قومی زبان

آنکھیں

جن پر میرا دل دھڑکا تھا وہ سب باتیں دہراتے ہو وہ جانے کیسی لڑکی ہے تم اب جس کے گھر جاتے ہو مجھ سے کہتے تھے بن کاجل اچھی لگتی ہیں میری آنکھیں تم اب جس کے گھر جاتے ہو کیسی ہوں گی اس کی آنکھیں تنہائی میں کھوئی کھوئی نازک سپنے بنتی ہوگی تم اب جس کے گھر جاتے ہو کیا وہ مجھ سے اچھی ہوگی

مزید پڑھیے

شاعری

انسانوں کے دل میں بچوں اک پیار کا دریا بہتا ہے جو آنکھ سے اوجھل رہتا ہے لیکن دنیا میں کبھی کبھی لگتا ہے کچھ اتنا اچھا وہ چاند کی جھلمل کرنیں ہوں یا رم جھم پانی بارش کا یا ایسا ہو انسان کوئی جو اتنا پیارا ہمیں لگے ہم بول نہیں کچھ پاتے ہیں چپ چاپ کھڑے رہ جاتے ہیں تب ایک انوکھے جادو ...

مزید پڑھیے

کچھ لوگ

دنیا کی لمبی راہوں پر ہم یوں تو چلتے جاتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو یاد ہمیشہ آتے ہیں وہ راہ بدلتے ہیں اپنی اور مڑ کر ہاتھ ہلاتے ہیں لیکن وہ دلوں کو یادوں کی خوشبو بن کر مہکاتے ہیں ایسے ہی سفر کرتے کرتے اک شخص ملا ہم کو بھی کہیں دنیا میں اچھے لوگ بہت لیکن اس کی سی بات ...

مزید پڑھیے

قطرہ قطرہ

قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیں اک آنسو اس شخص کا جو بیگانہ ہے اک آنسو اس نام کا جو ہم لے نہ سکے اک آنسو اس دعا کا جو پوری نہ ہوئی ایک فضول سی بات کہ جو بے سود کہی آنسو میرا خواب میں جس سے گھبراؤں آنسو میری مراد جسے میں بھلاؤں اک آنسو اس چہرے کا جو یاد رہے آنکھوں کے رستے جو دل میں اتر ...

مزید پڑھیے

پورواآنچل

مشرقی یوپی کرفیو میں یہ دھرتی کتنی سندر ہے یہ سندر اور دکھی دھرتی یہ دھانی آنچل پورب کا تیز رفتار ریل کے ساتھ ہوا میں اڑتا جاتا ہے پڑا جھل مل لہراتا ہے دور تک ہرے کھیت کھلیان یہ دھرتی عورت کوئی کسان سنبھالے سر پر بھاری بوجھ چلی ہے کھیت سے گھر کی اور وہی گھر جس کی چھت پر آج کرودھ کا ...

مزید پڑھیے

یہ جو تنہائی

یہ جو تنہائی ہے شاید مری تنہائی نہ ہو گونجنا ہو نہ سماعت میں سکوت اور شب و روز کی نعش میری دہلیز پہ ایام نے دفنائی نہ ہو انگنت پھول ہی کھلتے ہوں اک شجر مولری کا ہو کہیں جس کے تلے یار اغیار گلے ملتے ہوں آن پہنچے ہوں خوشی کے موسم راہ تکتے ہوں مری اور مجھ تک کسی باعث یہ خبر آئی نہ ہو ہو ...

مزید پڑھیے

خدا کے ذکر میں مشغول ہیں جو مست پہاڑ

خدا کے ذکر میں مشغول ہیں جو مست پہاڑ سمجھ گئے ہیں یقیناً ادائے وقت پہاڑ ہماری ذات تعجب کی ایک دنیا ہے کہیں پہ جھیل سمندر کہیں درخت پہاڑ تمہارے ساتھ دعائیں عطائیں زاد سفر ہمارے ساتھ مسلسل سراب دشت پہاڑ خبر ہوا سے ملی ہے تمہاری آمد کی مگر اسے بھی سمجھتے ہیں اوج بخت پہاڑ جو چل ...

مزید پڑھیے

مجھ دیے پر یہ اک عطا رہی ہے

مجھ دیے پر یہ اک عطا رہی ہے خود محافظ مری ہوا رہی ہے لوگ سہمے ہوئے ہیں ہجرت سے دھول چہروں پہ مسکرا رہی ہے تیرے ایمان کا خدا حافظ تو اسے نام سے بلا رہی ہے شور ہر گام کامیاب رہا خامشی غم میں مبتلا رہی ہے وقت پر کار بن گیا سو یہاں بے بسی دائرے بنا رہی ہے اس تعلق پہ موت واجب ...

مزید پڑھیے

خواہشیں انتظار اور یقین

خواہشیں انتظار اور یقین وسوسے بے شمار اور یقین تین ارکان آدمیت کے عاجزی انکسار اور یقین اذن رب العلیٰ و راز و نیاز آپ صدیق و غار اور یقین راہ دشوار لڑکھڑاتے قدم دشت حیرت غبار اور یقین جنگ میں جیت کی ضمانت ہیں حوصلہ اختیار اور یقین مستقل عشق کی حمایت میں لوگ ہم تین چار اور ...

مزید پڑھیے

سراب و دشت وہی ساربان تیسرا ہے

سراب و دشت وہی ساربان تیسرا ہے سفر کے ساتھ بندھا امتحان تیسرا ہے حضور فہم و فراست سے کام لیجئے گا سڑک کے مغربی جانب مکان تیسرا ہے یہ دو جہان سے آگے کی ایک منزل ہے عطائے عشق محمد جہان تیسرا ہے ازل ابد کے نشاں زندگی کے حامی ہیں تباہیوں کی عبارت نشان تیسرا ہے ہم اس سے پہلے بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4345 سے 6203