قومی زبان

ایک دن دے گی دغا ایسا کبھی سوچا نہ تھا

ایک دن دے گی دغا ایسا کبھی سوچا نہ تھا زندگی کا روپ یہ ہم نے کبھی دیکھا نہ تھا میں پکڑ لائی تھی جگنو روشنی کے واسطے کالی راتوں کا تسلسل تھا ترا چہرہ نہ تھا بس انا تھی دو دلوں کے درمیاں جھوٹی انا بیچ میں ورنہ ہمارے فاصلہ اتنا نہ تھا آخرش میں اپنے اندر کی کمی میں مر گئی تم کو میرے ...

مزید پڑھیے

مجھے بارش سے کہنے دو

مجھے بارش سے کہنے دو جواں جذبوں میں بہنے دو کہ جب بارش برستی ہے ہوائیں سرد چلتی ہیں مجھے وہ یاد آتے ہیں مرے آنسو بہاتے ہیں مجھے بارش سے کہنے دو جواں جذبوں میں بہنے دو مجھے وہ رات کا منظر ابھی تک یاد ہے صاحب کھلی چھت پر تمہارے سنگ رہ کر بھیگ جانا بھی مجھے بارش سے کہنے دو جواں جذبوں ...

مزید پڑھیے

محبت تو دعا ہے

محبت بھیک میں ہرگز نہیں ملتی محبت دان بھی کوئی نہیں کرتا کہ یہ خیرات ہوتی ہے محبت تو محبت ہے یہ خوشبو کی طرح کا کوئی ساتھ ہوتا ہے کوئی احساس ہوتا کسی کے ہاتھ میں جیسے کسی کا ہاتھ ہوتا ہے محبت تو فقط سانسوں میں بستی ہے کہیں دل کے نہاں خانوں میں پلتی ہے محبت کا جو رستہ ہے بہت دشوار ...

مزید پڑھیے

تو شاہ میرا ہے

کسی دن جب تھکن سے چور ہو کر آؤں گی پھر میں ترے در پر ترے شانے پہ سر رکھ کر میں سب رنج و الم اپنے میں اپنی ساری مجبوری میں اپنی ساری محرومی پھر اشکوں کو بہاؤں گی وہ میرا درد دکھ سارا رگوں میں لاوا بن کر جو ابلتا ہے تو میرا سائیں ہے اور شاہ میرا ہے میں لفظوں کی بھکارن ہوں یہ کاسہ خالی ...

مزید پڑھیے

تیرا سہارا شاہ مجھے ہے

بپتا موری کون سنے گا تیرا سہارا شاہ مجھے ہے بیری تورے پیار میں کملی ہار گئی دل وار گئی بکھر رہی ہے تنہائی میں مجھ کو بانہوں میں بھر لے کر تو مجھ کو پیار پیا جیون تجھ پر وار دیا تورے بن میں ہوں ادھوری ہوں تو چھو لے تو پوری ہوں وصل کیا تو ڈرنا کیا ہجر نہ مجھ میں بھرنا پیا پیار نبھانا ...

مزید پڑھیے

جب بارش برستی ہے

تمہاری دید کی خاطر مری آنکھیں ترستی ہیں کہ جب بارش برستی ہے تمہاری بات کانوں میں عجب رس گھول دیتی ہے کہ بارش کے حسیں قطرے مرے رخسار پر آئے تمہیں وہ پھول لگتے تھے کہا تو نے انہیں میں چوم لیتا ہوں مری شرم و حیا اس دم بڑی بے باک ہوتی تھی کمر میں ہاتھ ڈالے ہم بہت ہی دیر تک بھیگے کہا میں ...

مزید پڑھیے

ذرا بھی شور موجوں کا نہیں ہے

ذرا بھی شور موجوں کا نہیں ہے سفینہ تو کوئی ڈوبا نہیں ہے تمہارا حسن کیا ہے کیا نہیں ہے تمہیں خود اس کا اندازا نہیں ہے تری محفل کا کس سے حال پوچھیں وہاں جا کر کوئی پلٹا نہیں ہے یہ مے خانہ ہے اک جائے مقدس چلے آؤ یہاں دھوکا نہیں ہے وہ اس پر ہو گئے ہیں اور برہم کہ راہیؔ کو کوئی شکوا ...

مزید پڑھیے

اس شہر نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے

اس شہر نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے ہر ہاتھ میں دولت ہے ہر آنکھ سوالی ہے شاید غم دوراں کا مارا کوئی آ جائے اس واسطے ساغر میں تھوڑی سی بچا لی ہے ہم لوگوں سے یہ دنیا بدلی نہ گئی لیکن ہم نے نئی دنیا کی بنیاد تو ڈالی ہے اس آنکھ سے تم خود کو کس طرح چھپاؤگے جو آنکھ پس پردہ بھی دیکھنے ...

مزید پڑھیے

چاک پر مٹی کو مر جانا ہے

چاک پر مٹی کو مر جانا ہے خواب تعمیر بکھر جانا ہے ہم کو اس دشت میں جانا ہوگا وحشتوں کا یہی ہرجانا ہے صاحبو ہم ہیں اسی صف کے لوگ جن سے صحرا کو سنور جانا ہے سامنے حشر کی حد ہے صاحب اب ہمیں لوٹ کے گھر جانا ہے قبر گاہ ہیں صداؤں کی یہاں بس یہیں ہم کو بھی مر جانا ہے تم کو کھونے کا ...

مزید پڑھیے

زمانے ٹھیک ہے ان سے بہت ہوئے روشن

زمانے ٹھیک ہے ان سے بہت ہوئے روشن مگر چراغ کہاں خود کو کر سکے روشن سبھی کے ذہن میں اس کا خیال رہتا ہے اس ایک نور سے ہے کتنے آئنے روشن ابھی تو ہم کو کئی روز جگمگانا ہے ہمیں ہے دشت میں اک آخری دئیے روشن مہک اسی کی مری رہنمائی کرتی ہے اسی کی چاپ سے ہوتے ہیں راستے روشن ہم ایک عمر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4451 سے 6203