قومی زبان

در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر

در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر یہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہر روداد گزشتہ تو سنی کوزہ گری کی فردا کا بھی کر ذکر جو ہے چاک سے باہر خوش آیا عجب عشق کو یہ جامۂ زیبا نکلا نہیں پھر ہجر کی پوشاک سے باہر چاہا تھا مفر دل نے مگر زلف گرہ گیر پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر آتا نہیں ...

مزید پڑھیے

اسی جنت جہنم میں مروں گا

اسی جنت جہنم میں مروں گا گئے موسم کو آوازیں نہ دوں گا نئے جسموں سے مقتل جاگتے ہیں نئے لوگوں کے رستے پر چلوں گا مری آنکھیں سلامت ہیں تو پھر میں پرائے خواب لے کر کیا کروں گا لہو کی سرخیاں میرے علم ہیں خزاں کے زرد لشکر سے لڑوں گا کسی خطے میں قتل روشنی ہو میں اپنے شہر پر نوحہ کہوں ...

مزید پڑھیے

عکس ابھرا نہ تھا آئینۂ دل داری کا

عکس ابھرا نہ تھا آئینۂ دل داری کا ہجر نے کھینچ دیا دائرہ زنگاری کا ناز کرتا تھا طوالت پہ کہ وقت رخصت بھید سائے پہ کھلا شام کی عیاری کا جس قدر خرچ کیے سانس ہوئی ارزانی نرخ گرتا گیا رسم و رہ بازاری کا رات نے خواب سے وابستہ رفاقت کے عوض راستہ بند رکھا دن کی نموداری کا ایسا ویران ...

مزید پڑھیے

یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کے

یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کے ذرا دکھا مرا رفتہ تو چرخ پلٹا کے ہے کائنات معمہ جدا طریقے کا فقط سلجھتا ہے آپس میں گرہیں الجھا کے نتیجہ ایک سا نکلا دماغ اور دل کا کہ دونوں ہار گئے امتحاں میں دنیا کے مسافروں سے رہا ہے وہ راستا آباد پلٹ کے آئے نہیں جس سے پیش رو جا کے یہ ہجر زاد ...

مزید پڑھیے

جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے

جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے اگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہے مسافرت کا ہنر ہے نہ واپسی کی خبر سو چل رہا ہوں جدھر بھی یہ راستا گیا ہے اماں کو نیل میسر نہ میں کوئی موسیٰ مجھے سپرد فراعین کر دیا گیا ہے سبب نہیں تھا زمیں پر اتارنے کا مجھے سبب بغیر ہی واپس اٹھا لیا گیا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ

کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ میں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچ بنا ہوا ہے تعلق سا استواری کا مرے طواف سے اس محور و مدار کے بیچ کہ آتا جاتا رہے عکس حیرتی اس میں بچھا دیا گیا آئینہ آر پار کے بیچ ہوا کے کھیل میں شرکت کے واسطے مجھ کو خزاں نے شاخ سے پھینکا ہے رہ گزار کے بیچ یہ ...

مزید پڑھیے

پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھ

پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھ باقی کے چار دن بھی گزار آئنے کے ساتھ حاسد بہت ہے پل میں ہویدا کرے خزاں اتنا نہ لگ کے بیٹھ بہار آئنے کے ساتھ پتھرا گئے ہیں لوگ تجلی سے حسن کی تھوڑا سا ڈال رخ پہ غبار آئنے کے ساتھ کرتا ہے عکس زیر و زبر نامراد وقت جب گھومتا ہے الٹے مدار آئنے کے ...

مزید پڑھیے

یہیں تھا بیٹھا ہوا درمیاں کہاں گیا میں

یہیں تھا بیٹھا ہوا درمیاں کہاں گیا میں کہ مل رہا نہیں اپنا نشاں کہاں گیا میں نہ کر رہا ہے فلاں کو فلاں خبر میری نہ پوچھتا ہے فلاں سے فلاں کہاں گیا میں نشان ملتا ہے حاضر میں کب گزشتہ کا بتا سکیں گے نہ آئندگاں کہاں گیا میں سجے ہوئے ہیں پیادہ و اسپ و فیل تمام بچھی ہوئی ہے بساط جہاں ...

مزید پڑھیے

منظر وقت کی یکسانی میں بیٹھا ہوا ہوں

منظر وقت کی یکسانی میں بیٹھا ہوا ہوں رات دن ایک سی ویرانی میں بیٹھا ہوا ہوں کوئی سامان سفر ہے نہ مسافت در پیش مطمئن بے سر و سامانی میں بیٹھا ہوا ہوں کبھی نایافت کا ہے تو کبھی کم یافت کا غم وجہ بے وجہ پریشانی میں بیٹھا ہوا ہوں کار دشوار ہے آغاز سے منکر جب تک کار بے کار کی آسانی ...

مزید پڑھیے

گلیوں میں بھٹکنا رہ آلام میں رہنا

گلیوں میں بھٹکنا رہ آلام میں رہنا یاں سب کو ہے ناکامیٔ یک گام میں رہنا پہلے تو بکھر جانا گزر گاہوں کے ہم راہ پھر حسرت دیوار و در و بام میں رہنا باغات میں پھرنا خس و خاشاک پہن کر ہر سلسلۂ سبز کے انجام میں رہنا ہر سانس میں گھلنا تری دہلیز کی خوشبو ہر آنکھ کا دوری کے سیہ دام میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4393 سے 6203