں میں دہکتی ہوئی سارے خوابوں کا ایندھن بناتی ہوئی رتجگوں کی چتا جو تری میری آنکھوں میں بھڑکی بھڑک کے بجھی ساری عمروں کے دکھ آتی جاتی ہر اک سانس میں ہیں ...

مزید پڑھیے

بہ طرز خواب سجانی پڑی ہے آخر کار

بہ طرز خواب سجانی پڑی ہے آخر کار نئی زمین بنانی پڑی ہے آخر کار تپش نے جس کی مجھے کیمیا بنانا تھا مجھے وہ آگ بجھانی پڑی ہے آخر کار بہت دنوں سے یہ مٹی پڑی تھی ایک جگہ ہر ایک سمت اڑانی پڑی ہے آخر کار جہاں پہ قصر بنائے گئے تھے کاغذ کے وہاں سے راکھ اٹھانی پڑی ہے آخر کار وہ پاؤں بھیگے ...

مزید پڑھیے

اجالا ہی اجالا روشنی ہی روشنی ہے

اجالا ہی اجالا روشنی ہی روشنی ہے اندھیرے میں جو تیری آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے ابھی جاگا ہوا ہوں میں کہ تھک کر سو چکا ہوں دئیے کی لو سے کوئی آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے تجسس ہر افق پر ڈھونڈھتا رہتا ہے اس کو کہاں سے اور کیسی آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے عمل کے وقت یہ احساس رہتا ہے ہمیشہ مرے اندر ...

مزید پڑھیے

عجب رنگ طلسم‌ و طرز نو ہے

عجب رنگ طلسم‌ و طرز نو ہے دیا ہے آگ کا مٹی کی لو ہے مجھے سن لیں گی تو دیکھیں گی آنکھیں مری آواز میں سورج کی ضو ہے رکاب اور باگ قابو میں نہیں ہیں یہ اسپ وقت کتنا تیز رو ہے مری تعریف کے ہیں دو حوالے قدم افلاک پر مٹھی میں جو ہے نہیں ہے حریت کی کوئی قیمت مگر پنجرے کی قیمت چار سو ...

مزید پڑھیے

پانی کے شیشوں میں رکھی جاتی ہے

پانی کے شیشوں میں رکھی جاتی ہے سندرتا جھیلوں میں رکھی جاتی ہے چھونے کو بڑھ جاتی ہے وہ موم بدن آگ کہاں پوروں میں رکھی جاتی ہے چاند ترے ماتھے سے اگتا ہے چندا رات مری آنکھوں میں رکھی جاتی ہے ہاتھوں میں ریکھائیں پیلے موسم کی سبز پری خوابوں میں رکھی جاتی ہے چھو لیتی ہے جو تیرے ...

مزید پڑھیے

چاند چھونے کی طلب گار نہیں ہو سکتی

چاند چھونے کی طلب گار نہیں ہو سکتی کیا مری خاک چمکدار نہیں ہو سکتی ہو نہ ہو اپنی بصارت نے مجھے روکا ہے غیب جاتے ہوئے دیوار نہیں ہو سکتی جتنی پیڑوں میں نظر آتی ہے تقلیب کے بعد یہ زمیں اتنی پر اسرار نہیں ہو سکتی میں نے ڈھونڈا ہے چراغوں کی لوؤں میں تجھ کو تو ستارے میں نمودار نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4510 سے 6203