قومی زبان

سوچتا ہوں کدھر گئے ہم لوگ

سوچتا ہوں کدھر گئے ہم لوگ جی رہے ہیں کہ مر گئے ہم لوگ رات بھر ایک ایک جمع ہوئے پو پھٹے ہی بکھر گئے ہم لوگ اپنا گھر ڈھونڈنے کو کیا نکلے جانے کس کس کے گھر گئے ہم لوگ یہ مکاں شہر بھائی اور بہن ان حدوں سے گزر گئے ہم لوگ دل کہیں ہے تو دست و پا ہیں کہیں جسم تقسیم کر گئے ہم لوگ

مزید پڑھیے

غم کی گر چاشنی نہیں ہوتی

غم کی گر چاشنی نہیں ہوتی زندگی زندگی نہیں ہوتی روٹھ جانا تو خیر آساں ہے پر منانا ہنسی نہیں ہوتی ان کے پیچھے تو ہے انہیں کا ذکر سامنے بات بھی نہیں ہوتی دل لگا کر سمجھ میں آیا ہے یہ کوئی دل لگی نہیں ہوتی بے خودی سے جو ہم کنار نہیں وہ خودی آگہی نہیں ہوتی آہ جو عرش تک پہنچ نہ ...

مزید پڑھیے

ہم نے بوڑھوں سے یہ سنی ہے میاں

ہم نے بوڑھوں سے یہ سنی ہے میاں بات وہ ہے جو ان کہی ہے میاں اپنی سانسیں بھی اپنے بس میں نہیں زندگی خاک زندگی ہے میاں جس کے تن پر لباس تک بھی نہیں وہ بھی کیا کوئی آدمی ہے میاں میرے الفاظ لکھ کے تم رکھ لو ابھی آواز دب رہی ہے میاں تم نہیں بولتے تو یوں ہی سہی ہم نے بھی چپ کی سادھ لی ہے ...

مزید پڑھیے

تم جو ہو پاس تو کمی کیا ہے

تم جو ہو پاس تو کمی کیا ہے تم نہ ہو تو یہ زندگی کیا ہے گردش وقت یہ تو بتلا دے پھول کیا چیز ہے کلی کیا ہے کوئی لمحہ رکے تو میں پوچھوں وقت کو ایسی بیکلی کیا ہے ایک سانسوں کے سلسلے کے سوا ہم غریبوں کی زندگی کیا ہے بند کمروں کے باسیوں سے نہ پوچھ صبح کیا شے ہے روشنی کیا ہے عقل مبہوت ...

مزید پڑھیے

رات کٹی ہے روتے روتے

رات کٹی ہے روتے روتے غم کا بوجھا ڈھوتے ڈھوتے زخموں کی سوغات ملی ہے داغ پنہاں دھوتے دھوتے گھر پچھوارے کیسا غل ہے جاگ نہ جاؤں سوتے سوتے عہد جوانی بھاری پتھر تھک جاؤں گا ڈھوتے ڈھوتے یہ بھی وقت کا دھوکا سمجھو کوئی ہنسے جو روتے روتے

مزید پڑھیے

گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے

گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے کرتے ہیں بہت لوگ مگر ہم نہیں کرتے ہے اپنی طبیعت میں جو خامی تو یہی ہے ہم عشق تو کرتے ہیں مگر کم نہیں کرتے نفرت سے تو بہتر ہے کہ رستے ہی جدا ہوں بے کار گزر گاہوں کو باہم نہیں کرتے ہر سانس میں دوزخ کی تپش سی ہے مگر ہم سورج کی طرح آگ کو مدھم نہیں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا سورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیا پھر آئنے میں خون دکھائی دیا مجھے آنکھوں میں آ گیا تو چھپایا کہاں گیا آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو خواب میں لیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا کتنے چراغ گھر میں جلائے گئے نہ پوچھ گھر آپ جل گیا ہے جلایا کہاں ...

مزید پڑھیے

میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا

میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا میں سو گیا تو کوئی نیند سے اٹھا مجھ میں پھر اپنے ہاتھ میں سب انتظام اس نے لیا کبھی بھلایا کبھی یاد کر لیا اس کو یہ کام ہے تو بہت مجھ سے کام اس نے لیا نہ جانے کس کو پکارا گلے لگا کے مجھے مگر وہ میرا نہیں تھا ...

مزید پڑھیے

میں غار میں تھا اور ہوا کے بغیر تھا

میں غار میں تھا اور ہوا کے بغیر تھا اک روز آفتاب ضیا کے بغیر تھا ساحل پہ آ کے ڈوب گئی ناؤ اپنے آپ اک شخص اس میں اپنی رضا کے بغیر تھا سب رو رہے تھے خوف کی دیوار سے لگے کہرام تھا کہ صوت و صدا کے بغیر تھا کیوں نقش پا تمام کسی دائرے میں تھے یہ کون تھا جو دست دعا کے بغیر تھا فیصلؔ جو ...

مزید پڑھیے

اب چلو دیکھ لیں یہی کر کے

اب چلو دیکھ لیں یہی کر کے اپنے ماضی پہ شاعری کر کے لے گئی راتیں پھر اجالوں کو پھر سے باتیں بڑی بڑی کر کے راتیں مجھ میں سکون کتنا ہے ہم نے دیکھا یہ بندگی کر کے زندگی اک کتاب تھی پھر بھی لوگ گزرے غلط سہی کر کے لوٹنا ہے مجھے وہیں یاروں ان کے ہی نام زندگی کر کے فیضؔ سودا نہیں کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4341 سے 6203