عشق شبنم نہیں شرارا ہے
عشق شبنم نہیں شرارا ہے راز یہ مجھ پہ آشکارا ہے اک کرم کی نگاہ کر دیجے عمر بھر کا ستم گوارا ہے رقص میں ہیں جو ساغر و مینا کس کی نظروں کا یہ اشارا ہے ایسی منزل پہ آ گیا ہوں دوست ترے غم کا فقط سہارا ہے لوٹ آئے ہیں یار کے در سے وقت نے جب ہمیں پکارا ہے دل نہ ٹوٹے تو ذرۂ ناچیز کیمیا ہے ...