قومی زبان

یہ کالی گھٹا اٹھ کے مے خانوں کے سر آئی

یہ کالی گھٹا اٹھ کے مے خانوں کے سر آئی گردش یہ زمانے کی پیمانوں کے سر آئی گلشن پہ گری بجلی اور آگ لگی جس دم یہ آگ جو پھیلی تو کاشانوں کے سر آئی آتے ہی بہاروں کے پھر چاک ہوئے دامن ہر صحرا نوردی یہ دیوانوں کے سر آئی دے کر بھی وفا میں جاں الزام جفا آیا رسوائی محبت میں نادانوں کے سر ...

مزید پڑھیے

یہ زندگی کی ہار سے پہلے گزر گئی

یہ زندگی کی ہار سے پہلے گزر گئی اک داستاں بہار سے پہلے گزر گئی وہ بات اعتبار کے قابل نہیں رہی جو بات اعتبار سے پہلے گزر گئی آنکھوں سے دیکھتے رہے دل کی تباہیاں دل کی لگی قرار سے پہلے گزر گئی ہوتے ہیں آج تک بھی خزاں ہی کے تذکرے آئی بھی اور بہار سے پہلے گزر گئی زاہد کی پارسائی کا ...

مزید پڑھیے

بتا یہ کون سی منزل ہے اے عمر رواں مجھ کو

بتا یہ کون سی منزل ہے اے عمر رواں مجھ کو نظر آتا نہیں خود کا بھی اب سایہ جہاں مجھ کو یہ ہے عزم جواں میرا نشیمن پھر بنا لوں گا جلانے کا نہیں احساس اے برق تپاں مجھ کو بچھڑ کر کارواں سے میں بھٹکتا ہی رہا ہر سو نظر آئی نہ منزل اور نہ گرد کارواں مجھ کو مسیحا زہر دے دے یا علاج درد و غم ...

مزید پڑھیے

ساقی مجھے شباب کا رسیا کہے سو ہوں

ساقی مجھے شباب کا رسیا کہے سو ہوں میں خود سے بے نیاز ہوں جیسا کہے سو ہوں میری ہوس کے اندروں محرومیاں ہیں دوست واماندۂ بہار ہوں گھٹیا کہے سو ہوں اب میں کسی کی سوچ بدلنے سے تو رہا یہ شہر بد گماں مجھے شیدا کہے سو ہوں تو ہی بتا میں اپنی صفائی میں کیا کہوں تو بات بات میں مجھے جھوٹا ...

مزید پڑھیے

مجرم ہوں اگر مجھ کو سزا کیوں نہیں دیتے

مجرم ہوں اگر مجھ کو سزا کیوں نہیں دیتے اپنا ہوں تو پھر مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے کچھ اور نہیں شکوہ شکایت ہی کرو تم اس بجھتی محبت کو ہوا کیوں نہیں دیتے تم لوٹ بھی جاؤ تو اثر دیر تلک ہو ملتے ہوئے یہ ہاتھ دبا کیوں نہیں دیتے پھر دیکھ کے صاحب جی اسی خاص نظر سے امید کے غنچوں کو کھلا ...

مزید پڑھیے

زیست تجھ بن گزار دوں گا میں

زیست تجھ بن گزار دوں گا میں خواہشوں کو بھی مار دوں گا میں یوں بھی یہ زندگی تو فانی ہے تیرا صدقہ اتار دوں گا میں جانتا ہوں سنی نہ جائے گی پر صدا بار بار دوں گا میں تیری رسوائی کا نہ ڈر ہو اگر سر محشر پکار دوں گا میں ساری دنیا کی نعمتیں دانشؔ تری مسکاں پہ وار دوں گا میں

مزید پڑھیے

دل کو جس چیز کی حسرت ہے ہمیں جانتے ہیں

دل کو جس چیز کی حسرت ہے ہمیں جانتے ہیں وہ کوئی چاند سی صورت ہے ہمیں جانتے ہیں ہمیں کس شخص کی عادت ہے تمہی جانتے ہو تمہیں کس شخص کی عادت ہے ہمیں جانتے ہیں تیرا ہنسنا تو قیامت ہے ہمیں ہے معلوم تیرا رونا بھی مصیبت ہے ہمیں جانتے ہیں یوں تو دعویٰ ہے محبت کا تمہیں ہم سے مگر تمہیں جس ...

مزید پڑھیے

شور عطش جو پھولوں کی ہر انجمن میں ہے

شور عطش جو پھولوں کی ہر انجمن میں ہے کیفیت بہار کی شدت چمن میں ہے فیض نسیم سے ہیں کھلے گل روش روش فردوس کی بہار ہمارے چمن میں ہے وہ کیفیت کہاں ہے مئے‌ نو کشید میں جو لطف جو مزا کہ شراب کہن میں ہے شہناز گل بتا دے ذرا اہل شوق کو خوشبو یہ کس بدن کی ترے پیرہن میں ہے ساحرؔ کے فیض‌ و ...

مزید پڑھیے

تیرا کیا جاتا جو ملتا جام ریحانی مجھے

تیرا کیا جاتا جو ملتا جام ریحانی مجھے مے کے بدلے ساقیا تو نے دیا پانی مجھے مے گساری میں وہ اب پہلی سی کیفیت نہیں دے دیا ساقی نے کیا بے کیف سا پانی مجھے اب کسی مشروب سے دل چین پا سکتا نہیں کاش وہ آ کر پلا دے تیغ کا پانی مجھے وہ تپ غم ہے کہ سوکھے ہیں لب و کام و دہن کاش آ کر وہ ...

مزید پڑھیے

غم حیات پہ خنداں ہیں تیرے دیوانے

غم حیات پہ خنداں ہیں تیرے دیوانے عجیب صاحب عرفاں ہیں تیرے دیوانے ہر ایک ذرۂ صحرا ہے آئینہ خانہ ہجوم جلوہ سے حیراں ہیں تیرے دیوانے دیوانے نہ اپنے ہوش کی پروا نہ اپنے درد کا فکر غم زمیں سے پریشاں ہیں تیرے دیوانے کہاں یہ ہوش کہ اوروں کی زندگی پہ ہنسیں خود اپنے حال پہ خنداں ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4498 سے 6203