چھوٹے بڑے یہ پنچھی
دکھ سے پرے یہ پنچھی ہم سے بھلے یہ پنچھی آکاش چھو رہے ہیں چھوٹے بڑے یہ پنچھی حاصل جو پنکھ ہوتے ہم بھی اڑان بھرتے
دکھ سے پرے یہ پنچھی ہم سے بھلے یہ پنچھی آکاش چھو رہے ہیں چھوٹے بڑے یہ پنچھی حاصل جو پنکھ ہوتے ہم بھی اڑان بھرتے
ہندو مسلم سکھ عیسائی آدم کی اولاد ہیں بھائی کیوں آپس میں کریں لڑائی سب ہیں اک دوجے کے بھائی عرفی بیدی جانی کاشی ہم سب ہیں بھارت کے باشی جہاں رہیں پر ایک رہیں ہم خوب پڑھیں اور نیک بنیں ہم الگ الگ ہے سب کی بھاشا ایک مگر ہے اپنی آشا گلشن سا ہو وطن ہمارا ہرا بھرا ہو چمن ہمارا کوئی ...
نجمی فہمی عظمیٰ رعنا آؤ دیکھیں چڑیا خانہ جن کے نام سنا کرتے ہو آج انہیں نزدیک سے دیکھو ایک سے ایک پرندے دیکھو آدم خور درندے دیکھو مور سروں پر تاج سجائے ناچ رہے ہیں پر پھیلائے بلبل دیکھو طوطا دیکھو کوئل دیکھو مینا دیکھو خوش آواز پپیہا دیکھو حد حد اور گوریا دیکھو بھونرا دیکھو ...
ہر حالت میں پڑھنا ہوگا زینہ زینہ چڑھنا ہوگا تعلیمی اس دوڑ میں اب تو ہم کو آگے بڑھنا ہوگا ورنہ پیچھے رہ جائیں گے سارا جیون پچھتائیں گے
ہم رنگ جنوں سے ہستی کی تصویر بدل دیں گے اک دن تدبیر و عمل سے دنیا کی تقدیر بدل دیں گے اک دن جب ہم بھی بڑے ہو جائیں گے ظلمت کو مٹائیں گے اک دن یہ کر کے دکھائیں گے اک دن دل جس سے ہوں روشن لوگوں کے وہ دیپ جلائیں گے اک دن جب ہم بھی بڑے ہو جائیں گے دیکھے ہیں جو اب تک لوگوں نے وہ خواب کریں گے ...
آج کا دن بچوں کا دن ہے بچوں کی خوشیوں کا دن ہے روشن ہوں بچوں کے چہرے ان پر ہوں خوشیوں کے پہرے تن پر کپڑے ہوں بھڑکیلے پاؤں میں جوتے ہوں چمکیلے ناچو گاؤ جشن مناؤ کھیلو کودو موج اڑاؤ عارفہؔ مونیؔ عرشیؔ سنبلؔ لہکو چہکو مثل بلبل فیضؔ شہیرؔ و نجمیؔ غازیؔ خوب رہے گی آتش بازی آج ...
سورج نے یہ دیا پیام بانٹنے آیا ہوں میں کام بستر چھوڑو اور لے لو پہلے اپنے رب کا نام ذہن نشیں کر لیں یہ بات جاگیں ہم سورج کے ساتھ
کہیں سورج کہیں ذرہ چمکتا ہے اشارے سے ترے کیا کیا چمکتا ہے فلک سے جب نئی کرنیں اترتی ہیں گہر سا شبنمی قطرہ چمکتا ہے اسے دنیا کبھی دریا نہیں کہتی چمکنے کو تو ہر صحرا چمکتا ہے ستارہ تو ستارہ ہے مرے بھائی کبھی تیرا کبھی میرا چمکتا ہے مری میلی ہتھیلی پر تو بچپن سے غریبی کا کھرا ...
کبھی یقیں سے ہوئی اور کبھی گماں سے ہوئی ترے حضور رسائی کہاں کہاں سے ہوئی فلک نہ ماہ منور نہ کہکشاں سے ہوئی کھلی جب آنکھ ملاقات خاک داں سے ہوئی نہ فلسفی نہ مفکر نہ نکتہ داں سے ہوئی ادا جو بات ہمیشہ تری زباں سے ہوئی کھلی نہ مجھ پہ بھی دیوانگی مری برسوں مرے جنون کی شہرت ترے بیاں ...
نواح جاں میں کسی کے اترنا چاہا تھا یہ جرم میں نے بس اک بار کرنا چاہا تھا جو بت بناؤں گا تیرا تو ہاتھ ہوں گے قلم یہ جانتے ہوئے جرمانہ بھرنا چاہا تھا بغیر اس کے بھی اب دیکھیے میں زندہ ہوں وہ جس کے ساتھ کبھی میں نے مرنا چاہا تھا شب فراق اجل کی تھی آرزو مجھ کو یہ روز روز تو میں نے نہ ...