قومی زبان

عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی

عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی مو سفید ہو گئے پر دل کی سیاسی نہ گئی جی میں ٹھانا تھا کہ ہم ہجر میں جینے کے نہیں مر گئے آہ یہ بات ہم سے نباہی نہ گئی عمر گئی ہجر میں دل کرتا ہے مذکور وصال بات اب تک یہی دیوانے کی واہی نہ گئی جی گوارا نہیں کرتا کہ کروں منت خلق ہو گئے گرچہ گدا دل سے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کا خدا ہی ہے یہ آنسو کی ہے گر موج

آنکھوں کا خدا ہی ہے یہ آنسو کی ہے گر موج کشتی بچے کیوں کر جو رہے آٹھ پہر موج اے بحر نہ تو اتنا امنڈ چل مرے آگے رو رو کے ڈبا دوں گا کبھی آ گئی گر موج پہنچا نہیں گر تیرا قدم تا لب دریا ساحل سے پٹک سر کو ہے کیوں خاک بہ سر موج گر عالم آب اس کا کمیں گاہ نہیں ہے کیوں طائر بسمل کی طرح مارے ...

مزید پڑھیے

شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایا

شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایا مگر اک نخل آہ اس میں نہ ہم نے کچھ اثر پایا برا تو مانتے ہیں میرے رو رو عرض کرنے پر بھلا تم نے کبھی کچھ ہنس کے میرے حق میں فرمایا جہاں اک ہستیٔ بے بود ہے جیوں عکس آئینہ جو ہم نے غور کر دیکھا تو دھوکا ہی نظر آیا

مزید پڑھیے

اس شوخ سے کیا کیجئے اظہار تمنا

اس شوخ سے کیا کیجئے اظہار تمنا یہ لوگ کوئی سنتے ہیں گفتار تمنا اک آرزو سب لے گئے ساتھ اپنے جہاں سے انجام کسو سے نہ ہوا کار تمنا یہ خوبیٔ قسمت کہ ملے باغ جہاں سے سب کو گل امید و ہمیں خار تمنا حسرت سے بھرا دل مرے پہلو میں نہیں ہے پھرتا ہوں بغل میں لیے طومار تمنا پہلو کو مرے باغ ...

مزید پڑھیے

طوفان سمندر کے نہ دریا کے بھنور دیکھ

طوفان سمندر کے نہ دریا کے بھنور دیکھ ساحل کی تمنا ہے تو موجوں کا سفر دیکھ خوشیوں کا خزینہ تہہ دامان الم ہے گزرے شب تاریک تو پھر نور سحر دیکھ اڑ جانا فلک تک کوئی مشکل نہیں لیکن سورج کے تمازت سے جھلس جائیں نہ پر دیکھ معراج ہے معراج ترے ذوق نظر کی ہر منظر دل کش یہی کہتا ہے ادھر ...

مزید پڑھیے

بے خبر کیسے ہو رہے ہو تم

بے خبر کیسے ہو رہے ہو تم جاگتے ہو کہ سو رہے ہو تم کس لئے میرے ناخدا بن کر میری کشتی ڈبو رہے ہو تم میری قسمت کو میٹ کر خود ہی میری قسمت پہ رو رہے ہو تم مجھ سے میرا ہی تذکرہ کر کے دل میں کانٹے چبھو رہے ہو تم خون کر کے مری تمنا کا داغ دامن کے دھو رہے ہو تم میری ہر بات کی نفی کر ...

مزید پڑھیے

توڑ کر شیشۂ دل کو مرے برباد نہ کر

توڑ کر شیشۂ دل کو مرے برباد نہ کر اس طرح مجھ پہ ستم اے ستم ایجاد نہ کر یہ نگہ لطف کی ہے اس سے نہ کر قتل مجھے چشم جاں بخش کو یوں خنجر جلاد نہ کر روئے روشن کی کبھی دید مجھے بھی دیدے رہ کے پوشیدہ مجھے مضطر و ناشاد نہ کر تیرے ہی دل کا اگر گوشہ قفس ہے صیاد پھر تو ہرگز مجھے اس قید سے آزاد ...

مزید پڑھیے

جس طرف بھی دیکھیے سایہ نہیں

جس طرف بھی دیکھیے سایہ نہیں پھر بھی گلشن ہے کوئی صحرا نہیں لوگ بیٹھے ہیں اسی کی چھاؤں میں سائے سے جس پیڑ کا رشتہ نہیں کام اگر آئے نگاہ حق شناس پھر کسی پہلو کوئی دھوکا نہیں حق پسند میرا دستور عمل یعنی بک جانا مرا شیوہ نہیں دوستو رکھو حقیقت پر نظر خواب آنکھوں میں کبھی پلتا ...

مزید پڑھیے

اہل فن کا زوال

شعر خوانی سے قبل شعراء حضرات کرسیوں پر بیٹھے تھے ۔ مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے یہ فیصلہ ہوا کہ فرشی نشست ہو۔ چنانچہ گوپی ناتھ امن نے شعراء کو کرسیوں پر سے فرش پر بلاتے ہوئے کہا: ’’حضرات! اب اہل فن کا زوال ہورہا ہے ۔‘‘

مزید پڑھیے

جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی

جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی کافر ہو جس کے دل میں ہو ارمان زندگی حسرت وصال کی ہے گلو گیر ہجر میں ورنہ ابھی میں پھاڑوں گریبان زندگی مرتا جو ہجر میں تو نہ ملتا میں یار سے مجھ پر حضورؔ بس کہ ہے احسان زندگی

مزید پڑھیے
صفحہ 4094 سے 6203