قومی زبان

کرم یوگی

کرم یوگی ہے پیکر جسم میں رہتا ہے مرے ساتھ اس کی آواز مرے دل سے نکل کر پھونکتی ہے مری روح میں نغموں کا خمار پھول کھلتے ہیں ستاروں کے مرے آنگن میں میری سکھیاں میری ہمجولیاں آتی ہیں مجھے ملنے تو وہ مل بیٹھتا ہے اس کی آسودگیٔ دل در و دیوار سے باہر کسی مہکی ہوئی خوشبو کی طرح پھیلتی ...

مزید پڑھیے

یہ پھولوں کی دنیا

ذرا اپنی آنکھیں تو دینا کہ دیکھوں تمہاری نظر سے جہان تمنا جہاں لوگ کہتے ہیں نرگس نے اک پھول پھر سے جنا ہے ہزاروں برس کی سزا جھیل کر گماں اور افشاں کے رنگوں میں پھر سے بہاروں کی خوشبو سفر کر رہی ہے کہ لمحوں کی لہروں پہ ہر سو نئی آرزو پر فشاں ہے تمنا کی تنہائیاں منتظر ہیں کہ شاید وہی ...

مزید پڑھیے

چشم تمنا

چشم تمنا جسے نیند آئی تھی صدیوں کی بیماریوں کی تھکن سے جاگ اٹھی ہے شاید بدن میں نیا دن شگوفے کی مانند ابھرا شفق زار بن کر دل کی آغوش میں آ بسا ہے نظارے میں مسحور رہنے کی خواہش جنم لے رہی ہے بسا کر اسے اپنی نظروں میں شاداب آنکھوں میں رہنے کو جی چاہتا ہے وہی رنگ و بو کی حرارت کی ہلکی ...

مزید پڑھیے

خوشبو کی خوشیاں

درختوں سے پتے تو ہر سال گرتے ہیں مٹی میں ملنے کی خواہش لیے مگر ان کو گن گن کے رکھتا ہے کون سفر کی تھکن سے سراسیمہ پتا جو گرتا ہے لمحے کی دیوار کرکے عبور بہت دور سے آ کے لیتا ہے مٹی کی خوشبو کی خوشیاں مگر زرد رنگوں کے زیور سے آراستہ یہ خزاں کی دلہن جس کی قسمت کے تارے شب و روز گرتے ...

مزید پڑھیے

چلو ہوا کے ساتھ چلیں

چلو ہوا کے ساتھ چلیں اور دیکھیں رخ ان لوگوں کا جو ہم سے روٹھ کے بیٹھے ہیں آؤ ان کی بات سنیں اور سن لیں شاید اپنی بات رکھ کر ان کے ہاتھ پہ ہاتھ کبھی تو دل کی بات سنیں اور رہیں ہم ان کے پاس شاید وہ بھی ہوں اداس چلو ہوا کے ساتھ چلیں

مزید پڑھیے

نصیحت

دل تیرا اک آئینہ ہے آئینے سے ڈرنا اپنے جیسی صورت دیکھ کے یوں ہی نہ اس پہ مرنا صورت تو سپنا ہے مورکھ ایک جھلک دکھلائے دکھ سکھ اک لمحے کی چھایا آئے بھی اور جائے تو کیوں اک لمحے کی خاطر اپنا مان گنوائے دل تیرا اک آئینہ ہے آئینے سے ڈرنا اپنے آپ نہ مرنا

مزید پڑھیے

عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے

عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم ہی تھے جب شعور انسانی رابطے کا پیاسا تھا حرف و صوت علم و فن کی اساس ہم ہی تھے فاصلوں نے لمحوں کو منتشر کیا تو پھر اعتبار ہستی کی ایک آس ہم ہی تھے مقتدر محبت کی شکوہ سنج محفل میں خامشی کو اپنائے پر سپاس ہم ہی تھے خواب ...

مزید پڑھیے

الفاظ بے صدا کا امکان آئنے میں

الفاظ بے صدا کا امکان آئنے میں دیکھا ہے میں نے اکثر بے جان آئنے میں کمرے میں رقص کرتی چلتی ہیں جب ہوائیں کچھ عکس بولتے ہیں ہر آن آئنے میں ہوگا کسی کا چہرہ پہچان کی لگن میں ہوں گی کسی کی آنکھیں حیران آئنے میں تہذیب کا تسلط ہے آئنے سے باہر تاریخ کے سفر کا وجدان آئنے میں رنگوں کی ...

مزید پڑھیے

ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنا

ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنا اہل ہوس کے بکنے کی رفتار دیکھنا ہوں گے ستم کے ہاتھوں گرفتار بے گناہ توہین عدل بر سر دربار دیکھنا تاریخ اپنے خون سے لکھیں گے پھر ہمیں پیدا ہوئے ہیں پھر وہی آثار دیکھنا میرے وطن کی آن پہ آنے نہ دے گا آنچ کوئی تو ہوگا صاحب کردار دیکھنا دکھلائے گا یہ ...

مزید پڑھیے

کبھی جو خط مجھے لکھنا محبتیں لکھنا

کبھی جو خط مجھے لکھنا محبتیں لکھنا برا شگون ہے ہر دم شکایتیں لکھنا یہ زیست اور بھی نکھرے گی پیار کرنے سے جو میرے ہجر میں گزریں قیامتیں لکھنا تقاضہ تم سے کروں گی تو روٹھ جاؤ گے پسند کب ہے مجھے بھی شکایتیں لکھنا تم آتے جاتے رہو یہ بہت ہے میرے لئے نہ آ سکو جو کبھی تم قباحتیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4133 سے 6203