بے تابئ دل نے زار پا کر
بے تابئ دل نے زار پا کر دے دے پٹکا اٹھا اٹھا کر گھر میں دعویٰ نہ حسن کا کر یوسف سے نکل کے سامنا کر زلفوں کو نہ چھوڑ تو بڑھا کر نازک ہے گرے گا جھونک کھا کر بیٹھے جو وہ شب نقاب اٹھا کر بجھنے لگی شمع جھلملا کر برباد نہ کر تو آبرو کو مانند حباب سر اٹھا کر اس گل کی مژہ نے مار ...