ہم نے جب چاہا کوئی آگ بجھانے آئے
ہم نے جب چاہا کوئی آگ بجھانے آئے آئے تو لوگ مگر دل کو جلانے آئے کچھ اثر ہوتا نہیں بزم طرب کا دل پر درد کا گیت کوئی آج سنانے آئے راس جب آ نہ سکا شہر خرد کا ماحول وسعت دشت و بیاباں میں دوانے آئے بھاگی جاتی ہے یہ دنیا نئی رونق کی طرف شہر ہے اجڑا ہوا کون بسانے آئے آج تک جن کو نہیں ...