قومی زبان

بے تابئ دل نے زار پا کر

بے تابئ دل نے زار پا کر دے دے پٹکا اٹھا اٹھا کر گھر میں دعویٰ نہ حسن کا کر یوسف سے نکل کے سامنا کر زلفوں کو نہ چھوڑ تو بڑھا کر نازک ہے گرے گا جھونک کھا کر بیٹھے جو وہ شب نقاب اٹھا کر بجھنے لگی شمع جھلملا کر برباد نہ کر تو آبرو کو مانند حباب سر اٹھا کر اس گل کی مژہ نے مار ...

مزید پڑھیے

اے صبا جذب پہ جس دم دل ناشاد آیا

اے صبا جذب پہ جس دم دل ناشاد آیا اپنی آغوش میں اڑ کر وہ پری زاد آیا محو ابرو کے لئے خنجر فولاد آیا ذبح کرنا بھی نہ تجھ کو مرے جلاد آیا سرکشی پر جو وہ سرو ستم ایجاد آیا پاس آرے کے گھسٹتا ہوا شمشاد آیا چشم موسیٰ ہمہ تن بن گیا میں حیرت سے دیکھا اک بت کا وہ عالم کہ خدا یاد آیا دم ...

مزید پڑھیے

کوئی صورت سے گر صفا ہو

کوئی صورت سے گر صفا ہو آئنۂ دل خدا‌ نما ہو ماشاء اللہ چشم بد دور کیا خوب جوان مہ لقا ہو منصف ہوں شیخ و گبر دل میں قصہ چک جائے فیصلہ ہو دوزخ کو بھی مات کر دیا ہے اے سوزش دل ترا برا ہو مسند کیسی فقیر ہوں میں تھوڑی سی جگہ ہو بوریا ہو کہتے ہیں وہ میرے دیکھنے پر دیکھو کوئی نہ دیکھتا ...

مزید پڑھیے

بندہ اب ناصبور ہوتا ہے

بندہ اب ناصبور ہوتا ہے عفو ہووے قصور ہوتا ہے وہ زمیں پر قدم نہیں رکھتے حسن کا کیا غرور ہوتا ہے دولت حسن کے لٹانے میں خرچ کیا اے حضور ہوتا ہے سرمہ آنکھوں میں وہ لگاتے ہیں دیکھیے کیا فتور ہوتا ہے ہم ہیں مجبور آپ ہیں مختار کہئے کس سے قصور ہوتا ہے سایہ اس آفتاب طلعت کا دیدۂ مہ کا ...

مزید پڑھیے

داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیا

داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیا دامن میں خار چاک گریباں میں رہ گیا جب دو قدم جنوں میں مرا ساتھ ہو گیا پھیلا کے پاؤں قیس بیاباں میں رہ گیا ابروئے یار سے جو بہت منفعل ہوا منہ ڈال کر ہلال گریباں میں رہ گیا تقلید بن پڑی نہ تمہاری خرام کی طاؤس لڑکھڑا کے گلستاں میں رہ گیا آئی بہار ...

مزید پڑھیے

واعظ کے میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیا

واعظ کے میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیا جام شراب لائے بھی ساقی کدھر گیا بلبل کہاں بہار کہاں باغباں کہاں وہ دن گزر گئے وہ زمانہ گزر گیا ایسی ہوا چلی مری آہوں کی رات کو سب آسماں پہ خرمن انجم بکھر گیا اچھا ہوا جو ہو گئے وحدت پرست ہم فتنہ گیا فساد گیا شور و شر گیا کعبے کی سمت سجدہ کیا دل ...

مزید پڑھیے

عدوئے جاں بت بے باک نکلا

عدوئے جاں بت بے باک نکلا بڑا قاتل بڑا سفاک نکلا صنوبر قد کشی میں خاک نکلا وہ سرو قد چمن کی ناک نکلا فرشتوں کو کیا مات آدمی نے قیامت کا یہ مشت خاک نکلا اڑا دی قید مذہب دل سے ہم نے قفس سے طائر‌ ادراک نکلا محبت سے کھلا حال زمانہ یہ دل لوح طلسم خاک نکلا نکل آئی فلک کی دور سے ...

مزید پڑھیے

قبر پر باد فنا آئیے گا

قبر پر باد فنا آئیے گا بے محل پاؤں نہ پھیلائیے گا لاکھ ہو وصل کا وعدہ لیکن وقت پر صاف نکل جائیے گا جائیں دم بھر کو تو فرماتے ہیں چھاؤنی تو نہ کہیں چھائیے گا سر ہوئے اس کے ملمع سے نہ آپ زلف مشکیں سے خطا پائیے گا نہ کریں آپ وفا ہم کو کیا بے وفا آپ ہی کہلائیے گا اٹھ گیا دل سے دوئی ...

مزید پڑھیے

عشق کا اختتام کرتے ہیں

عشق کا اختتام کرتے ہیں دل کا قصہ تمام کرتے ہیں قہر ہے قتل عام کرتے ہیں ترک ترکی تمام کرتے ہیں طاق ابرو سے ان کے در گزرے ہم یہیں سے سلام کرتے ہیں شیخ اس سے پناہ مانگتے ہیں برہمن رام رام کرتے ہیں جوہری پر ترے در دنداں آب و دانہ حرام کرتے ہیں خط قسمت پڑھا نہیں جاتا صرف منطق تمام ...

مزید پڑھیے

باغ عالم میں ہے بے رنگ بیان واعظ

باغ عالم میں ہے بے رنگ بیان واعظ صورت برگ خزانی ہے زبان واعظ مصر میں بھی نہ یہ فرعون کا عالم ہوگا دیکھے مسجد میں کوئی شوکت و شان واعظ ایک کانٹا سا نکل جائے ہمارے دل سے سنسیوں سے کوئی کھینچے جو زبان واعظ قلقل‌ شیشۂ مے سے ترے میکش ساقی سن رہے ہیں خبر راز نہان واعظ حال معلوم ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 411 سے 6203