قومی زبان

نشان زندگی

کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پر کون ہے جو کہ دبے پاؤں چلا آیا ہے میرے بے رنگ ہیولے کا تعاقب کرتا میں تو محتاط تھا ایسا کہیں آتے جاتے اپنے سائے کو بھی پاتال میں چھوڑ آتا تھا اپنا سامان اٹھاتا تو شب نصف پہر دست ہشیار مٹاتا مرے قدموں کا سراغ جسم ہر سانس کی آواز مقفل رکھتا خاک ...

مزید پڑھیے

کیسے کبھی کسی کو دکھائے گا آئینہ

کیسے کبھی کسی کو دکھائے گا آئینہ جب ایک دوسرے کو لڑائے گا آئینہ جس روشنی پہ عکس کا دار و مدار ہے اس روشنی کو کون دکھائے گا آئینہ فطرت میں اس کی ناز خرامی نہیں تو پھر کیوں کر کسی کے ناز اٹھائے گا آئینہ سمجھو کہ آئینے کا جنازہ نکل گیا جس دن امیر شہر کو بھائے گا آئینہ ایسا نہیں کہ ...

مزید پڑھیے

کتنا کمزور ہے ایمان پتا لگتا ہے

کتنا کمزور ہے ایمان پتا لگتا ہے گھر میں آیا ہوا مہمان برا لگتا ہے میں نے ہونٹوں پہ تبسم تو سجا رکھا ہے غم بھلانے میں مگر وقت بڑا لگتا ہے آپ بیکار مجھے شجرہ دکھانے آئے آپ جو بھی ہیں وہ لہجے سے پتا لگتا ہے جب ملاتا ہوں نظر تو نہیں ملتی نظریں جب ہٹاتا ہوں نظر اس کو برا لگتا ...

مزید پڑھیے

مقصد زندگی ڈھونڈھتا رہ گیا

مقصد زندگی ڈھونڈھتا رہ گیا اک سرا جب ملا دوسرا رہ گیا امتحاں کے لئے اور کیا رہ گیا اے خدا بس ترا آسرا رہ گیا ایسے رکھا گیا مجھ کو تصویر میں زندگی بھر مرا سر جھکا رہ گیا خود بھی شامل رہا ڈھونڈنے میں اسے عمر بھر جس کو میں ڈھونڈھتا رہ گیا وقت کی دھوپ میں مٹ گئے سب نشاں دل کے کاغذ ...

مزید پڑھیے

تبصرہ کیوں کر رہے ہو بارہا اجداد پر

تبصرہ کیوں کر رہے ہو بارہا اجداد پر فیصلہ ہوگا تمہارا آج کی بنیاد پر بات تیری مل ملا کر ٹھیک ہے نقاد پر شعر اچھا یا برا ہے منحصر ہے داد پر سب حفاظت کر رہیں ہیں مستقل دیوار کی جب کہ حملہ ہو رہا ہے مستقل بنیاد پر کیسے نکلو گے بھلا اپنے گنہ کے جال سے تم نے تو الزام سارا رکھ دیا صیاد ...

مزید پڑھیے

جب کبھی درد کی تصویر بنانے نکلے

جب کبھی درد کی تصویر بنانے نکلے زخم کی تہہ میں کئی زخم پرانے نکلے چین ملتا ہے ترے شوق کو پورا کر کے ورنہ اے لخت جگر کون کمانے نکلے وقت کی گرد میں پیوست تھے سب زخم مرے جب چلی تیز ہوا لاکھ فسانے نکلے یہ کسی طور بھی اللہ کو منظور نہیں کہ تو احسان کرے اور جتانے نکلے پہلے نفرت کی وہ ...

مزید پڑھیے

تجھے بھی حسن مطلق کا ابھی دیدار ہو جائے

تجھے بھی حسن مطلق کا ابھی دیدار ہو جائے مرے محبوب کے جو رو بہ رو اک بار ہو جائے سکون و چین مل جائے خدا بھی یار ہو جائے اگر انسان میں انسانیت بیدار ہو جائے لہو میں گرم جوشی رکھ قلم میں زور پیدا کر نہیں تو ہر قدم پر اک نئی دیوار ہو جائے قلندر ہوں مجھے شہرت کی چاہت ہی نہیں ورنہ میں ...

مزید پڑھیے

ذرا بتلا زماں کیا ہے مکاں کے اس طرف کیا ہے

ذرا بتلا زماں کیا ہے مکاں کے اس طرف کیا ہے اگر یہ سب گماں ہے تو گماں کے اس طرف کیا ہے اگر پتھر سے بکھرے ہیں تو آخر یہ چمک کیسی جو مخزن نور کا ہے کہکشاں کے اس طرف کیا ہے یہ کیا رستہ ہے آدم گامزن ہے کس مسافت میں نہیں منزل تو پھر اس کارواں کے اس طرف کیا ہے عجب پاتال ہے دروازہ و دیوار ...

مزید پڑھیے

چل رہا ہوں پیش و پس منظر سے اکتایا ہوا

چل رہا ہوں پیش و پس منظر سے اکتایا ہوا ایک سے دن رات کے چکر سے اکتایا ہوا بے دلی ہشیار پہنچی مجھ سے پہلے تھی وہاں میں گیا جس انجمن میں گھر سے اکتایا ہوا ہو نہیں پایا ہے سمجھوتہ کبھی دونوں کے بیچ جھوٹ اندر سے ہے سچ باہر سے اکتایا ہوا اب مزین ہے تلفظ سے عوام الناس کے شعر صرف و نحو ...

مزید پڑھیے

صورت سحر جاؤں اور در بدر جاؤں

صورت سحر جاؤں اور در بدر جاؤں اب تو فیصلہ ٹھہرا رات سے گزر جاؤں واہموں کے زنداں کا ذہن ذہن قیدی ہے بول فکر تابندہ میں کدھر کدھر جاؤں میری نارسائی سے قافلہ نہ رک جائے میں کہ پا شکستہ ہوں راستے میں مر جاؤں عشق کی صداقت پر جبکہ میرا ایماں ہے کیسے خودکشی کر لوں کیوں بکھر بکھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4392 سے 6203