قومی زبان

ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم

ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم نظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسم ہم اپنے گم گشتہ ولولوں پر خنک ہواؤں کے قہقہوں کا جواب دیتے جو ساتھ لاتا ہمارا عہد شباب موسم وہ ایک بنجر زمین گھر کی جو سن رہی تھی سبھی کے طعنے خوشا کہ اس بار اس زمیں کو بھی دے گیا اک گلاب ...

مزید پڑھیے

ظلمت کشی کا قصد کیا اور چل پڑے

ظلمت کشی کا قصد کیا اور چل پڑے مٹھی میں جگنوؤں کو لیا اور چل پڑے آتی رہے گی موت کو آنا جہاں پہ ہے ہم نے تو اپنا زہر پیا اور چل پڑے صحرا سے شہر آنے میں اور اہتمام کیا دامن کا اپنے چاک سیا اور چل پڑے ہم سے بدن بدوشوں کا رخت سفر کہاں بس اپنا خاکدان لیا اور چل پڑے عجلت تھی ہم کو چاند ...

مزید پڑھیے

مرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیا

مرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیا اسی کو کرنا تھا آخر معاف اسی نے کیا یہ میرا گوشۂ دل پاک اسی کے دم سے ہے کہ رات دن کا یہاں اعتکاف اسی نے کیا بنا بتائے وہ دل میں سما بھی سکتا ہے اتر کے دل میں یہ سب انکشاف اسی نے کیا میں اس کے عہد پہ اب بھی ہوں منتظر اس کا خود اپنے عہد سے بھی انحراف ...

مزید پڑھیے

دامن تیرا مجھ سے چھوٹا ملنے کے حالات نہیں

دامن تیرا مجھ سے چھوٹا ملنے کے حالات نہیں لیکن تجھ کو بھول سکوں میں ایسی بھی تو بات نہیں بدلے بدلے سے لگتے ہیں آج یہ تیرے تیور کیوں پہلے جیسے کیوں اب تیرے پیار کے وہ جذبات نہیں میرے ہاتھ کی ساری لکیریں الجھی الجھی لاکھ سہی ان میں مجھ کو تو مل جائے ہوگی میری مات نہیں تم سے بچھڑے ...

مزید پڑھیے

جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا

جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا لوٹ جاتا ہے پھر کدھر تنہا کچھ دعا بھی تو ہو مریض کے نام کب دوا کا ہوا اثر تنہا مدتوں خود کو ہی تراشا ہے سیپ میں رہ کے اک گہر تنہا عمر بھر سب کے کام آیا جو رو پڑا خود کو دیکھ کر تنہا سب مسرت میں ساتھ دیتے ہیں غم اٹھائیں گے ہم مگر تنہا ترک الفت جو اس نے کی ...

مزید پڑھیے

ہے نہیں کوئی ناخدا دل کا

ہے نہیں کوئی ناخدا دل کا دل ہی ہے ایک آسرا دل کا چار سو بے خودی میں پھرتا ہے کچھ ٹھکانا نہیں رہا دل کا رسم دنیا کو کیوں یہ مانے گا ہے الگ جگ سے قاعدہ دل کا شیخ و پنڈت کو کوئی سمجھائے رب سے رہتا ہے رابطہ دل کا راہ انسانیت ہی اول ہے ہے یقیناً یہ فلسفہ دل کا دو جہاں بھی یہاں سما ...

مزید پڑھیے

ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت

ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت رات تاریک سہی ایک ستارا ہے بہت درد اٹھتا ہے جگر میں کسی طوفاں کی طرح تب تری یادوں کے دامن کا کنارہ ہے بہت ظلم جس نے کئے وہ شخص بنا ہے منصف ظلم پر ظلم نے مظلوم کو مارا ہے بہت راہ دشوار ہے پگ پگ پہ ہیں کانٹے لیکن راہ رو کے لئے منزل کا اشارہ ہے ...

مزید پڑھیے

زیست میں غم ہیں ہم سفر پھر بھی

زیست میں غم ہیں ہم سفر پھر بھی تا اجل کرنا ہے بسر پھر بھی ٹوٹی پھوٹی ہوں چاہے دیواریں اپنا گھر تو ہے اپنا گھر پھر بھی چاہے انکار ہم کریں سچ کا ہووے ہے ذہن پر اثر پھر بھی دل مچلتا ہے ان سے ملنے کو ہم چراتے رہے نظر پھر بھی ہے یقیں تم ہمیں نہ بھولو گے اک زمانہ گیا گزر پھر بھی ہیں ...

مزید پڑھیے

درد اکسیر کے سوا کیا ہے

درد اکسیر کے سوا کیا ہے زخم دل کے بنا مزا کیا ہے میری سانسوں میں بس گئی ہے مہک ہائے اس کوچے کی ہوا کیا ہے وصل کے چار دن تو بیت گئے صرف یادیں ہیں اب بچا کیا ہے دل دیا جس کو وہ ہوا غافل جرم اظہار کی سزا کیا ہے کھو گیا وہ جہاں کے میلے میں میری دنیا میں اب رہا کیا ہے بات ہوتی تھی کل ...

مزید پڑھیے

اے غم دل یہ ماجرا کیا ہے

اے غم دل یہ ماجرا کیا ہے درد الفت سے واسطہ کیا ہے رہنے دو ان حسین وعدوں کو جھوٹے وعدے ہیں سب نیا کیا ہے جام و مینا کو چھوڑ کر دیکھو چشم ساقی کا یہ نشہ کیا ہے شعلۂ غم کو اور بھڑکائے کون سمجھے کہ یہ ہوا کیا ہے چھن گیا ہے سکون بھی میرا عاشقی نے مجھے دیا کیا ہے چارہ گر کوئی بھی نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4399 سے 6203