قومی زبان

میری جاں وہ بادہ خواری یاد ہے

میری جاں وہ بادہ خواری یاد ہے وقت مستی گریہ زاری یاد ہے موتیا کا ہار و چمپا کی چھڑی جوڑۂ دامن کناری یاد ہے سب ابھوکن تیرے تن پر خوشنما خوبیٔ انگیا و ساری یاد ہے ابر کا سایہ و سبزہ راہ کا جان من رتھ کی سواری یاد ہے کویلاں کے نالے امرائی کے بیچ اس سمے کی بے قراری یاد ہے مینہ بی ...

مزید پڑھیے

زلف تیری ہوئی کمند مجھے

زلف تیری ہوئی کمند مجھے اس میں باندھا ہے بند بند مجھے خاک سیتی سجن اٹھا کے کیا عشق تیرے نے سر بلند مجھے تیرے غم سوں ہوا ہوں دیوانہ نہ کیا نفع کوئی پند مجھے نہیں جگ بیچ اور اے دل بر وصل بن تیرے سود مند مجھے میں گرفتار ہوں ترے مکھ پر جگ میں نئیں اور کچھ پسند مجھے فائزؔ اس طور سے ...

مزید پڑھیے

جاگیر اگر بہت نہ ملی ہم کوں غم نہیں

جاگیر اگر بہت نہ ملی ہم کوں غم نہیں حاصل ہمارے ملک قناعت کا کم نہیں اس ساتھ مہ رخاں کو نہیں کچھ برابری یوسف سے یہ نگار پری زاد کم نہیں خوش صورتاں سے کیا کروں میں آشنائی اب مجھ کو تو ان دنوں میں میسر درم نہیں دل باندھتے نہیں ہیں ہمارے ملاپ پر مہ‌ طلعتاں میں مجھ کو تو اب کچھ بھرم ...

مزید پڑھیے

گل ترے مکھ کی فکر میں بیمار

گل ترے مکھ کی فکر میں بیمار جیو بلبل کا تجھ قدم پہ نثار گل کوں اے شوخ مکھ تنک دکھلا کہ خزاں کر دکھا دے اس کوں بہار مست سے دل کوں ہے حذر لازم نین تیرے بہت ہوئے سرشار اس گلی میں قدم کرم سوں دھر کہ کروں ہر قدم پہ جیو نثار مارتی مجھ کوں اے کماں ابرو یہ پلک تیر و یہ نگہ تلوار ہجر میں ...

مزید پڑھیے

تجھ بنا دل کو بے قراری ہے

تجھ بنا دل کو بے قراری ہے دم بدم مجھ کو آہ و زاری ہے ہاتھ تیرے جو دیکھی ہے تلوار آرزو دل کو جاں سپاری ہے مجھ کو اوروں سے کچھ نہیں ہے کام تجھ سے ہر دم امیدواری ہے ہم سے تجھ کو نہیں ملاپ کبھی یہ مگر جگ میں طور یاری ہے آہ کوں دل میں میں چھپاتا ہوں لازم عشق پردہ داری ہے گر رہا تیری ...

مزید پڑھیے

ہر دم بتائے جاتے ہیں ہم بے وفا نہیں

ہر دم بتائے جاتے ہیں ہم بے وفا نہیں تم کو نہیں یقین تو شک کی دوا نہیں وہ کہہ رہے ہیں ناز سے ہم بے وفا نہیں کس کا ہے منہ جو کہہ دے یہ دعویٰ بجا نہیں زلف رسا بھی یار کی اتنی رسا نہیں طول شب فراق کی کچھ انتہا نہیں آنے کو ہے وہ ہوش ربا ہو کے بے نقاب اے بے خودی جبھی تو پتا ہوش کا ...

مزید پڑھیے

اشک آنکھوں میں جگر میں درد سوزش دل میں ہے

اشک آنکھوں میں جگر میں درد سوزش دل میں ہے اک محبت کی بدولت گھر کا گھر مشکل میں ہے جب نہ یہ دنیا تھی قائم تو ہمارے دل میں تھا جب سے یہ دنیا ہے قائم تو ہمارے دل میں ہے اضطراب تیغ مقتل میں کوئی دیکھے ذرا صاف ہوتا ہے گماں بجلی کف قاتل میں ہے آج ان کے جور کے شکوے ہیں کیا کیا حشر میں آج ...

مزید پڑھیے

تڑپیں کب تک تری فرقت میں محبت والے

تڑپیں کب تک تری فرقت میں محبت والے آ ادھر بھی کبھی او ناز و نزاکت والے شیخ و واعظ ہوں نہ کس طرح کرامت والے حضرت پیر مغاں کی ہیں یہ صحبت والے کب تک ایذائیں سہیں تیری محبت والے رحم کر رحم کر او ظلم کی عادت والے شیخ رندوں کو برا کہہ کے گنہ گار نہ بن ارے کمبخت یہی لوگ ہیں جنت ...

مزید پڑھیے

کیوں کہوں میں کہ ستم کا میں سزاوار نہ تھا

کیوں کہوں میں کہ ستم کا میں سزاوار نہ تھا دل دیا تھا تجھے کس طرح گنہ گار نہ تھا عمر بھر مجھ سے تھی ہر ایک کو بے وجہ خلش کیونکہ میں گلشن عالم میں کوئی خار نہ تھا کیا نہ کچھ ہو گیا اک غیرت یوسف کے لیے کب محبت میں میں رسوا سر بازار نہ تھا کیا یہ کرتا مرے زخم جگر و دل کا علاج چرخ بے ...

مزید پڑھیے

رہے ہمارے لئے شغل یاں کوئی نہ کوئی

رہے ہمارے لئے شغل یاں کوئی نہ کوئی دیا کرے ہمیں غم آسماں کوئی نہ کوئی اب اس میں حضرت زاہد ہوں یا برہمن ہو بتوں کی چومتا ہے آستاں کوئی نہ کوئی کبھی اٹھاتے ہیں دل پر کبھی جگر پر داغ کھلا ہی رکھتے ہیں ہم بوستاں کوئی نہ کوئی برا سمجھ مرے اعمال کو نہ اے واعظ ہے اس متاع کا بھی قدرداں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4373 سے 6203