وہ یقیں پیکر ہے کس کا نور دیدہ کون ہے
وہ یقیں پیکر ہے کس کا نور دیدہ کون ہے ظلمت شب میں چراغ آسا دمیدہ کون ہے گرد جادہ کون ہے منزل رسیدہ کون ہے وقت کیا کہتا ہے سنئے برگزیدہ کون ہے زہر غم پی جز و جاں کر پھر بھی موت آئے تو کیا یوں بھی امرت کا یہاں لذت چشیدہ کون ہے فرش سے تا عرش یکساں ہے صدائے مرحبا دیکھنا یہ سر بکف یہ ...