جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی
جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی موت جب روح لیے گھر سے نکل جائے گی صبح آئے گی جنازے میں لیے سورج کو یاد ماضی میں اگر رات پگھل جائے گی اگ کے بس میں نہیں اپنی حفاظت کرنا تو فقط موم جلا آگ بھی جل جائے گی خانۂ دل میں بسی چشم لہو مانگیں ہے سوچتا تھا کہ کھلونے سے بہل جائے گی شام جب ...