قومی زبان

آج دل سے دعا کرے کوئی

آج دل سے دعا کرے کوئی حق الفت ادا کرے کوئی جس طرح دل مرا تڑپتا ہے یوں نہ تڑپے خدا کرے کوئی جان و دل ہم نے کر دیے قرباں وہ نہ مانے تو کیا کرے کوئی دل بیتاب کی تمنا ہے پھر کہوں میں سنا کرے کوئی مست نظروں سے خود مرا ساقی پھر پلائیے پیا کرے کوئی مئے عرفاں کے ہم بھی ہیں مشتاق در مے ...

مزید پڑھیے

رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہے

رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہے پھر کوئی لے کے بہاروں کا پیام آیا ہے بادہ خواران فنا بڑھ کے قدم لو اس کے لے کے ساغر میں جو صہبائے دوام آیا ہے میں نے سیکھا ہے زمانے سے محبت کرنا تیرا پیغام محبت مرے کام آیا ہے رہبر جادۂ حق نور خدا ہادی دیں لے کے خالق کا زمانے میں پیام آیا ...

مزید پڑھیے

تمام نور تجلی تمام رنگ چمن

تمام نور تجلی تمام رنگ چمن یہ تیرا چاند سا چہرہ یہ تیرا گل سا بدن نہ ڈگمگائے قدم گرچہ راہ الفت میں کہیں تھے دشت و بیابان کہیں تھے دار و رسن ہزار آئے زمانے میں انقلاب مگر مزاج حسن کا بدلا نہ عشق ہی کا چلن ثبات و صبر ضروری ہے آدمی کے لئے شکن جبیں پہ نہ آئے بوقت رنج و محن یہ بات ...

مزید پڑھیے

اس راہ میں آتے ہیں بیاباں بھی چمن بھی

اس راہ میں آتے ہیں بیاباں بھی چمن بھی کہتے ہیں جسے زیست شبستاں بھی ہے رن بھی کیا ہو گیا انسان کا وہ شوق شہادت ویران نظر آتے ہیں اب دار و رسن بھی بجھ جائے گی مل جل کے اگر پیاس بجھاؤ گنگا ہی کے نزدیک تو ہے رود جمن بھی اب لالہ بد اماں نہ کوئی چاک گریباں ویران چمن ہی نہیں سنسان ہے بن ...

مزید پڑھیے

وہ سلیقہ ہمیں جینے کا سکھا دے ساقی

وہ سلیقہ ہمیں جینے کا سکھا دے ساقی جو غم دہر سے بیگانہ بنا دے ساقی جام و مینا مری نظروں سے ہٹا دے ساقی یہ جو آنکھوں میں چھلکتی ہے پلا دے ساقی شعلۂ عشق سے چھلکا دے مرے شیشے کو اور بیتاب کو بیتاب بنا دے ساقی حرم و دیر میں بٹ جاتے ہیں رندان وفا حرم و دیر کی تفریق مٹا دے ساقی سن رہا ...

مزید پڑھیے

نگاہ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہوگا

نگاہ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہوگا اگر پھر ترک توبہ کا پیام آیا تو کیا ہوگا حرم والے تو پوچھیں گے بتا تو کس کا بندہ ہے خدا سے پہلے لب پر ان کا نام آیا تو کیا ہوگا مجھے منظور ان سے میں نہ بولوں گا مگر ناصح اگر ان کی نگاہوں کا سلام آیا تو کیا ہوگا چلا ہے آدمی تسخیر مہر و ماہ کی ...

مزید پڑھیے

کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئی

کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئی صبا کے پاؤں تھک گئے مگر بہار آ گئی چمن کی جشن گاہ میں اداسیاں بھی کم نہ تھیں جلی جو کوئی شمع گل کلی کا دل بجھا گئی بتان رنگ رنگ سے بھرے تھے بت کدہ مگر تیری ادائے سادگی مری نظر کو بھا گئی میری نگاه تشنہ لب کی سر خوشی نہ پوچھئے کے جب اٹھی نگاہ ناز ...

مزید پڑھیے

یہ آنکھیں راہ تکتی ہیں تمہیں یہ من بلاتا ہے

یہ آنکھیں راہ تکتی ہیں تمہیں یہ من بلاتا ہے چلے آؤ تمہیں سونا مرا آنگن بلاتا ہے برستی روز ہیں آنکھیں یہ بارش ہی نہیں رکتی تمہیں بھیگے ہوئے اشکوں کا یہ دامن بلاتا ہے جہاں پینگیں بڑھاتے تھے شجر وہ یاد کرتے ہیں وہ جھولے پوچھتے ہیں اب تمہیں ساون بلاتا ہے گلستاں جب سے اجڑا ہے ...

مزید پڑھیے

زمانے میں کسی سے اب وفائیں کون کرتا ہے

زمانے میں کسی سے اب وفائیں کون کرتا ہے یہاں سب زخم دیتے ہیں دوائیں کون کرتا ہے گلہ شکوہ نہیں کوئی مگر سب کچھ سمجھتا ہوں بجھانے کو دیے میرے ہوائیں کون کرتا ہے لٹا ہو کارواں جس کا اجالوں کے اشاروں سے اندھیری رات چلنے کی خطائیں کون کرتا ہے یہاں انسان کی چھوڑو پرندے بھی سمجھتے ...

مزید پڑھیے

پہنا بھی کچھ زمانے نے ایسا لباس ہے

پہنا بھی کچھ زمانے نے ایسا لباس ہے ماحول پہ زمانے کے غیرت اداس ہے وہ بھول جائیں ہم کو تو ہے ان کا ظرف یہ ہم کو تو اب بھی ان کی محبت کا پاس ہے چہرے سے اپنے زلف ہٹا دیجئے ذرا بیتاب دل ہے دید کی آنکھوں کو پیاس ہے اب تو تمہارے غم کے سہارے ہے زندگی ہم کو خوشی زمانے کی آئی نہ راس ہے دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4497 سے 6203