ورق ورق جو زمانے کے شاہکار میں تھا
ورق ورق جو زمانے کے شاہکار میں تھا وہ زندگی کا صحیفہ بھی انتشار میں تھا جسے میں ڈھونڈ رہا تھا نوائے بلبل میں وہ نغمہ پیرہن گل کے تار تار میں تھا میں قتل ہو کے زمانے میں سرفراز رہا کہ میری جیت کا پہلو بھی میری ہار میں تھا کلیجے سارے درختوں کے سہمے جاتے تھے ہوا کا رخ تھا بھلا کس ...