قومی زبان

عشق شبنم نہیں شرارا ہے

عشق شبنم نہیں شرارا ہے راز یہ مجھ پہ آشکارا ہے اک کرم کی نگاہ کر دیجے عمر بھر کا ستم گوارا ہے رقص میں ہیں جو ساغر و مینا کس کی نظروں کا یہ اشارا ہے ایسی منزل پہ آ گیا ہوں دوست ترے غم کا فقط سہارا ہے لوٹ آئے ہیں یار کے در سے وقت نے جب ہمیں پکارا ہے دل نہ ٹوٹے تو ذرۂ ناچیز کیمیا ہے ...

مزید پڑھیے

کہانی ایک رات کی

سن رہا ہوں دیر سے دھیمی سی دستک کی صدا کون ہوگا اس اندھیری رات میں ہوگا کوئی اجنبی راہی کی دستک تو نہیں جو کسی پر ہول سائے کے لپکتے قہقہے کی گونج سے بچ کے آ نکلا ہے میرے خانۂ تاریک تک واقعی وحشت زدہ ہوگا اگر راہی کوئی اس قدر محتاط سی آواز کیوں اس قدر دھیمی سی چاپ نیم کی شاخوں کے ...

مزید پڑھیے

یہ آنسو روک رکھے ہیں بہ مشکل دن گزارے ہیں

یہ آنسو روک رکھے ہیں بہ مشکل دن گزارے ہیں تمہیں دکھتے نہیں ہیں جو سبھی وہ غم تمہارے ہیں کھلی زلفیں ہنسی چہرہ تمہاری جھیل سی آنکھیں ہمیں پاگل نہ کر دیں یہ بہت دل کش نظارے ہیں ہماری انگلیوں سے آج تک خوشبو نہیں جاتی کسی کے ریشمی گیسو کبھی اتنے سنوارے ہیں کسے وشواس ہوگا ہم ملن تٹ ...

مزید پڑھیے

حادثے عمر بھر آزماتے رہے

حادثے عمر بھر آزماتے رہے چوٹ کھا کھا کے ہم مسکراتے رہے یوں گزرتا رہا زندگی کا سفر بن تمہارے قدم ڈگمگاتے رہے آندھیوں سے عداوت رہی عمر بھر ہم ہواؤں میں دیپک جلاتے رہے حج و تیرتھ کو جانے سے کیا فائدہ گر بزرگوں کا دل ہم دکھاتے رہے بانٹ دے گی سیاست ہمیں دو طرف ہم جو مندر اور مسجد ...

مزید پڑھیے

کیا بتاؤں زندگی میں کس قدر تنہا رہا

کیا بتاؤں زندگی میں کس قدر تنہا رہا قافلوں کے ساتھ رہ کر بھی سفر تنہا رہا اب کسی سے دوستی ہوتی نہیں ہے اس لیے دوستوں کو آزما کر وقت پر تنہا رہا یا خدا پتھر بنا دل کے مرے احساس کو آئنے کی شکل میں تو عمر بھر تنہا رہا دو دلوں کے پیار کا انجام کچھ ایسا ہوا ہار کر میں خوش رہا وہ جیت کر ...

مزید پڑھیے

زنداں میں ہوں میں شہر نگاراں سے کیا مجھے

زنداں میں ہوں میں شہر نگاراں سے کیا مجھے اس گلستاں کی باد بہاراں سے کیا مجھے وہ کام اپنا کر ہی گیا احتیاط سے یوں دیکھتے ہو دیدۂ حیراں سے کیا مجھے ویرانیاں ہیں گور غریباں سی ہر طرف لینا ہے آج شہر درخشاں سے کیا مجھے چھونے لگے ہیں ہاتھ مرے مہر و ماہ کو محفل کی آب و تاب چراغاں سے ...

مزید پڑھیے

آج کے ماحول میں انسانیت بدنام ہے

آج کے ماحول میں انسانیت بدنام ہے یہ عناد باہمی کا ہی فقط انجام ہے حق شناسی کا چلن ہم میں نہیں باقی رہا صبح اپنی پر الم ہے پر خطر ہر شام ہے حیف بربادیٔ گلشن اپنے ہی ہاتھوں ہوئی مفت میں باد خزاں کے سر پہ کیوں الزام ہے دھندلی دھندلی سی فضا ہے مہر اور اخلاص کی اب رفاقت آشتی اور ...

مزید پڑھیے

میں نے کہا کہ دل میں تو ارمان ہیں بہت

میں نے کہا کہ دل میں تو ارمان ہیں بہت اس نے کہا کہ آپ تو نادان ہیں بہت میں نے کہا کہ مجھ کو ہے جنت کی آرزو اس نے کہا کہ واقف ایمان ہیں بہت میں نے کہا کہ مہکا ہوا اک گلاب ہوں اس نے کہا زمیں پہ گلستان ہیں بہت میں نے کہا کہ میری پناہوں میں آئیے اس نے کہا کہ میرے نگہبان ہیں بہت میں نے ...

مزید پڑھیے

جب محبت کا کسی شے پہ اثر ہو جائے

جب محبت کا کسی شے پہ اثر ہو جائے ایک ویران مکاں بولتا گھر ہو جائے میں ہوں سورج مکھی تو میرا ہے دل بر سورج تو جدھر جائے مرا رخ بھی ادھر ہو جائے رنج و غم عیش و خوشی جس کے لیے ایک ہی ہوں عمر اس شخص کی شاہوں سی بسر ہو جائے جو بھی دکھ درد مصیبت کا پئے وش ہنس کر کیوں نہ سقراط کی صورت وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4499 سے 6203