دوپہر ہونے کو ہے سنا گیا جنگل تمام
دوپہر ہونے کو ہے سنا گیا جنگل تمام اک کرن شاخوں سے چھن کر آ رہی ہے پھول پر جس طرح اک گاؤں کی دوشیزۂ معصوم پر شہر کے بے غیرت و بے مہر انساں کی نظر
دوپہر ہونے کو ہے سنا گیا جنگل تمام اک کرن شاخوں سے چھن کر آ رہی ہے پھول پر جس طرح اک گاؤں کی دوشیزۂ معصوم پر شہر کے بے غیرت و بے مہر انساں کی نظر
جب کسی کی یاد آ کر تلملا جاتا ہے دل جگمگا اٹھتی ہے کچھ اس شان سے بزم دماغ جیسے ساون کی برستی رات میں اک نازنیں صحن میں زینے سے اترے ہاتھ میں لے کر چراغ
آسماں پر ہیں خراماں ابر پاروں کے ہجوم اس طرح کھل کھل کے چھپتی ہے جبین آفتاب جس طرح ہمسایوں کی آمد سے ہنگام سحر گھر میں شرمیلی نئی دلہن کا انداز نقاب
دوپہر میدان گرمی حبس ابر بے متاع سرنگوں ہے خار و خس پر اک گل فیروزہ فام نادم و بے مایہ محزوں مضمحل اندوہ گیں جیسے اک بے رحم و بے انصاف آقا کا غلام
رو رہا تھا گود میں اماں کی اک طفل حسیں اس طرح پلکوں پہ آنسو ہو رہے تھے بے قرار جیسے دیوالی کی شب ہلکی ہوا کے سامنے گاؤں کی نیچی منڈیروں پر چراغوں کی قطار
یاس میں بیداریٔ احساس کا عالم نہ پوچھ ٹھیس یوں لگتی ہے دل پہ طعنۂ ہم راز سے جس طرح سردی کی افسردہ اندھیری رات میں آنکھ کھل جاتی ہے چوکیدار کی آواز سے
مفلسی اور اس میں گھر پر ہم نشینوں کا ہجوم تیرگی میں یاس کی دھندلا گیا حسن امید اس طرح ہے دل پہ اک افسردگی چھائی ہوئی جس طرح پردیس میں بیکار مزدوروں کی عید
بھورے بھورے بادلوں سے آسماں لبریز ہے اس طرح ضو پاش ہے رہ رہ کے ماہ سیم فام جیسے ساحل کی بلندی سے بھری برسات میں گدلے پانی میں حسیں مچھلی کا انداز خرام
حوض میں گر پڑا گلاب کا پھول پاس لانے سے دور جاتا ہے جیسے مدت میں ملنے والے کا نام مشکل سے یاد آتا ہے
بیٹھے بیٹھے ان کی محفل یاد آ جاتی ہے جب دیکھتی ہے یہ سماں تخئیل کی اونچی نگاہ جیسے تھوڑی دیر ننھی بوندیاں پڑنے کے بعد چرخ پر خالی سمٹتے پھیلتے ابر سیاہ