قومی زبان

نہ ہم اب یاد میں اس کی کبھی آنسو بہائیں گے

نہ ہم اب یاد میں اس کی کبھی آنسو بہائیں گے نہ اس کے چھوڑ جانے پر کبھی خود کو رلائیں گے ہمیں بھی روٹھ جانے کا ہنر تو خوب آتا ہے اگر وہ حد سے بڑھ کر جان جاں ہم کو ستائیں گے ہمیں کب زیب دیتا ہے کہ آنسو ان کو دکھلائیں ہم اپنی داستان غم انہیں ہنس کر سنائیں گے اندھیروں سے وہ ڈرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

ذرا یہ کام میرے مہرباں کر

ذرا یہ کام میرے مہرباں کر خموشی کو کبھی اپنی زباں کر میں اپنے آپ سے چھپ سی گئی ہوں کبھی آ کر مجھے مجھ پر عیاں کر ارے درد جدائی ملتجی ہوں مرے دل میں اتر مجھ میں مکاں کر طبیعت مضمحل رہنے لگی ہے کسی کا حال مجھ سے مت بیاں کر دل و جاں پر گزر جائے قیامت ستم مجھ پر نہ یوں درد نہاں ...

مزید پڑھیے

صرف ان کے دل میں بسنے کے لئے

صرف ان کے دل میں بسنے کے لئے بک گئے ہم ایک سپنے کے لئے قطرے قطرے پر لکھی ہے داستاں آئے گا کیا کوئی پڑھنے کے لئے ایسی عادت غم کی ہم کو ہو گئی چاہیے غم کوئی ہنسنے کے لئے پہلے نوچا ہے پروں کو اور پھر کر دیا آزاد اڑنے کے لئے سوچتے ہیں آستیں کو دیکھ کر کیا انہیں پالا تھا ڈسنے کے ...

مزید پڑھیے

الفت کے جب سے عام کئی راز ہو گئے

الفت کے جب سے عام کئی راز ہو گئے بدلے ہوئے جہان کے انداز ہو گئے حالانکہ روز آتے تھے مرضی سے اپنی وہ اک دن بلایا ہم نے تو ناراض ہو گئے پل پل بدلتے رنگ ہیں انسان کس کس طرح سمجھا تھا جن کو دوست دغاباز ہو گئے جن کا کوئی اتا نہ پتا تھا کسی کو بھی چڑیا ہوئی جواں تو کئی باز ہو گئے وہ ...

مزید پڑھیے

بے پرواہ عمر

دیکھو تم گنتی نمبروں کے حساب کتاب میں مت جاؤ سب دکھاوا چھلاوا سا ہے میں تو ابھی بھی وہی اسٹاپو کھیلنے کی باری کے انتظار میں ہوں گھر پر پیر پٹکتی ننھی بچی سی موٹے موٹے آنسو لئے کونے میں بیٹھی سی ہوں بارشوں میں چھپ چھپ کر مٹی میں سنے پاؤں سے بے پرواہ ہوا سی ہوں کہرے سے بھرے شیشے پر ...

مزید پڑھیے

رنگین جلد

تم میری مضبوط سی دیوار ہو میرے کمزور پلوں کی جلد سی تبھی ہر موسم سے بے خوف بچایا ہے اسے جلد سخت اور وہی رنگین سی رہے پچھلے برس یاد ہے کتنی امس تھی ہم گلنے سے لگے تھے آنسوؤں سے یا بدلے موسم سے شاید دونوں سے جانتی ہوں جلد کی فطرت کسی بندھی پختہ کونے روندنے کے بعد بھی مضبوط سی لیکن اب ...

مزید پڑھیے

نقاب

مسلسل گر یہ گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا تو یقیناً تمہیں محبت ہو جاتی ابھی ان سے انس ہوا ہی تھا کہ تلخیاں نظر آنے لگی شاید وابستہ تھے ہم کبھی کہیں ورنہ خدایا کوئی سبب تو دے میری بے‌ چینیوں کا کوئی گلہ کوئی شکوہ کچھ تو کر محبت نہ سہی یقیناً پر یہ شیرے سے گھلے لہجے کا پردہ فاش تو کر

مزید پڑھیے

پوچھتا کون وفا سے اس کی

پوچھتا کون وفا سے اس کی مر گئے لوگ بلا سے اس کی دیکھو کس طور سنور جاتا ہے مجھ سا صحرا بھی گھٹا سے اس کی یار ہم خاک بہ سر خاک نشیں اس فضا میں ہیں ہوا سے اس کی اب کوئی صبح جگائے گی کیا ہم کو اٹھنا ہے صدا سے اس کی لوٹ جائے گی بہار اس کے ساتھ سبز موسم ہے فضا سے اس کی ذکر کرتے ہیں قضا ...

مزید پڑھیے

مرے کمرے میں پوری چاندنی ہے

مرے کمرے میں پوری چاندنی ہے فقط تیری کمی باقی رہی ہے میں صحرا میں تسلی سے رہوں گا مسلسل تشنگی ہی تشنگی ہے خموشی اوڑھ کر بیٹھے ہیں سب پیڑ یے بارش آج کتنی خشک سی ہے ہوا آئی ہے کس دنیا سے ہو کر ہر اک ٹہنی شجر کی کانپتی ہے ابھی تو سردیوں کا دور ہوگا فضا رونا تھا جتنا رو چکی ہے میں ...

مزید پڑھیے

اک ہرے خط میں کوئی بات پرانی پڑھنا

اک ہرے خط میں کوئی بات پرانی پڑھنا کتنا مشکل ہے کسی آنکھ کا پانی پڑھنا کچھ نہ کچھ سوچنا بس سوچنا یوں ہی دن بھر اور پھر رات میں پریوں کی کہانی پڑھنا ایک ہی چہرے کی بوچھار ہے قصہ اپنا میری آنکھوں سے اسے دشمن جانی پڑھنا کود جانا تری یادوں کے سمندر میں پھر ڈوبتے ڈوبتے موجوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4453 سے 6203