قومی زبان

جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی

جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی موت جب روح لیے گھر سے نکل جائے گی صبح آئے گی جنازے میں لیے سورج کو یاد ماضی میں اگر رات پگھل جائے گی اگ کے بس میں نہیں اپنی حفاظت کرنا تو فقط موم جلا آگ بھی جل جائے گی خانۂ دل میں بسی چشم لہو مانگیں ہے سوچتا تھا کہ کھلونے سے بہل جائے گی شام جب ...

مزید پڑھیے

صبح لکھتی ہے ترا نام مری آنکھوں میں

صبح لکھتی ہے ترا نام مری آنکھوں میں قید تنہائی کی ہے شام میری آنکھوں میں نیند آتی ہے دعا دے کے چلی جاتی ہے اشک جب کرتا ہے آرام مری آنکھوں میں اب ترے نقش کف پا کو مٹانے خوشبو آئی ہے گردش ایام مری آنکھوں میں دو قدم ساتھ چلے تب تو بتاؤں اس کو ہے تری منزل گم نام مری آنکھوں میں تجھ ...

مزید پڑھیے

نیند آ جائے تو لمحات میں مر جاتے ہیں

نیند آ جائے تو لمحات میں مر جاتے ہیں دن سے بچ نکلے بدن رات میں مر جاتے ہیں کرتے ہیں اپنی زباں سے جو دلوں کو زخمی دب کے اک دن وہ اسی بات میں مر جاتے ہیں یاد آتی ہے تیری جب بھی گلابی باتیں ڈوب کر تیرے خیالات میں مر جاتا ہوں جب کبھی جاتے ہیں احباب کی شادی میں ہم جانیں کیوں جاتے ہی ...

مزید پڑھیے

تم دریا سا اشک بہاؤ تو جانیں

تم دریا سا اشک بہاؤ تو جانیں کیا گزری ہے بات بتاؤ تو جانیں دادا کی پہچان بتانا آساں ہے اپنے دم پر نام کماؤ تو جانیں بستی میں تم خوب سیاست کرتے ہو بستی کی آواز اٹھاؤ تو جانیں بچوں جیسا اشک بہا کر آئے ہو تم عاشق ہو درد چھپاؤ تو جانیں جسم سجا کر بیٹھ گئے ہو کیا سمجھوں پلکوں پر کچھ ...

مزید پڑھیے

قدم قدم پہ کھڑی ہے ہوا پیام لیے

قدم قدم پہ کھڑی ہے ہوا پیام لیے کہ آ رہی ہے خزاں اپنا انتظام لیے کسی فقیر کا جس نے نہ احترام کیا وہ مسجدوں میں ملا مجھ کو احترام لیے ترے عذاب میں مر کر ترے دریچے سے میں جا رہا ہوں محبت کا انتقام لیے مجھے گلی میں دکھی ہے فقط ضیا یعنی چلی گئی ہے سیاست دعا سلام لیے مجھے بھی یاد کے ...

مزید پڑھیے

دل میں تجھ کو شمار کر لوں میں

دل میں تجھ کو شمار کر لوں میں ہو اجازت تو پیار کر لوں میں اس خزاں کو سمیٹ لو تم تو موسم خوش گوار کر لوں میں عشق اگر جرم ہے تو جرم صنم بے سبب بے شمار کر لوں میں تم نے وعدہ کیا ہے آنے کا دو گھڑی انتظار کر لوں میں ساری دنیا کو جیت لوں پل میں تجھ پہ گر افتخار کر لوں میں ہاتھ حاصل سے ...

مزید پڑھیے

غموں کی بھیڑ نے کچلا ہے مجھ کو شادمانی میں

غموں کی بھیڑ نے کچلا ہے مجھ کو شادمانی میں لگانا چاہتا تھا تشنگی کی آگ پانی میں ہر اک شے اڑ گئی میری ہواؤں کی روانی سے سمٹ کے رہ گئی خواہش وفاؤں کی جوانی میں ہمیشہ چشم میں رہنا مجھے اچھا نہیں لگتا میں رہنا چاہتا ہوں اے سمندر تیرے پانی میں تری بستی کے مجرے سے تری اوقات کیا ...

مزید پڑھیے

لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا

لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا چھو کے میرا بدن اپنے بچے کے دل کا دھڑکنا سنو ناف کے اس طرف اس کی جنبش کو محسوس کرتے ہو تم بس یہیں چھوڑ دو تھوڑی دیر اور اس ہاتھ کو میرے ٹھنڈے بدن پر یہیں چھوڑ دو میرے بے کل نفس کو قرار آ گیا میرے عیسیٰ مرے درد کے چارہ گر میرا ہر موئے تن اس ہتھیلی سے تسکین پانے ...

مزید پڑھیے

سوچ

رات اک رنگ ہے اک راگ ہے اک خوشبو ہے مہرباں رات مرے پاس چلی آئے گی رات کا نرم تنفس مجھے چھو جائے گا دودھیا پھول چنبیلی کے مہک اٹھیں گے رات کے ساتھ مرا غم بھی چلا آئے گا اب مرے خانۂ دل میں بھی چراغاں ہوگا یونہی ہر شب جو پگھلتی ہے سیاہی شب کی اک لرزتا ہوا سایہ سا چلا آتا ہے جس کے ...

مزید پڑھیے

مہمان

اس کو اک دن تو جانا تھا مجھ سے کیا رشتہ کیا ناتا بس پل دو پل کو ٹھہرا تھا پل دو پل ہنستے گزرا تھا میں تب بھی سوچا کرتی تھی یہ ساتھ بڑا لمحاتی ہے جذبے کی تھوڑی سی گرمی جلتے چھالے بن جاتی ہے اس بات کو بیتے سال ہوئے پھر دنیا ہے پہلے جیسی سب رنگ وہی رعنائی وہی سب حسن وہی پر کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4344 سے 6203