سورج سے بھی آگے کا جہاں دیکھ رہا ہے
سورج سے بھی آگے کا جہاں دیکھ رہا ہے اس دور کا انسان کہاں دیکھ رہا ہے حالات نے جس کے سبھی پر کاٹ دئے ہیں وہ آج بھی منزل کا نشاں دیکھ رہا ہے عیار بہت ہے یہاں تخریب کا موجد وہ برف کے جنگل میں دھواں دیکھ رہا ہے اک روز پکڑ لے گا وہ قاتل کا گریباں جو وقت کی رفتار زباں دیکھ رہا ہے صدیوں ...