قومی زبان

ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے

ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے کچھ دن پہلے تک تو سب کے تیور اچھے تھے دیکھ رہا ہے جس حیرت سے پاگل کر دے گا آئینے سے ڈر لگتا ہے پتھر اچھے تھے نادیدہ آزار بدن کو غارت کر دے گا زخم جو دل میں جا اترے ہیں باہر اچھے تھے رات ستاروں والی تھی اور دھوپ بھرا تھا دن جب تک آنکھیں دیکھ ...

مزید پڑھیے

کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھے

کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھے اٹھا کے اگلے زمانے میں رکھ لیا ہے مجھے وہ مجھ سے اپنے تحفظ کی بھیک لے کے گیا اور اب اسی نے نشانے میں رکھ لیا ہے مجھے میں کھیل ہار چکا ہوں تری شراکت میں کہ تو نے مات کے خانے میں رکھ لیا ہے مجھے مرے وجود کی شاید یہی حقیقت ہے کہ اس نے اپنے فسانے ...

مزید پڑھیے

ہجر موجود ہے فسانے میں

ہجر موجود ہے فسانے میں سانپ ہوتا ہے ہر خزانے میں رات بکھری ہوئی تھی بستر پر کٹ گئی سلوٹیں اٹھانے میں رزق نے گھر سنبھال رکھا ہے عشق رکھا ہے سرد خانے میں رات بھی ہو گئی ہے دن جیسی گھر جلانے کے شاخسانے میں روز آسیب آتے جاتے ہیں ایسا کیا ہے غریب خانے میں ہو رہی ہے ملازمت ...

مزید پڑھیے

یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیا

یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیا میرا سوال خلق خدا تک نہیں گیا پھر یوں ہوا کہ ہاتھ سے کشکول گر پڑا خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا مصلوب ہو رہا تھا مگر ہنس رہا تھا میں آنکھوں میں اشک لے کے خدا تک نہیں گیا جو برف گر رہی تھی مرے سر کے آس پاس کیا لکھ رہی تھی مجھ سے پڑھا تک نہیں ...

مزید پڑھیے

شامیانوں کی وضاحت تو نہیں کی گئی ہے

شامیانوں کی وضاحت تو نہیں کی گئی ہے آج خیرات ہے دعوت تو نہیں کی گئی ہے دیکھتی ہے ہمیں دنیا اسے روکا جائے ساتھ رہتے ہیں محبت تو نہیں کی گئی ہے ہم نے کاسہ ہی بڑھایا ہے دعا دیتے ہوئے در بہ در جا کے شکایت تو نہیں کی گئی ہے راستہ ہے اسے ملنے کی جگہ کہتے ہیں آپ سے ملنے کی زحمت تو نہیں ...

مزید پڑھیے

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے اس کے بعد آئے جو عذاب آئے بام مینا سے ماہتاب اترے دست ساقی میں آفتاب آئے ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو سامنے پھر وہ بے نقاب آئے عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر تیری مہر و وفا کے باب آئے کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے نہ گئی تیرے غم کی سرداری دل ...

مزید پڑھیے

ایک نظم ۱

سبز شاخوں پر نئے سرخ پتے مخمل کی صورت سجنے لگے پرانی شاخوں پر نئے پنچھی چہکنے لگے پچھلا موسم کب بیتا نیا موسم کب آیا یہ سوچ کر ہم ہنسنے لگے نئے آشیانے نئے موسم سب تمہارے ہیں بیتی رتوں کے منظر نامے بس ہمارے ہیں

مزید پڑھیے

برسر روزگار تھے پہلے

برسر روزگار تھے پہلے ہم بھی یاروں کے یار تھے پہلے آج یہ زیست ہم پہ بار سہی زیست پر ہم بھی بار تھے پہلے آج ہم وقت کو پکارتے ہیں وقت کی ہم پکار تھے پہلے آؤ اب ان کی چھاؤں بھی ڈھونڈیں جو شجر سایہ دار تھے پہلے گو کہ خوشیاں ہیں بے شمار مگر غم بہت خوش گوار تھے پہلے

مزید پڑھیے

ڈوبا ہوا سا خون میں خاور دکھائی دے

ڈوبا ہوا سا خون میں خاور دکھائی دے گویا سحر میں شام کا منظر دکھائی دے لوگو تمہارا شہر تو شیشے کا شہر ہے پھر بھی ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دے مدت سے میرے گاؤں کے چولھے بھی سرد ہیں لیکن اک آگ ہے کہ جو گھر گھر دکھائی دے یہ کیا کہ میرے فکر و عمل میں تضاد ہے مجھ کو تو کوئی میرے ہی ...

مزید پڑھیے

دن تو جوں توں چلو گزر جائے

دن تو جوں توں چلو گزر جائے نگھرا رات میں کدھر جائے یہ سڑک پر پڑا ہوا اک شخص اس کے سینے سے کار اتر جائے گھر سے پاؤں نکل گیا اس کا اب خدا جانے وہ کدھر جائے اس زمانے میں زندگی کے لئے سوچ بھی لے کوئی تو مر جائے رات کی فکر تو کروں لیکن سر سے یہ دھوپ تو اتر جائے آئنہ منہ چڑا رہا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4340 سے 6203