قومی زبان

ورق ورق جو زمانے کے شاہکار میں تھا

ورق ورق جو زمانے کے شاہکار میں تھا وہ زندگی کا صحیفہ بھی انتشار میں تھا جسے میں ڈھونڈ رہا تھا نوائے بلبل میں وہ نغمہ پیرہن گل کے تار تار میں تھا میں قتل ہو کے زمانے میں سرفراز رہا کہ میری جیت کا پہلو بھی میری ہار میں تھا کلیجے سارے درختوں کے سہمے جاتے تھے ہوا کا رخ تھا بھلا کس ...

مزید پڑھیے

میں اک مسافر تنہا مرا سفر تنہا

میں اک مسافر تنہا مرا سفر تنہا دیار غیر میں پھرتا ہوں در بدر تنہا مرے خلاف تمام آندھیاں زمانے کی میں اک چراغ صداقت کی راہ پر تنہا ہے ایک بھیڑ مگر کوئی بھی رفیق نہیں میں سوچتا ہوں کہ میں بھی ہوں کس قدر تنہا نہ مٹے مٹ سکیں تنہائیاں مقدر کی کہ رہ کے باغ میں بھی ہے شجر شجر تنہا ترے ...

مزید پڑھیے

جفائے دل شکن

یہ نئی ہے گردش چرخ کہن دشمن جاں ہے جفائے دل شکن وہ بلا آئی گئی ہے دل پہ بن اب نہیں ہے ہائے جائے دم زدن پا برہنہ گھر سے نکلے مرد و زن لوگ دہلی کے ہیں سارے نعرہ زن پہلے محشر سے قیامت آ گئی حشر کے سر پر مصیبت آ گئی لب پہ گردوں کے شکایت آ گئی جان پر افسوس آفت آ گئی پا برہنہ گھر سے نکلے ...

مزید پڑھیے

یہاں مصروف ہو کر بھی رہا بے کار اتنا ہی

یہاں مصروف ہو کر بھی رہا بے کار اتنا ہی نہ کوئی عشق تھا ایسا مگر میں خار اتنا ہی بچھڑنے پر تلا جب وہ سنی کوئی نہیں اس نے کہ آخر سارے میں تھا میں بھی حصے دار اتنا ہی بظاہر تو یہی لگتا ہے سب آسان ہی ہوگا حقیقت میں مگر یہ کام ہے دشوار اتنا ہی اب اس نے کوئی لکھ کر تو نہیں دینی ہمیں یہ ...

مزید پڑھیے

سب سے الگ ہوں لیکن اکیلا نہیں بنا

سب سے الگ ہوں لیکن اکیلا نہیں بنا اوروں سا ہو کے بھی کسی جیسا نہیں بنا دنیا بھی وہ نہیں بنی جو ہونی چاہیے سو کیا ہوا اگر وہ ہمارا نہیں بنا سب فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہوتے ہیں میں جان بوجھ کر بہت اچھا نہیں بنا وہ بن گیا جو بننا نہیں چاہتا تھا میں خواہش تھی جیسا بننے کی ویسا نہیں ...

مزید پڑھیے

آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہے

آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہے صورت غیر کہاں ہے یہ خیال اپنا ہے بس کہ ہوں ہیچ مداں اس پہ میں کرتا ہوں گھمنڈ بے کمالی میں مجھے اپنی کمال اپنا ہے نالہ و آہ ہے یا گریہ و زاری ہے یہاں پوچھتے کیا ہو جو کچھ ہجر میں حال اپنا ہے طالب اک بوسے کا ہوں دیتے ہو کیا صاف جواب کچھ بہت بھی ...

مزید پڑھیے

ٹک دیکھیو یہ ابروئے خم دار وہی ہے

ٹک دیکھیو یہ ابروئے خم دار وہی ہے کشتہ ہوں میں جس کا سو یہ تروار وہی ہے منصور سا کوئی نہ ہوا خلق جہاں میں اس مملکت فقر کا سردار وہی ہے پوچھا جو میں اس سے کہ حضورؔ ایسا کوئی اور گاہک بھی ہے یا ایک خریدار وہی ہے اتنی جو اذیت اسے دیتا ہے تو ہر دم کیا قابل جور و ستم اے یار وہی ...

مزید پڑھیے

بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہوا

بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہوا آپ ہی جب رہے نہیں نام رہا تو کیا ہوا چشم سے کیا ہے فائدہ دل میں نہ ہو جو ذوق دید شیشے میں مے نہ جب رہے جام رہا تو کیا ہوا ہم سے غریب بھی بھلا مجرے کے باریاب ہوں اذن تیرا کبھی کبھی عام رہا تو کیا ہوا غیر وفا میں پختہ ہیں یوں ہی سہی پہ مجھ سا ...

مزید پڑھیے

یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا

یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا دیکھا تو صرف نام ہے بیت الحرام کا معنی میں لفظ ایک ہے یہ رب و رام کا حاصل یہ ہے کہ ہے وہی حاصل کلام کا دیکھا تو سب حقیقت و معنی میں ایک ہیں صورت میں گرچہ فرق ہے آپس میں نام کا اس لا مکاں کا کوئی معین نہیں مکاں گر ہے تو دل ٹھکانا ہے اس کے مقام ...

مزید پڑھیے

غیر آئے پیچھے پا گئے مجرے کا بار پہلے

غیر آئے پیچھے پا گئے مجرے کا بار پہلے ہم آہ بیٹھے رہ گئے آئے ہزار پہلے میں عرض حال اس سے کیوں کر کروں مکرر کوئی بول بھی سکے ہے واں ایک بار پہلے گر جانتے کہ آخر خواہان جاں تو ہوگا دل دیتے پیچھے جی کو کرتے نثار پہلے جانا نہ تھا پریشاں کر دے گی تو وگرنہ ہم پیچ میں بھی آتے اے زلف یار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4093 سے 6203