قومی زبان

خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ

خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ تعارف غموں سے ہوا رفتہ رفتہ تھی چہرے کی رنگت تو نظروں کے آگے چلا رنگ دل کا پتہ رفتہ رفتہ بھلائی کئے جا یقیں رب پہ رکھ کر وہ دیتا ہے سب کو صلہ رفتہ رفتہ سنی بھوکے بچے نے جب ماں کی لوری تو رو رو کے وہ سو گیا رفتہ رفتہ ترے بن بھی کٹ جائے گی عمر لیکن چھڑا ...

مزید پڑھیے

بدلتے پہلو

کتنی دل کش ہوتی ہیں خوش فہمیاں ختم ہونے سے پہلے بڑے رنگین ہوتے ہیں خواب بکھرنے سے پہلے بہت حسین ہوتے ہیں پھول مرجھانے سے پہلے بے حد خوبصورت ہوتی ہے محبت بے وفائی سے پہلے ہر آغاز پہنچتا ہے انجام کو ملن کا پیچھا کرتی ہے جدائی دن کے پہلو میں رہتی ہے رات اور زندگی کا دامن تھامے سایہ ...

مزید پڑھیے

لاشیں

لاش کو دفنانا آسان کام نہیں ہے مرنے والے کے احباب کو لگتا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے اور کسی بھی وقت اٹھ کر انہیں گلے لگا سکتا ہے یہی سوچ کر وہ اس لاش کے دامن کو چھوڑنا نہیں چاہتے کوئی معجزہ ہونے پر ہی لاش میں جان آ سکتی ہے چاہے وہ موت انسان کی ہو یا کسی رشتے کی

مزید پڑھیے

کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئے

کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئے وقت کو آگے بڑھانا ہے کہانی چاہئے تو مری دہلیز پر آ کر ٹھہر جاتا ہے کیوں تو تو دریا ہے تجھے تو بس روانی چاہئے ہاتھ میں جس کے بھی دیکھو آگ کا کشکول ہے اور ہر اک کشکول کو کچھ بوند پانی چاہئے زندگی اور موت دونوں میں ہے اک رنگ کرم تم بتاؤ تم کو کس ...

مزید پڑھیے

یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا

یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا لبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھنا تمناؤں کے اندھے شہر میں جب مانگنے نکلو تو چادر صبر کی صدیوں پرانی پشت پر رکھنا میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا تجھے بھی اس کہانی میں کہیں کھونا ...

مزید پڑھیے

وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیا

وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیا یہاں اک جزیرہ بنا دیا وہاں اک جزیرہ ڈبو دیا یہ بنانے والے کا شوق ہے کہیں ہار ہے کہیں طوق ہے کہیں واہ ہے کہیں آہ ہے کہیں پا لیا کہیں کھو دیا وہ اسیر حسن بیان ہوں میں زبان کا وہ کسان ہوں کہ زمین مجھ کو جہاں دکھی وہیں اک خیال کو ...

مزید پڑھیے

شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا

شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا کہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دینا حدود میں اپنی رہ کے شاید بچا سکوں میں وجود اپنا میں ایک قطرہ ہوں مجھ کو دریا کے راستے پر نہ ڈال دینا اگر خلا میں پہنچ گیا تو پلٹ کے واپس نہ آ سکوں گا تم اپنی حد کشش سے اونچا نہ ...

مزید پڑھیے

ناکام ولولوں کو لیے بھاگتے رہے

ناکام ولولوں کو لیے بھاگتے رہے ہم سر پہ دلدلوں کو لئے بھاگتے رہے نادیدہ منزلوں کی طرف ہم تمام عمر حاجت کے قافلوں کو لیے بھاگتے رہے وہ خوف تھا کہ درد کا احساس ہی نہ تھا تلووں میں آبلوں کو لیے بھاگتے رہے فرصت کہاں تھی دفن کریں میتوں کو ہم بس مردہ حوصلوں کو لیے بھاگتے رہے چھوڑا ...

مزید پڑھیے

مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھے

مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھے وہ تھوڑا تھوڑا روز چراتا رہا مجھے میرے پروں میں میری زمیں باندھنے کے بعد وہ اپنی کہکشاں میں بلاتا رہا مجھے ہر رات آنسوؤں سے بھگویا مرا بدن ہر صبح دھوپ دے کے سکھاتا رہا مجھے سگریٹ پیتا میں بھی لبوں سے لگا رہا وہ بھی دھواں بنا کے اڑاتا رہا ...

مزید پڑھیے

جو اصل ہے میری وہی پوشاک پہن لوں

جو اصل ہے میری وہی پوشاک پہن لوں سب کھیل ہوئے ختم چلوں خاک پہن لوں ہو جاؤں گا اس منظر گلشن میں کہیں ضم گل رنگ کوئی کرتا صد چاک پہن لوں غم ناکوں میں ہنستا ہوا اچھا نہ لگوں گا ٹھہرو میں کوئی چہرۂ غم ناک پہن لوں اس نرم بیانی کو مری کون سنے گا آواز پہ اک لہجۂ سفاک پہن لوں جانا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4400 سے 6203