قومی زبان

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر'' (ردیف .. ر)

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر'' چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی شمع غم جھلملاتی رہی رات بھر کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر پھر صبا سایۂ شاخ گل کے تلے کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر جو نہ آیا اسے کوئی زنجیر در ہر صدا پر بلاتی رہی رات ...

مزید پڑھیے

رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے

رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے شب سیہ سے طلب حسن یار کرتے رہے خیال یار کبھی ذکر یار کرتے رہے اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے نہیں شکایت ہجراں کہ اس وسیلے سے ہم ان سے رشتۂ دل استوار کرتے رہے وہ دن کہ کوئی بھی جب وجہ انتظار نہ تھی ہم ان میں تیرا سوا انتظار کرتے رہے ہم اپنے راز پہ ...

مزید پڑھیے

عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہے

عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہے محبتوں کو کوئی بد دعا لگی ہوئی ہے پناہ دیتی ہے ہم کو نشے کی بے خبری ہمارے بیچ خبر کی بلا لگی ہوئی ہے کمال ہے نظر انداز کرنا دریا کو اگرچہ پیاس بھی بے انتہا لگی ہوئی ہے پلک جھپکتے ہی خواہش نے کینوس بدلا تلاش کرنے میں چہرہ نیا لگی ہوئی ہے تو ...

مزید پڑھیے

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے میں بھی رکتا ہوں مگر ریگ رواں کی صورت میرا ٹھہراؤ روانی کی طرح ہوتا ہے تیرے جاتے ہی میں شکنوں سے نہ بھر جاؤں کہیں کیوں جدا مجھ سے جوانی کی طرح ہوتا ہے جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر خواب میں نقل مکانی کی ...

مزید پڑھیے

اس کو جانے دے اگر جاتا ہے

اس کو جانے دے اگر جاتا ہے زہر کم ہو تو اتر جاتا ہے پیڑ دیمک کی پذیرائی میں دیکھتے دیکھتے مر جاتا ہے ایک لمحے کا سفر ہے دنیا اور پھر وقت ٹھہر جاتا ہے چند خوشیوں کو بہم کرنے میں آدمی کتنا بکھر جاتا ہے

مزید پڑھیے

ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے

ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے مہتاب بڑی دیر سے گہنایا ہوا ہے ہے کوئی سخی اس کی طرف دیکھنے والا یہ ہاتھ بڑی دیر سے پھیلایا ہوا ہے حصہ ہے کسی اور کا اس کار زیاں میں سرمایہ کسی اور کا لگوایا ہوا ہے سانپوں میں عصا پھینک کے اب محو دعا ہوں معلوم ہے دیمک نے اسے کھایا ہوا ہے دنیا کے ...

مزید پڑھیے

تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوست

تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوست کتنی تیزی سے بدلتا ہے زمانہ مرے دوست جانے کس کام میں مصروف رہا برسوں تک یاد آیا ہی نہیں تجھ کو بھلانا مرے دوست پوچھنا مت کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے آئینہ بن کے مرا دل نہ دکھانا مرے دوست اس ملاقات میں جو غیر ضروری ہو جائے یاد رہتا ہے کسے ...

مزید پڑھیے

رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیے

رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیے آنکھیں بھی چاہیے دل بینا بھی چاہیے ان کی گلی میں ایک مہینہ گزار کر کہنا کہ اور ایک مہینہ بھی چاہیے مہکے گا ان کے در پہ کہ زخم دہن ہے یہ واپس جب آؤ تو اسے سینا بھی چاہیے رونا تو چاہیے ہے کہ دہلیز ان کی ہے رونے کا رونے والو قرینہ بھی چاہیے دولت ...

مزید پڑھیے

دکھ نہیں ہے کہ جل رہا ہوں میں

دکھ نہیں ہے کہ جل رہا ہوں میں روشنی میں بدل رہا ہوں میں ٹوٹتا ہے تو ٹوٹ جانے دو آئنے سے نکل رہا ہوں میں رزق ملتا ہے کتنی مشکل سے جیسے پتھر میں پل رہا ہوں میں ہر خزانے کو مار دی ٹھوکر اور اب ہاتھ مل رہا ہوں میں خوف غرقاب ہو گیا فیصلؔ اب سمندر پہ چل رہا ہوں میں

مزید پڑھیے

اس نے دیکھا جو مجھے عالم حیرانی میں

اس نے دیکھا جو مجھے عالم حیرانی میں گر پڑا ہاتھ سے آئینہ پریشانی میں آ گئے ہو تو برابر ہی میں خیمہ کر لو میں تو رہتا ہوں اسی بے سر و سامانی میں اس قدر غور سے مت دیکھ بھنور کی جانب تو بھی چکرا کے نہ گر جائے کہیں پانی میں کبھی دیکھا ہی نہیں اس نے پریشاں مجھ کو میں کہ رہتا ہوں سدا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4339 سے 6203