ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے
ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے کچھ دن پہلے تک تو سب کے تیور اچھے تھے دیکھ رہا ہے جس حیرت سے پاگل کر دے گا آئینے سے ڈر لگتا ہے پتھر اچھے تھے نادیدہ آزار بدن کو غارت کر دے گا زخم جو دل میں جا اترے ہیں باہر اچھے تھے رات ستاروں والی تھی اور دھوپ بھرا تھا دن جب تک آنکھیں دیکھ ...