قومی زبان

اے یار نصیحت کو اگر گوش کرے تو

اے یار نصیحت کو اگر گوش کرے تو یہ طور و طریق اپنے فراموش کرے تو دیوانے سیانے ہویں سب دیکھ تجھ انکھیاں اک چشم کی گردش ستی بے ہوش کرے تو اے سرو چماں آوے اگر میری بغل میں جنت کا چمن خانۂ‌ آغوش کرے تو حوراں نہ کریں خلد کے گلبن کا نظارا جب سیم بدن اپنے کو گل پوش کرے تو اس فائزؔ بے ...

مزید پڑھیے

محبت کے حوالے ڈھونڈھتا ہے

محبت کے حوالے ڈھونڈھتا ہے اندھیروں میں اجالے ڈھونڈھتا ہے خدا جانے وہ کیسا باؤلا ہے حرم میں مے پیالے ڈھونڈھتا ہے مسافر دو قدم چل کر پریشان کہ اپنے پا کے چھالے ڈھونڈھتا ہے سمندر میں تلاشیں تو بہت ہیں خزانے وہ نرالے ڈھونڈھتا ہے رہے تا بود قائم رازداری خدا کچھ ایسے تالے ...

مزید پڑھیے

التجا

آج تو کچھ پیار کے بیمار کا بھی ذکر ہو کب تلک بیٹھیں گے یوں ہی پھول مرجھائے ہوئے کب تلک باد صبا زندان شب میں قید ہو کب تلک دہکیں گے شعلے ہجر کے گلزار میں کب تلک عریاں رہیں گے یہ شجر گل سب صف بہ صف کب تلک روئے گی شبنم کب تلک ہاں کب تلک آج تو کچھ پیار کے بیمار کا بھی ذکر ہو

مزید پڑھیے

جستجو

تمہاری خاموش سلگتی سانسوں میں اپنے وجود کا احساس ڈھونڈھتا رہتا ہوں میں آج کل وہ سانسیں جن کی ہر اونچ نیچ میں میرے نام کا آہنگ تھا وہ سانسیں جو تمہارے بے چین دھڑکتے دل سے مطمئن میرے نام کا طواف کرتی تھیں جن کی ہر اک آہٹ میں میرا نام گونجتا تھا آج ان سانسوں میں وہ جو میری سانسیں ...

مزید پڑھیے

جان ایام‌ دلبری ہے یاد

جان ایام‌ دلبری ہے یاد سیر‌ گل زار و مے خوری ہے یاد دیکھتا نہیں سورج کوں نظراں بھر جس کوں تجھ جامۂ‌ زری ہے یاد خوب پھولی تھی باغ میں نرگس گل صد برگ و جعفری ہے یاد وہ چراغاں و چاندنی کی رات سیر ہت پھول‌ و پھلجھڑی ہے یاد وہ تماشا و کھیل ہولی کا سب کے تن رخت کیسری ہے یاد ہو ...

مزید پڑھیے

خوباں کے بیچ جاناں ممتاز ہے سراپا

خوباں کے بیچ جاناں ممتاز ہے سراپا انداز دلبری میں اعجاز ہے سراپا پل پل مٹک کے دیکھے ڈگ ڈگ چلے لٹک کے وہ شوخ چھل چھبیلا طناز ہے سراپا ترچھی نگاہ کرنا کترا کے بات سننا مجلس میں عاشقوں کی انداز ہے سراپا نینوں میں اس کی جادو زلفاں میں اس کی پھاندا دل کے شکار میں وہ شہباز ہے ...

مزید پڑھیے

ہر آشنا سے اس بن بیگانہ ہو رہا ہوں

ہر آشنا سے اس بن بیگانہ ہو رہا ہوں مجلس میں شمع رو کی پروانہ ہو رہا ہوں مجھ کو ملامت خلق خاطر میں ناہیں ہرگز زلفاں کی فکر میں میں دیوانہ ہو رہا ہوں ساقی شراب و ساغر اب چاہتا نہیں ہوں اس کے خیال سوں میں مستانہ ہو رہا ہوں اس کے خیال سوں میں تنہا نشیں ہوں دائم وحشی سا میں سبن سوں ...

مزید پڑھیے

مستمنداں کو ستایا نہ کرو

مستمنداں کو ستایا نہ کرو بات کو ہم سے درایا نہ کرو دل شکنجے میں نہ ڈالو میرا زلف کو گوندھ بنایا نہ کرو حسن بے ساختہ بھاتا ہے مجھے سرمہ انکھیاں میں لگایا نہ کرو تم سے مجھ دل کو بہت ہے امید مجھ سے مسکیں کو کڑھایا نہ کرو بے دلاں سوں نہ پھرا دو مکھڑا ہم سے تم آنکھ چرایا نہ ...

مزید پڑھیے

منہ پھول سے رنگیں تھا و ساری تھی اس ہری

منہ پھول سے رنگیں تھا و ساری تھی اس ہری کھترانی ایک دیکھی میں پنگھٹ پہ جوں پری چیری ہیں اس کی اربسی رمبھا و رادھکا پربھو نے پھر بنائی نہیں ویسی دوسری میں نے کہا کہ گھر چلے گی میرے ساتھ آج کہنے لگی کہ ہم سوں نہ کر بات تو بری

مزید پڑھیے

تری گالی مجھ دل کو پیاری لگے

تری گالی مجھ دل کو پیاری لگے دعا میری تجھ من میں بھاری لگے تدی قدر عاشق کی بوجھے سجن کسی ساتھ اگر تجھ کوں یاری لگے بھلا دیوے وو عیش و آرام سب جسے زلف سیں بے قراری لگے نہیں تجھ سا اور شوخ اے من ہرن تری بات دل کو نیاری لگے بھواں تیری شمشیر زلفاں کمند پلک تیری جیسے کٹاری لگے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4372 سے 6203