در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر
در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر یہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہر روداد گزشتہ تو سنی کوزہ گری کی فردا کا بھی کر ذکر جو ہے چاک سے باہر خوش آیا عجب عشق کو یہ جامۂ زیبا نکلا نہیں پھر ہجر کی پوشاک سے باہر چاہا تھا مفر دل نے مگر زلف گرہ گیر پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر آتا نہیں ...