قومی زبان

ہم نے جب چاہا کوئی آگ بجھانے آئے

ہم نے جب چاہا کوئی آگ بجھانے آئے آئے تو لوگ مگر دل کو جلانے آئے کچھ اثر ہوتا نہیں بزم طرب کا دل پر درد کا گیت کوئی آج سنانے آئے راس جب آ نہ سکا شہر خرد کا ماحول وسعت دشت و بیاباں میں دوانے آئے بھاگی جاتی ہے یہ دنیا نئی رونق کی طرف شہر ہے اجڑا ہوا کون بسانے آئے آج تک جن کو نہیں ...

مزید پڑھیے

تجھے میں بھول جانا چاہتا ہوں

تجھے میں بھول جانا چاہتا ہوں یوں دل کو آزمانا چاہتا ہوں نہ چھیڑو آج درد و غم کے قصے میں کھل کر مسکرانا چاہتا ہوں مری تحویل میں جو بھی ہے یارو تمہیں پہ سب لٹانا چاہتا ہوں بہت بوجھل سے لگتے ہیں مناظر میں ان سے دور جانا چاہتا ہوں خیال و فکر کا دم گھٹ رہا ہے نئی دنیا بنانا چاہتا ...

مزید پڑھیے

ساز حیات قید و سلاسل کہیں کسے

ساز حیات قید و سلاسل کہیں کسے جب دل ہی بجھ گیا ہو تو پھر دل کہیں کسے روداد غم طویل تو اتنی نہیں مگر کوئی کہاں ہے مد مقابل کہیں کسے بچتے بچاتے موج حوادث سے آ کے ہم ساحل پہ ڈوب جائیں تو ساحل کہیں کسے دست دعا بھی کاٹ کے احباب چل دیئے حال دل شکستہ میں شامل کہیں کسے انجمؔ ہمارا عہد ...

مزید پڑھیے

لپٹ رہی ہیں جو تجھ سے دعائیں میری ہیں

لپٹ رہی ہیں جو تجھ سے دعائیں میری ہیں ہوا کا شور نہیں ہے صدائیں میری ہیں کسی بھی راہ سے تم آ سکو تو آ جانا کہ شہر میرا ہے ساری دشائیں میری ہیں اڑا رہے ہو یہاں جن کی دھجیاں تم بھی یہ جان لو کہ وہ ساری ردائیں میری ہیں مجھے تو گاؤں کی مٹی ہے جان سے بھی عزیز وہاں کی گلیوں میں کیا کیا ...

مزید پڑھیے

خسارے میں رہے لیکن نہ چھوڑی سادگی ہم نے

خسارے میں رہے لیکن نہ چھوڑی سادگی ہم نے بہ ہر صورت نبھائی دشمنوں سے دوستی ہم نے سلف تھے جو ہمارے مثل خورشید و مہہ و انجم انہی کے راستے پہ چل کے پائی روشنی ہم نے ادب کے دائرے کو دے دی وسعت سارے عالم کی کہ اس کی آبیاری کی برائے زندگی ہم نے جہاں والو نہ مانو تم مگر سچ ہے کہ دنیا ...

مزید پڑھیے

بے نیاز بہار سا کیوں ہے

بے نیاز بہار سا کیوں ہے دل کو زخموں سے پیار سا کیوں ہے وہ خفا ہیں کہ ہم غریبوں کو غم پہ کچھ اختیار سا کیوں ہے میری آنکھوں کے خواب تو غم ہیں وہ مگر بے قرار سا کیوں ہے عکس اس میں تھا کس کے چہرے کا آئنہ سنگسار سا کیوں ہے آہٹیں پاس آ کے دور ہوئیں ہم کو پھر انتظار سا کیوں ہے کیا کوئی ...

مزید پڑھیے

ہجوم درد ملا امتحان ایسا تھا

ہجوم درد ملا امتحان ایسا تھا مگر وہ چپ ہی رہا بے زبان ایسا تھا کسی کی عزت و ناموس پر نہ آنچ آئی لٹا تو اف بھی نہ کی مہربان ایسا تھا زمانہ گزرا مگر داغ رہ گیا دل پر نہ مٹ سکا کسی صورت نشان ایسا تھا بدن کی شاخ سے اس کے کرن جو لپٹی تھی وہ سہہ سکا نہ اسے دھان پان ایسا تھا متاع زیست ...

مزید پڑھیے

خون دل مجھ سے ترا رنگ حنا مانگے ہے

خون دل مجھ سے ترا رنگ حنا مانگے ہے یا ہتھیلی پہ کوئی نقش وفا مانگے ہے جو سدا دیتا رہا دار و رسن تحفے میں ہم فقیروں سے وہی حرف دعا مانگے ہے کیا ہوا ہے کہ رفاقت کا بھرم رکھنے کو مجھ سے محبوب مرا زخم نیا مانگے ہے شہر میں دھنستا ہے فتنے کی نئی دلدل میں کیا قیامت ہے کہ میرا ہی پتہ ...

مزید پڑھیے

بات کا دوسرا رخ

روشنی روشنی روشنی ہر طرف روشنی سے کہو چھوڑ جائے مجھے وقت کا کارواں جا رہا ہے مگر ابھی ساتھ لے کر نہ جائے مجھے مری آرزو ہے کہ تو بھی کبھی دل کی جانب وہ رستہ سجھائے مجھے مری روشنی کو مرے نور کو میری آنکھوں سے لے کر دکھائے مجھے ظلمت و موت کی وادیوں میں کبھی اندھیروں کی خاطر لٹائے ...

مزید پڑھیے

صدا بہ صحرا

یہ دور دور مرادوں کے ریتیلے ٹیلے سرک سرک کے جو دامن بدلتے رہتے ہیں یہ مردہ اونٹ جو صحرا کے زرد رنگوں میں کسی نے دشت طلب میں سجا کے رکھے ہیں کہ جو بھی بھیس بدل کر ادھر روانہ ہو پلٹ ہی جائے وہ لے کر پھٹی پھٹی آنکھیں یہ کس کی وادی ہے یہ اونٹ کس کے ہیں یہ کون زرد نگارش کا اتنا شائق ہے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4132 سے 6203